دنیا میں نیا سال سب سے پہلے اور سب سے آخر میں کون مناتا ہے؟
اشاعت کی تاریخ: 1st, January 2026 GMT
ہر سال کے اختتام پر دنیا بھر کے لوگ نیا سال مناتے ہیں، لیکن بین الاقوامی تاریخ لائن (International Date Line) کی وجہ سے زمین پر سبھی آباد مقامات ایک ہی دن میں نئے سال میں داخل نہیں ہوتے۔ اس دلچسپ نظام کے تحت، کچھ جزائر اور ممالک نئے سال کا جشن سب سے پہلے مناتے ہیں، جبکہ دیگر سب سے آخر میں۔
یہ بھی پڑھیں:دعا ہے کہ نیا سال تحمل، اتحاد اور امید کی تجدید کا سال ہو، صدرِ مملکت کا سالِ نو کے موقع پر پیغام
2026 کے آغاز پر کرِٹیماتی جزیرہ (Kiribati) سب سے پہلے نیا سال منانے والا مقام تھا، جبکہ امریکی ساموا اور نیوے جزائر سب سے آخر میں نئے سال کا استقبال کرنے والے مقامات میں شامل ہیں۔
Welcoming in the New Year, Dubai style! ????????
The world's tallest tower.
— Emirates (@emirates) December 31, 2025
کرِٹیماتی جزیرہ، جو کراباتی کے 33 جزائر میں سے ایک ہے، نیا سال 2026 میں سب سے پہلے داخل ہوا۔ یہ جزیرہ تقریباً ہاورائی کے جنوب میں واقع ہے، لیکن 1995 میں کراباتی کے صدر نے بین الاقوامی تاریخ لائن کو اپنی سرزمین کے گرد منتقل کر دیا۔ اس سے پہلے جزائر کے مختلف حصے مختلف دن مناتے تھے، جس سے ملک میں وقت کی بے ربطی پیدا ہو گئی تھی۔
یہ بھی پڑھیں:سوئٹزرلینڈ کے کرانس مونٹانا میں نیو ایئر نائٹ پر دھماکا، متعدد ہلاک
صدر نے اس اقدام کا مقصد ملک کو متحد کرنا بتایا، لیکن نتیجتاً یہ فیصلہ تاریخی طور پر اہم ثابت ہوا کیونکہ کراباتی دنیا کے پہلے نیا سال منانے والے ملکوں میں شامل ہو گیا اور 2000 کے نئے صدی کے آغاز میں بھی سب سے آگے رہا۔
New Year 2026 celebration ???? Sydney, Australia.???????? pic.twitter.com/qhcYNYPQhu
— GLOBAL PULSE 360 (@DataIsKnowldge) December 31, 2025
کرِٹیماتی کے بعد ساموا اور ٹونگا نئے سال کا استقبال کرنے والے پہلے ممالک میں شامل ہیں۔ نیوزی لینڈ کا شہر آکلینڈ بھی بڑے شہروں میں سب سے پہلے نیا سال منانے کے لیے مشہور ہے۔
دوسری جانب دنیا کے آخری نئے سال منانے والے ممالک میں امریکی ساموا اور نیوے جزائر شامل ہیں، جو کراباتی کے جنوب مغرب میں واقع ہیں۔ جب یہ ممالک 2026 میں داخل ہوتے ہیں، تب تک دنیا کے بیشتر ممالک پہلے ہی نئے سال میں قدم رکھ چکے ہوتے ہیں۔ امریکی ساموا میں نیا سال یکم جنوری 2026 کو مقامی وقت کے مطابق صبح 6 بجے داخل ہوا۔
یہ دلچسپ صورتحال بین الاقوامی تاریخ لائن کے قوانین اور ممالک کی اپنی مرضی کے مطابق وقت کے انتخاب کی وجہ سے وجود میں آئی ہے۔ اس کی بدولت دنیا میں نئے سال کے جشن کا سلسلہ تقریباً 25 گھنٹے تک جاری رہتا ہے، جو عالمی وقت اور ثقافتی تنوع کی ایک مثال بھی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
سال 2026 سال نو نیو ایئر
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: سال 2026 سال نو نیو ایئر
پڑھیں:
حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
وفاقی وزیر اوورسیز پاکستانیز چوہدری سالک حسین نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج کا دن پاکستان میں لیبر مائیگریشن کے نظم و نسق کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم سنگ میل ہے۔ یہ پالیسی ہر اس پاکستانی سے کیے گئے قومی عزم کی عکاس ہے جو بہتر مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ محفوظ اور منظم نقل مکانی، مہارتوں کی ترقی، کارکنوں کا تحفظ، تارکینِ وطن کی شمولیت اور وطن واپس آنے والوں کی بحالی اس پالیسی کے بنیادی ستون ہیں۔ تکنیکی جدت، آبادیاتی تبدیلیاں اور لیبر مارکیٹ کے بدلتے ہوئے تقاضے دنیا بھر کی معیشتوں کو نئی شکل دے رہے ہیں. اس لیے پاکستان کو اپنی افرادی قوت کو آج اور مستقبل دونوں کے مواقع کے لیے تیار کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 اس سمت میں ایک اہم قدم اور پاکستان کی افرادی قوت کو مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں سنگ میل ثابت ہوگی۔چوہدری سالک حسین نے کہا کہ ایک کروڑ 20 لاکھ پاکستانی دنیا بھر میں مقیم ہیں اور اپنی پیشہ ورانہ مہارت، دیانت داری اور محنت کی بدولت پاکستان کے سفیر بن چکے ہیں۔ گزشتہ مالی سال میں سمندر پار پاکستانیوں نے 41 ارب امریکی ڈالر سے زائد کی ترسیلاتِ زر وطن بھیجیں، جو ملکی تاریخ کی بلند ترین رقم ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی کامیابی پاکستان کی کامیابی ہے اور ان کی فلاح و بہبود ہماری قومی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ پالیسی اداروں، تجربات اور شراکت داریوں کو ایک مشترکہ وژن کے تحت یکجا کرتی ہے تاکہ ہر پاکستانی کارکن نقل مکانی کے پورے سفر کے دوران بہتر طور پر تیار، محفوظ اور معاونت یافتہ ہو۔ اس پالیسی کا محور ہر اس پاکستانی کا سفر ہے جو مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے، جبکہ ذمہ داری روانگی سے پہلے ہی شروع ہو جاتی ہے، جہاں نوجوان کارکنوں کو متعلقہ مہارتیں، قابلِ اعتماد معلومات اور اخلاقی بھرتی تک رسائی فراہم کی جائے گی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ اس پالیسی کی کامیابی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، نفاذ کرنے والے اداروں، آجروں، تربیتی اداروں، ترقیاتی شراکت داروں، نجی شعبے اور سمندر پار پاکستانیوں کے باہمی تعاون سے مشروط ہے۔ انہوں نے صوبائی حکومتوں، آئی سی ایم پی ڈی (ICMPD)، دیگر ترقیاتی شراکت داروں اور تمام اسٹیک ہولڈرز کا مشاورتی عمل میں تعاون پر شکریہ ادا کیا، جبکہ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کی مسلسل معاونت کو بھی سراہا۔انہوں نے کہا کہ ہجرت یا نقل مکانی غیر یقینی کا سفر نہیں بلکہ مواقع، وقار اور قومی ترقی کا راستہ ہونا چاہیے۔ آئیں مل کر ایسا مستقبل بنائیں جہاں ہر پاکستانی اعتماد کے ساتھ بیرون ملک جائے، فخر کے ساتھ وطن واپس آئے اور ہمیشہ ایک ایسی قوم سے جڑا رہے جو اس کی خدمات کی قدر اور عزت کرتی ہو۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اس وژن کو عوام کے لیے بامعنی ترقی، پاکستان کے لیے دیرپا خوشحالی اور ہر سمندر پار پاکستانی اور اس کے خاندان کے روشن مستقبل کا ذریعہ بنائے۔