بھارتی شہروں میں کشمیریوں کو ہراساں کرنے کا سلسلہ جاری
اشاعت کی تاریخ: 1st, January 2026 GMT
ذرائع کے مطابق تازہ واقعہ ریاست ہریانہ کے ضلع فتح آباد میں پیش آیا ہے جہاں ایک کشمیری شال فروش پر حملہ کیا گیا اور اسے ہندو نعرے لگانے پر مجبور کیا گیا۔ اسلام ٹائمز۔ بھارت کے مختلف شہروں میں ہندو انتہا پسندوں کی طرف سے کشمیری طلباء، تاجروں کو ہراساں کیے جانے اور ڈرانے دھمکانے کی کارروائیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ ابتر صورتحال کی وجہ سے بہت سے کشمیری طلباء اور تاجر واپس مقبوضہ جموں و کشمیر لوٹنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔ ذرائع کے مطابق تازہ واقعہ ریاست ہریانہ کے ضلع فتح آباد میں پیش آیا ہے جہاں ایک کشمیری شال فروش پر حملہ کیا گیا اور اسے ہندو نعرے لگانے پر مجبور کیا گیا۔ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ایک ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک ہندوتوا غنڈہ کشمیری نوجوان کو دھمکیاں دے رہا ہے اور اسے ”وندے ماترم“ کا نعرہ لگانے پر مجبور کر رہا ہے۔ جب کشمیری دکاندار نے مذکورہ نعرہ لگانے سے انکار کیا تو اسے مار پیٹ کا نشانہ بنایا گیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کیا گیا
پڑھیں:
ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار
اسلام آباد: ویپنگ کے نقصانات سے متعلق سامنے آنے والی نئی تحقیق نے ای سگریٹ استعمال کرنے والوں کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ ویپنگ کو عام سگریٹ کا محفوظ متبادل سمجھنا ایک غلط فہمی ہے، کیونکہ اس کے استعمال سے بھی انسانی صحت پر سنگین منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
تحقیقی رپورٹ کے مطابق ویپ استعمال کرنے والے افراد کے منہ اور پھیپھڑوں کے خلیوں میں ڈی این اے کو نقصان پہنچنے کے شواہد ملے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ڈی این اے میں خرابی مختلف بیماریوں، خصوصاً کینسر کے خطرات میں اضافے کا باعث بن سکتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ ویپ میں روایتی تمباکو موجود نہیں ہوتا، لیکن اس میں شامل مختلف کیمیکلز اور فلیورز انسانی خلیوں پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔ تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ پوڈ سسٹم پر مبنی ویپ استعمال کرنے والے افراد میں خلیاتی نقصان نسبتاً زیادہ دیکھا گیا۔
سائنس دانوں کے مطابق ویپنگ اور روایتی سگریٹ نوشی کا طریقہ کار مختلف ضرور ہے، تاہم دونوں صورتوں میں جسم کو نقصان پہنچنے کا خطرہ موجود رہتا ہے۔ بعض مطالعات میں ویپ استعمال کرنے والوں کے خلیوں میں ہونے والے ڈی این اے نقصان کی سطح سگریٹ نوش افراد کے قریب پائی گئی۔
ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ نوجوانوں میں ویپنگ کا بڑھتا ہوا رجحان مستقبل میں صحت عامہ کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ای سگریٹ کو محفوظ متبادل سمجھ کر استعمال کرنے کے بجائے اس سے مکمل اجتناب اختیار کرنا زیادہ بہتر ہے۔
ماہرین نے عوام کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ویپنگ کے نقصانات کو سنجیدگی سے لیں اور اپنی صحت کے تحفظ کے لیے ایسی تمام مصنوعات سے حتیٰ الامکان دور رہیں، کیونکہ نئی سائنسی تحقیقات کے نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ویپنگ بھی انسانی جسم کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔