مقبوضہ کشمیر، سول سوسائٹی کا اوپن میرٹ کی بحالی پر زور
اشاعت کی تاریخ: 1st, January 2026 GMT
ذرائع کے مطابق سول سوسائٹی جموں و کشمیر کے ارکان نے سرینگر سے جاری ایک بیان میں حکام پر زور دیا کہ وہ اوپن میرٹ کو بحال کریں۔ اسلام ٹائمز۔ بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں سول سوسائٹی نے موجودہ ریزرویشن پالیسی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اوپن میرٹ کی بحالی پر زور دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق سول سوسائٹی جموں و کشمیر کے ارکان نے سرینگر سے جاری ایک بیان میں حکام پر زور دیا کہ وہ اوپن میرٹ کو بحال کریں۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کی بھارتی حکومت کی موجودہ ریزرویشن پالیسی نے علاقے میں ہونہار طلباء اور ملازمت کے خواہشمندوں کے خواب چکنا چور کر دیے ہیں اور وہ اپنے مستقبل کو تاریک سمجھتے ہیں۔ سول سوسائٹی کے ارکان نے لائق طلباء کے مستقبل کو محفوظ بنانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ تعلیم اور روزگار میں انصاف اور مساوات کو یقینی بنانے کے لیے اوپن میرٹ کو بحال کیا جانا چاہیے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: سول سوسائٹی اوپن میرٹ
پڑھیں:
کراچی: لی مارکیٹ کی بحالی کے دوران آثارِ قدیمہ کی موجودگی کا انکشاف
— تصویر بشکریہ سوشل میڈیاکراچی کے علاقے اولڈ سٹی ایریا لی مارکیٹ کی بحالی کے دوران آثارِ قدیمہ کی موجودگی کا انکشاف ہوا ہے۔
اس حوالے سے میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے کہا ہے کہ لی مارکیٹ کی بحالی کے دوران 2 قدیم طرز کے مجسمے برآمد ہوئے ہیں، ملنے والی اشیاء کی ماہرینِ آثارِ قدیمہ سے جانچ کرائی جائے گی۔
مرتضیٰ وہاب نے کہا ہے کہ برآمد ہونے والے مجسموں کی عمر اور تاریخی اہمیت کا تعین ماہرین کریں گے، تاریخی ورثے کے تحفظ کے لیے برآمد اشیاء کی مکمل دستاویزات اور ریکارڈ مرتب کیا جائے گا۔
پاکستان اور فرانس کے درمیان آثار قدیمہ کے میدان میں تعاون ایک نئے سنگِ میل کی جانب بڑھ رہا ہے۔ سائنسی تعاون کے اتاشی نے کراچی میں انڈس بیسن (MAFBI) میں فرانسیسی مشن کے سربراہ ڈاکٹر اورور ڈیڈیئر سے ملاقات کی اور سندھ میں 2025 کے مشترکہ فیلڈ ورک سیزن کی تیاریوں کا جائزہ لیا۔
انہوں نے کہا ہے کہ لی مارکیٹ کی بحالی کے دوران دریافت ہونے والی اشیاء کو محفوظ کر لیا گیا ہے، کے ایم سی شہر کے تاریخی ورثے کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے۔
مرتضیٰ وہاب نے یہ بھی کہا ہے کہ لی مارکیٹ سے ملنے والی اشیاء کا سائنسی معائنہ کرایا جائے گا، تاریخی نوعیت کی دریافت پر مزید کھدائی احتیاط سے کی جا رہی ہے۔