فرانس کی فضاؤں میں مصری رافیل طیاروں کی پہلی پرواز، اسرائیل کیوں پریشان؟
اشاعت کی تاریخ: 1st, January 2026 GMT
اسرائیلی ویب سائٹس اور اخبارات نے فرانس کی فضاؤں میں مصر کے جدید ترین رافیل لڑاکا طیارے کی پہلی پرواز کو خطے کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دیا ہے۔
اسرائیلی فوجی امور کی ویب سائٹ ’’ناتسیف نیٹ‘‘ کے مطابق رافیل F4.1 ماڈل کا یہ طیارہ حالیہ مصری دفاعی معاہدے کے تحت تیار کیا گیا اور آزمائشی پروازوں کے دوران فرانس کے ’’ایسٹر‘‘ ایئر بیس پر دیکھا گیا۔
رپورٹس کے مطابق یہ دو نشستوں والا طیارہ 30 جدید رافیل طیاروں کی اس نئی کھیپ کا پہلا یونٹ ہے جس کا معاہدہ مصر نے مئی 2021 میں کیا تھا۔ اس معاہدے کے بعد مصری فضائیہ کے پاس رافیل طیاروں کی مجموعی تعداد 54 ہو جائے گی۔ اسرائیلی تجزیہ کاروں کے مطابق یہ طیارہ مشرق وسطیٰ میں فضائی طاقت کے توازن میں نمایاں تبدیلی کا باعث بن سکتا ہے۔
اسرائیلی دفاعی ویب سائٹ ’’اسرائیل ڈیفنس‘‘ کا کہنا ہے کہ رافیل F4.
پاکستان نے فضائی جنگ میں بھارت کے کتنے رافیل طیارے گرائے؟ عالمی تحقیقاتی رپورٹ میں تازہ انکشافات
رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ مصری پائلٹس ’’سکورپین سمارٹ ہیلمٹ‘‘ استعمال کریں گے، جس کے ذریعے پائلٹ صرف ہدف کی طرف دیکھ کر میزائل فائر کر سکتا ہے۔ یہ خصوصیت قریبی اور طویل فاصلے کی فضائی لڑائی میں طیارے کو غیر معمولی برتری فراہم کرتی ہے۔
اسلحے کے لحاظ سے رافیل F4.1 بھاری اور جدید ہتھیار لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے، جن میں 1000 کلوگرام وزنی ’’ہیمر‘‘ بم، جدید ’’میکا‘‘ میزائل اور طویل فاصلے تک مار کرنے والے ’’میٹیور‘‘ میزائل شامل ہیں۔ اسرائیلی میڈیا کے مطابق یہ صلاحیتیں خطے میں اسرائیل کے لیے مستقل تشویش کا باعث بن سکتی ہیں۔
مزید بتایا گیا کہ رافیل میں نصب ’’سپیکٹرا‘‘ الیکٹرانک دفاعی نظام اسے جدید ریڈاروں سے بچنے اور چکمہ دینے کی صلاحیت دیتا ہے، جس سے یہ ایک سیمی اسٹیلتھ طیارہ بن جاتا ہے۔ اسرائیلی رپورٹس کے مطابق یہ تمام خصوصیات مصر کو بحیرہ روم اور ہارن آف افریقہ سمیت سرحدوں سے باہر بھی مؤثر فضائی کارروائی کی صلاحیت فراہم کرتی ہیں۔
اسرائیلی ویب سائٹس نے اس پیش رفت کو مصر کی بدلتی ہوئی دفاعی پالیسی کا تسلسل قرار دیا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب قاہرہ چینی ساختہ J-10C لڑاکا طیارے بھی حاصل کر رہا ہے، جو خطے میں فضائی طاقت کے توازن کو مزید متاثر کر سکتے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کے مطابق یہ
پڑھیں:
پاکستان کی لبنان پر اسرائیلی حملوں کی مذمت
پاکستان نے لبنان پر اسرائیلی حملوں کی مذمت کی ہے۔ مستقل مندوب عاصم افتخار نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے خطاب میں کہا کہ لبنان پر اسرائیل کے حملے عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہیں۔
عاصم افتخار نے کہا کہ اسرائیل حملے خطے میں امن کی کوششوں کو متاثر کررہے ہیں۔ پائیدار امن صرف بات چیت سے ہی ممکن ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان لبنان کی حکومت اور عوام سے یکجہتی کا اظہار کرتا ہے۔
اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب نے مزید کہا کہ پاکستان تناؤ میں کمی کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھے گا۔