مسلم لیگ (ن) کو پنجاب اسمبلی کی ایک اور نشست بلا مقابلہ ملنے کا امکان
اشاعت کی تاریخ: 1st, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ڈیرہ غازی خان میں پنجاب اسمبلی کی نشست پی پی 289 پر ہونے والے ضمنی انتخاب میں مسلم لیگ ن کے امیدوار اسامہ عبدالکریم کے بلا مقابلہ منتخب ہونے کے امکانات روشن ہو گئے ہیں۔
نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے کہ ضمنی انتخاب میں حصہ لینے والے گیارہ امیدواروں میں سے نو نے اپنے کاغذاتِ نامزدگی واپس لے لیے، جس کے بعد اسامہ عبدالکریم کے لیے فتح تقریباً یقینی ہو گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق یہ نشست مسلم لیگ ن کے سردار محمود قادر لغاری کی قومی اسمبلی میں کامیابی کے بعد خالی ہوئی تھی، جس کے بعد انہوں نے صوبائی اسمبلی کی نشست چھوڑ دی تھی۔
پی پی 289 پر ضمنی انتخاب 25 جنوری کو شیڈول ہے، تاہم زیادہ تر امیدواروں کے کاغذات واپس لینے کے بعد اسامہ عبدالکریم کے بلا مقابلہ منتخب ہونے کے امکانات میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے۔
دوسری جانب پنجاب اسمبلی کی نشست پی پی 167 لاہور کے لیے بھی ضمنی انتخاب کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے۔ اس نشست پر ضمنی انتخاب 8 فروری کو ہوگا، جو سابق رکن اسمبلی عرفان شفیع کھوکھر کی وفات کے بعد خالی ہوئی تھی۔
سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ پی پی 167 میں بھی انتخابی مقابلہ کافی دلچسپ اور سخت متوقع ہے، جبکہ پی پی 289 کی صورتحال مسلم لیگ ن کے لیے ایک واضح کامیابی کے طور پر دیکھی جا رہی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: اسمبلی کی مسلم لیگ کے بعد
پڑھیں:
کے پی اسمبلی میں حکومتی ناراض ارکان کا مذاکرات سے انکار
پشاور:خیبرپختونخوا اسمبلی میں ناراض حکومتی ارکان کے ساتھ مفاہمت نہ ہوسکی ناراض ارکان نے کسی بھی قسم کے مذاکرات سے انکار کرتے ہوئے آئندہ کے لائحہ عمل کے لیے آج اجلاس طلب کرلیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق خیبرپختونخوا اسمبلی میں حکومتی ارکان کا ناراض گروپ اپنے مطالبات پر ڈٹ گیا، ناراض ارکان سے سابق اسپیکر اسد قیصر اور سابق صوبائی وزیر شوکت یوسفزئی نے بھی رابطہ کیا ہے لیکن ناراض ارکان نے حکومت کے علاقہ کسی سے بھی مذاکرات سے انکار کردیا۔
ناراض ارکان کا کہنا ہے کہ ہمیں وزیراعلی سہیل آفریدی کی جانب سے یقین دہانی چاہیے، ایک ناراض رکن نے بتایا کہ ہمارا کوئی فارورڈ بلاک نہیں اگر فارورڈ بلاک بنتا ہے تو یہ عمران خان کے خلاف ہوگا ہم حکومت کے پالیسیوں سے ناراض ہیں مرکزی قیادت کو بتایا دیا گیا ہے اور انھیں خط بھی لکھا گیا ہے لیکن پارٹی چیئرمین کی جانب سے کوئی جواب نہیں ملا، ناراض ارکان نے آئندہ کے لائحہ عمل کے لیے اجلاس آج دوبارہ طلب کرلیا ہے۔