چینی کمپنی نے افریقہ کی پہلی صحرائی ہیوی ہال ریل وے کا ٹریک مکمل کر لیا
اشاعت کی تاریخ: 1st, January 2026 GMT
چین کی ریلوے کنسٹرکشن کمپنی (CRCC) نے الجزائر میں 575 کلومیٹر طویل ویسٹرن مائننگ ریل وے کا مکمل ٹریک نصب کرنے کا اعلان کیا، جو افریقہ کی پہلی صحرائی ہیوی ہال ریل وے ہے۔ یہ منصوبہ چینی اور الجزائری کمپنیوں کی مشترکہ کاوش سے تین ماہ قبل مکمل ہوا۔
رپورٹ کے مطابق ریل وے کی تعمیر کے دوران صحرا کے سخت حالات میں 1.
یہ بھی پڑھیں:امریکی اقدامات کے جواب میں افریقہ کے 2 ممالک کی جانب سے جوابی پابندیوں کا اعلان
ویسٹرن مائننگ ریل وے بیلٹ اینڈ روڈ پروجیکٹ کا حصہ ہے اور اس کا مقصد جنوب مغربی الجزائر کے معدنیات، صنعتی زونز اور بندرگاہوں کو مربوط کرنا ہے، جس سے علاقائی اقتصادی ترقی اور نقل و حمل کے روابط میں بہتری کی توقع ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
الجزائر چین صحرا ویسٹرن مائننگ ریل وے
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: الجزائر چین ویسٹرن مائننگ ریل وے ریل وے
پڑھیں:
کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
نجی کارگو ایئرلائن کے ٹو ایئرویز کے حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ حادثے کی وجوہات جاننے کے منتظر ہیں۔ انہوں نے نجی کارگو کمپنی کے مالکان کی جانب سے عدم تعاون کی شکایت بھی کی ہے، متاثرین کیلئے اب تک کسی معاوضہ کا اعلان بھی نہیں ہوا۔
7 جولائی کو شارجہ سے کراچی آنے والا نجی کارگو کمپنی کے ٹو ایئرویز کا بوئنگ 737 طیارہ بلوچستان کے ساحل سے آگے گہرے سمندر میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ حادثے کے مقام سے طیارے کا کچھ ملبہ ضرور ملا ہے لیکن سمندر کی تہہ میں پہنچ جانے والے طیارے کے بلیک باکس، کاکپٹ اور عملے کا تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ متاثرین کا مطالبہ ہے کہ اس کام کیلئے غیر ملکی ماہر کمپنیوں سے مدد لی جائے۔
نجی کارگو طیارے کا ملبا تفتیشی ٹیم کے سپرد، بلیک باکس، عملے کے 5 ارکان کی تلاش جاریترجمان پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی (پی اے اے) کے مطابق کارگو طیارے کے مزید ملبے اور عملےکی تلاش گہرے سمندر میں جاری ہے حادثے کے شکار طیارے کے مزید پرزے اور ملبہ سمندر سے برآمد کر لیا گیا۔
شہید کپٹن رضوان کے اہل خانہ نے عملے اور طیارے کے ملبے کی تلاش کیلئے پاکستان نیوی اور دیگر اداروں پر اعتماد کا اظہار کیا لیکن کارگو کمپنی کی شدید بے حسی کی شکایت کی اور مطالبہ کیا کہ کے ٹو ایئرویز کے بیرون ملک موجود مالکان کو واپس لا کر تحقیقات میں شامل کیا جائے۔
متاثرین کے مطابق کے ٹو ایئرویز کی انتظامیہ کی بے حسی کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ملازمین کو 3 ماہ سے تنخواہیں نہیں ملی تھیں۔ یہ تنخواہ اس المناک حادثہ کے بعد ادا کی گئی۔
ایوی ایشن ماہرین کے مطابق بوئنگ 737 کارگو طیارے کا حادثہ کیوں اور کیسے پیش آیا، یہ اہل خانہ کو بتانا اور حادثہ متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی یقینی بنانا حکومت اور ریاست کی ذمہ داری ہے۔