ماہانہ کروڑوں روپے سیلز ریکارڈ کے باوجود ٹیکس ادائیگی میں خردبرد
اشاعت کی تاریخ: 1st, January 2026 GMT
رات گئے تک صوبہ بھر میں پنجاب ریونیو اتھارٹی کی انفورسمنٹ ٹیمیں متحرک رہیں اور سیلز ریکارڈ کی چھان بین کی۔
ترجمان کے مطابق ریکارڈ میں خرد برد کرنیوالی متعدد فوڈ چینز اور دیگر مقامات سیل کر دیے گئے ہیں۔ 9 ریسٹورنٹس اور فوڈ پوائنٹس کے سیلز ریکارڈ کو ضبط کر لیا گیا۔
ترجمان نے بتایا کہ سیلز ریکارڈ چھپانے، انفورسمنٹ ٹیموں سے مزاحمت کرنے پر مقدمات درج کروائے جائیں گے۔ نوٹسز کے باوجود سرکاری خزانے میں ٹیکسز جمع نہ کروانے پر بھی کارروائیاں کی گئیں۔
ترجمان نے مزید بتایا کہ عوام کے ادا کردہ ٹیکسز، حکومت کی امانت، بروقت اور شفاف ادائیگی یقینی بنارہے ہیں۔
ادارے نے صارفین سے گزارش کی ہے کہ بل ادائیگی کے بعد ای بل ضرور حاصل کریں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: سیلز ریکارڈ
پڑھیں:
توشہ خانہ ریکارڈ، وزیراعظم اور اسحاق ڈار کے تحائف کی تفصیلات سامنے آگئیں
اسلام آباد(رضوان عباسی ): توشہ خانہ ریکارڈ میں وزیراعظم شہباز شریف اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کو اپریل سے جون 2026 کے دوران مختلف غیر ملکی شخصیات اور وفود کی جانب سے ملنے والے سرکاری تحائف کی تفصیلات سامنے آ گئی ہیں۔
کابینہ ڈویژن کی دستاویزات کے مطابق اس عرصے میں موصول ہونے والے تمام سرکاری تحائف توشہ خانہ قواعد کے تحت کابینہ ڈویژن میں جمع کرا دیے گئے ہیں، جبکہ ان کی مالیت کے تعین (ویلیوایشن) کا عمل تاحال جاری ہے۔
دستاویزات کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کو مختلف ممالک کے سربراہان، اعلیٰ حکام اور سرکاری وفود کی جانب سے متعدد یادگاری تحائف پیش کیے گئے۔ ان میں شوگر باؤل، گاڑی کا فریم شدہ ماڈل، شیلڈز، قیمتی قلم، کف لنکس، ٹائی، کافی کپ اور واٹر گلاس سیٹ، چائے کے کپ اور ساسرز، آرائشی واز، ایرانی فیروزہ اِنلے دستکاری پر مشتمل پانچ پیس سیٹ، روایتی چینی اسکرول پینٹنگ، چائنا اسپیس اسٹیشن کا ماڈل اور دیگر سووینئرز شامل ہیں۔
اسی طرح نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کو بھی مختلف ممالک کی جانب سے متعدد سرکاری تحائف دیے گئے، جن میں مصری طرز کا مجسمہ، مسجد نبوی ﷺ کا ماڈل، کف لنکس اور دیگر یادگاری اشیا شامل ہیں۔
دستاویزات میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ڈپٹی چیف آف پروٹوکول محمد ارسلان میر کو ایک قیمتی ڈائمنڈ کلیکشن رسٹ واچ بطور سرکاری تحفہ موصول ہوئی، جس کی مالیت کا تعین بھی جاری ہے۔
کابینہ ڈویژن کے مطابق توشہ خانہ ریکارڈ میں شامل تمام تحائف متعلقہ قوانین اور قواعد کے مطابق وصول کیے گئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ویلیوایشن مکمل ہونے کے بعد توشہ خانہ رولز کے مطابق آئندہ کارروائی کی جائے گی۔
سرکاری ذرائع کے مطابق تحائف کی مالیت کا تعین مکمل ہونے کے بعد قواعد کے مطابق یہ فیصلہ کیا جائے گا کہ متعلقہ حکام ان تحائف کو اپنے پاس رکھ سکتے ہیں یا انہیں سرکاری تحویل میں برقرار رکھا جائے گا۔