میٹا نے آرٹیفیشل انٹیلی جنس اسٹارٹ اپ Manus خرید لیا
اشاعت کی تاریخ: 1st, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
فیس بک اور انسٹاگرام کی مالک کمپنی میٹا نے سنگاپور کے اے آئی اسٹارٹ اپ Manus کو خریدنے کا اعلان کیا ہے۔
کمپنی کا کہنا ہے کہ یہ قدم میٹا کے تمام پلیٹ فارمز پر مصنوعی ذہانت کی صلاحیتوں کو مزید بڑھانے کی سمت میں اٹھایا گیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق یہ ڈیل دو ارب ڈالر سے زائد میں طے پائی ہے، حالانکہ میٹا اس وقت معاشی طور پر مشکلات کا سامنا کر رہی ہے۔ Manus نے اس سال کے شروع میں اپنا پہلا “عام استعمال” اے آئی ایجنٹ متعارف کروایا تھا، جسے صارفین تحقیق، کوڈنگ اور دیگر متعدد کاموں کے لیے سبسکرپشن کے ذریعے استعمال کر سکتے ہیں۔
میٹا کے بیان میں کہا گیا ہے کہ Manus روزانہ عالمی سطح پر لاکھوں صارفین کی ضروریات پوری کر رہا ہے، اور اب میٹا اس ٹیکنالوجی کو اپنے پلیٹ فارمز میں مربوط کر کے صارفین کو زیادہ جدید اور انٹیلیجنٹ تجربات فراہم کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
بجلی صارفین کے لیے ایک اور جھٹکا، فی یونٹ نرخ بڑھنے کا امکان
اسلام آباد: بجلی کی قیمت میں اضافہ ایک بار پھر زیر غور آ گیا ہے، کیونکہ اپریل 2026 کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست نیپرا میں جمع کرا دی گئی ہے۔
نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) میں ہونے والی سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے دوران خطے میں جاری کشیدگی اور جنگی صورتحال کے باعث توانائی کے شعبے کو متعدد چیلنجز کا سامنا رہا، جس کے اثرات بجلی کی پیداوار پر بھی مرتب ہوئے۔
سی پی پی اے کے مطابق اپریل میں درآمدی ایل این جی کی دستیابی نہ ہونے کے برابر تھی، تاہم مئی کے آغاز میں ایل این جی کے معاہدہ شدہ اور اسپاٹ کارگوز موصول ہونے کے بعد ایل این جی سے چلنے والے بجلی گھروں کو دوبارہ فعال کیا گیا، جس سے نظام میں بہتری آئی۔
حکام نے نیپرا کو آگاہ کیا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تقریباً تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ آئندہ دو ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر منصوبہ بندی مکمل کر لی گئی ہے تاکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار میں کسی قسم کی رکاوٹ پیدا نہ ہو۔
سی پی پی اے حکام کا کہنا ہے کہ اگرچہ بجلی کی قیمت میں اضافہ تجویز کیا گیا ہے، تاہم مئی، جون اور جولائی کی فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو بڑے اضافی بوجھ کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ضروری انتظامات اور ایندھن کی دستیابی کو یقینی بنایا جا چکا ہے۔
اب نیپرا درخواست پر تمام فریقین کا مؤقف سننے کے بعد حتمی فیصلہ جاری کرے گا، جس کے بعد یہ طے ہوگا کہ صارفین کو بجلی کے بلوں میں کتنا اضافی بوجھ برداشت کرنا پڑے گا۔