2025 میں کتنے پاکستانیوں نے پاسپورٹس بنوائے؟
اشاعت کی تاریخ: 1st, January 2026 GMT
سال 2025 کے اختتام پر ڈائریکٹوریٹ آف پاسپورٹس اینڈ امیگریشن کی سالانہ کارکردگی رپورٹ جاری کردی گئی ہے۔
2025 وزیراعظم و وزیر داخلہ کی ہدایت پر ڈی جی پاسپورٹس کی جانب سے انقلابی اقدامات کا سال رہا ہے۔ سالانہ رپورٹ میں بتایا گیا کہ سال 2025 کے دوران جدید پرنٹرز کی انسٹالیشن سے پاسپورٹس بیک لاگ کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ کیا گیا۔
شہریوں کی سہولت کے لئے تاریخ میں پہلی بار 24/7 پاسپورٹس پراسسنگ و ڈلیوری سروس کا آغاز کیا گیا، پاسپورٹ ہیڈ کوارٹرز سمیت دیگر دفاتر کی تزئین و آرائش کو مکمل کیا گیا۔ اوورسیز پاکستانیوں کے لیے مختلف ممالک میں پاکستانی سفارتخانوں میں ون ونڈو سروس کا آغاز کیا گیا۔
مزید برآں شہریوں کے لیے جدید ای پاسپورٹس اور سیکورٹی فیچرز سے بھرپور نئی پاسپورٹ بک لیٹ تیار کی گئی۔ شہریوں کی سہولت کے لیے مزید پاسپورٹ دفاتر اور کاؤنٹرز بھی قائم کیے گئے۔
گزشتہ ایک سال کے دوران مجموعی طور پر 55 لاکھ 72 ہزار 13 شہریوں نے پاسپورٹس بنوائے جبکہ سال 2025 کے دوران نارمل کیٹگری میں 32 لاکھ 75 ہزار 263 ایم آر پی پاسپورٹس کا اجراء کیا گیا۔
ارجنٹ کیٹگری میں 18 لاکھ 39 ہزار 487 جبکہ 2 لاکھ 76 ہزار 789 پاسپورٹس کا اجراء فاسٹ ٹریک کے تحت کیا گیا۔ سال 2025 کے دوران شہریوں کی جانب سے جدید ای پاسپورٹس بنوانے کے رجحان میں بھی تیزی دیکھی گئی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: سال 2025 کے کے دوران کیا گیا کے لیے
پڑھیں:
شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
کراچی میں شارع فیصل پر ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانے کے لیے ٹریفک لین کی پاسداری کرانے کے لیے قوانین پر سختی عملدرآمد کیا جارہا ہے۔
ٹریفک لین کی خلاف ورزی پر 24 گھنٹوں کے دوران 96 چالان جاری کیے گئے ہیں۔
کراچی میں ٹریفک جام اور حادثات کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیچھے کئی وجوہات ہیں، لیکن ایک بڑی وجہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی ہے۔
شہر کی سڑکوں پر مختلف گاڑیوں کے لیے مخصوص لینز تو موجود ہیں، اور زیادہ تر شہری اس بات سے واقف بھی ہیں کہ کون سی لین کس قسم کی گاڑی کے لیے مختص ہے، مگر وقت بچانے اور جلد منزل تک پہنچنے کی دوڑ میں اکثر لوگ ان اصولوں کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔
ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کو روکنے اور سڑکوں پر نظم و ضبط بہتر بنانے کے لیے ٹریفک پولیس نے پہلے ہی ای-ٹکٹنگ سسٹم نافذ کیا ہوا ہے، لیکن اب شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو خودکار طریقے سے جرمانے جاری کیے جائیں گے۔
ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ کے مطابق ٹریفک جام کی صورت میں شہریوں کو لین تبدیل کرنے کی رعایت ہے، لیکن سست ٹریفک پر شہریوں کو مقررہ لین میں ہی رہنا ہوگا اور ہیوی بائیک رائڈرز بھی لین کی خلاف ورزی کریں گے تو چالان ہوگا۔
دوسری جانب شہریوں نے اس اقدام کو ٹریفک نظم و ضبط کی جانب ایک مثبت پیشرفت قرار دیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ قوانین پر مؤثر عملدرآمد کے ساتھ ساتھ عوامی آگاہی بھی انتہائی ضروری ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ نئے نظام اور لین ڈسپلن کے اصولوں سے واقف ہو سکیں۔
قانون تو موجود ہے، اب اصل امتحان اس پر عملدرآمد اور شہریوں کے تعاون کا ہے۔ اگر دونوں ساتھ چلیں تو شاید کراچی کی سڑکیں زیادہ محفوظ اور منظم بن سکیں۔