نیابتی قوت اور مزاحمتی قوت کے درمیان 10 بنیادی فرق
اشاعت کی تاریخ: 1st, January 2026 GMT
اسلام ٹائمز: محمد فرازمند نے مزید کہا کہ شہید سلیمانی کی برسی پر سب سے بہتر کام یہ ہے کہ ہم مزاحمت کے بیانیے کو مضبوط کریں اور جعلی روایات کا مؤثر جواب دیں۔ خطے کی حالیہ صورتحال پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گزشتہ دنوں ریاض، دوحہ اور مسقط سے ایسے بیانات سامنے آئے ہیں جو بے مثال ہیں۔ 2017 میں جب خلیجی ممالک نے قطر کا محاصرہ کیا اور یہ ملک ایران اور ترکیہ کی مدد سے بچ نکلا، اس کے بعد بہت سے لوگ منتظر تھے کہ امارات کوئی غلطی کرے تاکہ سعودی عرب اس کا جواب دے۔ کیونکہ حالیہ برسوں میں سعودی عرب، امارات کے القائی بیانیوں کے زیرِ اثر یمن کی جنگ، جمال خاشقجی کے معاملے اور دیگر کئی سنگین غلطیوں کا مرتکب ہوا۔ خصوصی رپورٹ:
ایران کے سابق سفیر اور سینئر سفارت کار نے نیابتی قوت اور مزاحمتی قوت کے درمیان فرق کی وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ حزب اللہ نیابتی نہیں بلکہ ایک حقیقی مزاحمتی قوت ہے۔ خبر رساں ادارے تسنیم کے بین الاقوامی گروپ کے نمائندے کے مطابق، شہید سردار قاسم سلیمانی کی برسی کی مناسبت سے منعقدہ ایک تقریب بدھ کی شام تہران میں واقع شہید آوینی فیکلٹی میں منعقد ہوئی۔
اس نشست سے خطاب کرتے ہوئے ایران کے سابق سفیر برائے ترکیہ اور سابق سفارت کار محمد فرازمند نے 12 روزہ جنگ اور محورِ مزاحمت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 12 روزہ جنگ کے بعد ہم خطے میں ایک منظم بیانیہ سازی کا مشاہدہ کر رہے ہیں، جس کے تحت یہ تاثر دینے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ محورِ مزاحمت اور ایران کی دفاعی صلاحیت کمزور ہو چکی ہے اور امریکہ و صہیونی رژیم جب چاہیں ایران پر حملہ کر سکتے ہیں۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ محورِ مزاحمت اور نیابتی قوت میں اصل فرق کیا ہے، اور کہا کہ انہوں نے یہ بات رائج کرنے کی کوشش کی کہ حزب اللہ، الحشد الشعبی اور انصاراللہ ہماری نیابتی قوتیں ہیں، حالانکہ یہ درست نہیں۔ یہ نیابتی نہیں بلکہ مزاحمتی قوتیں ہیں۔ اس سابق سفارت کار نے نیابتی قوت اور مزاحمتی قوت کے درمیان فرق بیان کرتے ہوئے کہا کہ ان دونوں کے درمیان کم از کم 10 بنیادی اختلافات پائے جاتے ہیں:
1۔ مزاحمتی قوت کا بنیادی ہدف صہیونی قبضے اور امریکہ کے علاقائی منصوبے کے خلاف مزاحمت ہے، جبکہ نیابتی قوت کا ایسا کوئی مقصد نہیں ہوتا۔
2۔ مزاحمتی قوت کرائے کی نہیں ہوتی؛ اسلامی جمہوریہ ایران کو بھی کرائے کے جنگجو تیار کرنے کی ضرورت نہیں۔ کرائے کے جنگجو، جیسے ویگنر گروپ، صرف پیسے کے لیے لڑتے ہیں۔
3۔ مزاحمتی قوت عدل، حق طلبی اور تسلط کے انکار پر مبنی بیانیہ رکھتی ہے۔
4۔ مزاحمتی قوت نظریاتی اور آرمان پسند ہوتی ہے، جبکہ نیابتی قوتیں جیسے داعش آرمان پسند نہیں ہو سکتیں کیونکہ ان کے پاس انسانی اقدار نہیں ہوتیں۔
5۔ مزاحمتی قوت اپنے سیاسی جغرافیے میں منصوبہ رکھتی ہے اور عوامی حمایت کی حامل ہوتی ہے۔
6۔ مزاحمتی قوت اپنے ہی ملک کی حکومت اور عوام کے خلاف ہتھیار نہیں اٹھاتی، جبکہ نیابتی قوت ایسا کرتی ہے۔
7۔ نیابتی قوت کا اپنے بیرونی حامیوں سے رابطہ منقطع ہوتے ہی وجود ختم ہو جاتا ہے، لیکن مزاحمتی قوت ایسا نہیں ہوتی۔
8۔ مزاحمتی قوت علیحدگی پسند نہیں ہوتی بلکہ علیحدگی پسندی کے خلاف جدوجہد کرتی ہے؛ اس کی مثال عراقی کردستان میں ہونے والا علیحدگی کا ریفرنڈم ہے جس کے خلاف الحشد الشعبی نے کردار ادا کیا۔
9۔ مزاحمتی قوت فرقہ وارانہ یا نسلی نہیں ہوتی بلکہ ہمہ گیر اور سب کو ساتھ لے کر چلنے والی ہوتی ہے۔
10۔ مزاحمتی قوت کا کمانڈر خودمختار ہوتا ہے اور باہر سے احکامات نہیں لیتا۔
محمد فرازمند نے مزید کہا کہ شہید سلیمانی کی برسی پر سب سے بہتر کام یہ ہے کہ ہم مزاحمت کے بیانیے کو مضبوط کریں اور جعلی روایات کا مؤثر جواب دیں۔ خطے کی حالیہ صورتحال پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گزشتہ دنوں ریاض، دوحہ اور مسقط سے ایسے بیانات سامنے آئے ہیں جو بے مثال ہیں۔ 2017 میں جب خلیجی ممالک نے قطر کا محاصرہ کیا اور یہ ملک ایران اور ترکیہ کی مدد سے بچ نکلا۔
ان کا کہنا تھا کہ اس کے بعد بہت سے لوگ منتظر تھے کہ امارات کوئی غلطی کرے تاکہ سعودی عرب اس کا جواب دے۔ کیونکہ حالیہ برسوں میں سعودی عرب، امارات کے القائی بیانیوں کے زیرِ اثر یمن کی جنگ، جمال خاشقجی کے معاملے اور دیگر کئی سنگین غلطیوں کا مرتکب ہوا۔ انہوں نے آخر میں کہا کہ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ خلیج فارس میں ہمارا جنوبی ہمسایہ (امارات) خطے میں اسرائیل کے منصوبوں کا عملی آلہ بن چکا ہے، جس کی تازہ مثال صومالی لینڈ کا معاملہ ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: مزاحمتی قوت نیابتی قوت کرتے ہوئے کے درمیان نہیں ہوتی انہوں نے کے خلاف قوت کا کہا کہ
پڑھیں:
پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ پر ویزے کی شرط ختم
روم: پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ پر ویزے کی شرط ختم کر دی گئی۔پاکستان کے سفیر علی جاوید اور اٹلی کی وزارتِ خارجہ کے سیکرٹری جنرل، عزت مآب سفیر ریکارڈو گوارِیلیا نے حال ہی میں ایک ایسے معاہدے پر دستخط کئے ہیں. جس کے تحت سفارتی پاسپورٹ رکھنے والے افراد کیلئے ویزا کی شرط ختم کر دی گئی ہے. معاہدے پر دستخط کی پُروقار تقریب اٹلی کی وزارتِ خارجہ میں روم میں منعقد ہوئی۔تقریب سے قبل دونوں اعلیٰ حکام کے درمیان ون آن ون ملاقات ہوئی. دونوں فریقوں نے پاکستان اور اٹلی کے درمیان تزویراتی تعاون کی مضبوطی، وسعت اور مسلسل ترقی پر اطمینان کا اظہار کیا۔اس موقع پر دونوں ممالک کے درمیان روایتی طور پر دوستانہ اور تعمیری دوطرفہ تعلقات کا جامع جائزہ لیا گیا، جبکہ اقوامِ متحدہ اور یورپی یونین سمیت مختلف بین الاقوامی فورمز پر جاری تعاون پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا۔دونوں جانب سے اس معاہدے کو باہمی اعتماد اور دوستی کی عکاسی قرار دیا گیا اور اسے موجودہ دوطرفہ تعاون کے نظام میں ایک اہم اضافہ قرار دیا گیا. معاہدے سے سفارتی وفود کے تبادلوں میں آسانی پیدا ہوگی اور دونوں ممالک کے درمیان روابط مزید مستحکم ہوں گے۔پاکستان اور اٹلی کے درمیان اس وقت متعدد نئے معاہدوں پر غور جاری ہے. اس کے علاوہ دونوں ممالک کی جامعات اور تحقیقی اداروں کے درمیان 21 مفاہمتی یادداشتیں (MoUs) موجود ہیں، جبکہ سیاحت، ثقافت، سائنس و ٹیکنالوجی، کھیل، اعلیٰ دفاعی مطالعات اور منشیات کی سمگلنگ کے خلاف تعاون سمیت مختلف شعبوں میں دونوں حکومتوں کے درمیان 15 معاہدے طے پا چکے ہیں۔دفاعی تعاون کا معاہدہ 2009 میں طے پایا، جبکہ 2013 میں دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ کے درمیان سٹریٹجک انگیجمنٹ پلان قائم کیا گیا، اسی طرح مشترکہ اقتصادی کمیشن 2005 میں تشکیل دیا گیا، سرمایہ کاری کے تحفظ کا معاہدہ 1997 میں طے پایا، دوہری شہریت کا معاہدہ 1983 میں جبکہ حوالگیِ ملزمان (Extradition) کا معاہدہ 1972 میں دستخط کیا گیا تھا۔اس سے قبل 7 مئی 2025 کو اسلام آباد میں پاکستان اور اٹلی کے درمیان ’’لیبر موبیلٹی اینڈ مائیگریشن‘‘ کے موضوع پر ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہوئے تھے، جو کسی یورپی ملک کے ساتھ پاکستان کا پہلا باقاعدہ لیبر معاہدہ ہے، اس معاہدے کے تحت پاکستانی افرادی قوت کو اٹلی میں پاکستانی شہریوں کیلئے مختص 10,500 ملازمتوں کے کوٹے سے فائدہ اٹھانے کا موقع حاصل ہوگا۔پاکستانی سفیر نے سیکرٹری خارجہ کی جانب سے سیکرٹری جنرل کو ساتویں دورِ دوطرفہ سیاسی مشاورت میں شرکت کیلئے پاکستان کے دورے کی دعوت بھی دی، انہوں نے 2026 کی آخری سہ ماہی میں اس اجلاس کے انعقاد کیلئے پاکستان کی آمادگی سے آگاہ کیا اور اسلام آباد میں اٹلی کے نئے سفارت خانے کے افتتاح کی خواہش کا اظہار کیا، جو اٹلی کا بیرونِ ملک سب سے بڑا سفارتی مشن ہوگا. اس موقع پر دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا گیا۔