پاکستان اور بھارت کے درمیان جوہری تنصیبات اور قیدیوں کی فہرستوں کا باضابطہ تبادلہ
اشاعت کی تاریخ: 1st, January 2026 GMT
اسلام آباد: پاکستان اور بھارت کے درمیان سفارتی روایات کے مطابق جوہری تنصیبات اور قیدیوں کی فہرستوں کا باضابطہ تبادلہ کیا گیا ہے۔
دفتر خارجہ کے مطابق یہ عمل طے شدہ معاہدوں اور اعتماد سازی کے اقدامات کے تحت انجام پایا ۔ اسلام آباد میں ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران ترجمان دفتر خارجہ نے اس پیش رفت کی تفصیلات سے آگاہ کیا اور کہا کہ پاکستان نے متعلقہ فہرستیں بھارتی ہائی کمشنر کے حوالے کر دی ہیں۔
ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسین اندرابی نے بریفنگ میں بتایا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان سال میں 2 مرتبہ قیدیوں اور جوہری تنصیبات کی فہرستوں کا تبادلہ کیا جاتا ہے، جو دونوں ممالک کے مابین طے شدہ معاہدوں کا حصہ ہے۔
پریس بریفنگ کے دوران ترجمان نے علاقائی اور عالمی امور پر پاکستان کے مؤقف سے بھی آگاہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان یمن کی وحدت، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے عزم کا اعادہ کرتا ہے اور کسی بھی فریق کی جانب سے یکطرفہ اقدامات کی مخالفت کرتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان یمن کے معاملے پر سعودی عرب کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتا ہے اور سعودی عرب کی سلامتی کے لیے اپنے مضبوط عزم کو دہراتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان اس تنازع کے حل کے لیے سفارتی کوششوں کی حمایت کرتا ہے اور امید رکھتا ہے کہ یمن کے عوام اور خطے کی طاقتیں باہمی تعاون سے دیرپا حل کی جانب پیش قدمی کریں گی۔
ترجمان دفتر خارجہ نے بنگلادیش سے متعلق سفارتی سرگرمیوں کا بھی ذکر کیا اور بتایا کہ اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے سابق بنگلادیشی وزیراعظم خالدہ ضیا کی نماز جنازہ میں شرکت کی۔ اس موقع پر انہوں نے مرحومہ کے بیٹے سے ملاقات کر کے تعزیت کی جب کہ بنگلادیش کے نیشنل سیکورٹی ایڈوائزر سے بھی ملاقات ہوئی جس میں باہمی دلچسپی کے امور پر گفتگو کی گئی۔
اس کے علاوہ ترجمان نے صومالیہ اور صومالی لینڈ سے متعلق پاکستان کے واضح مؤقف کا اعادہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل کی جانب سے صومالی لینڈ کو تسلیم کرنے کے اقدام کو پاکستان مسترد کرتا ہے اور صومالیہ کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی حمایت جاری رکھے گا۔ نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اس معاملے پر مختلف ممالک کے وزرائے خارجہ اور او آئی سی کے ساتھ مشترکہ اعلامیہ بھی جاری کیا ہے جس میں صومالی لینڈ کے اقدام کی مذمت کی گئی ہے۔
دفتر خارجہ کے مطابق اسحاق ڈار کو تبوک کے گورنر اور ازبکستان کے وزیر خارجہ کی جانب سے ٹیلیفون کالز موصول ہوئیں، جن میں دوطرفہ تعلقات اور باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ازبکستان کے صدر کے آئندہ ماہ دورہ پاکستان سے متعلق امور پر بھی بات چیت ہوئی جب کہ صومالیہ کے وزیر خارجہ نے پاکستان کی حمایت پر شکریہ ادا کیا۔
ترجمان نے مزید بتایا کہ نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ جلد چین کا دورہ کریں گے، جہاں وہ پاک چین وزارت خارجہ کے اسٹریٹیجک ڈائیلاگ میں شرکت کریں گے۔ افغانستان سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ سرحد بند ہونے کے بعد کابل میں پاکستانی سفارت خانہ وہاں موجود پاکستانی شہریوں اور طالبان حکام کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے، اور اب تک 1100 سے زائد پاکستانی شہریوں نے سفارت خانے سے رابطہ کیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل کرتا ہے اور کہ پاکستان دفتر خارجہ انہوں نے کی جانب کہا کہ
پڑھیں:
سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
پاکستان نے یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی آئل ٹینکر پر حملے اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی کو درپیش خطرات کی پرزور الفاظ میں مذمت کی ہے اور سعودی عرب کی سلامتی و خودمختاری کے لیے اپنی مکمل حمایت کا اعادہ کیا ہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے جمعرات کو سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ٹیلی فونک رابطہ کر کے بحرِ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حوثی ملیشیا کے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔وزیراعظم نے حملے کو بزدلانہ اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ ”ایسے اقدامات قطعی ناقابلِ قبول ہیں. یہ بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہیں، جہاز رانی اور تجارتی نقل و حمل کی آزادی کے لیے خطرہ ہیں اور علاقائی امن، سلامتی اور استحکام کو نقصان پہنچاتے ہیں“۔وزیراعظم نے سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں خود، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور پوری پاکستانی قوم اس نازک وقت میں سعودی قیادت اور مملکت کے برادر عوام کے ساتھ مضبوطی اور عزم کے ساتھ کھڑے ہیں۔انہوں نے مزید یقین دہانی کرائی کہ پاکستان مملکت سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی مکمل حمایت کرتا ہے اور بحرِ احمر، آبنائے ہرمز اور خطے میں سمندری تجارت کی روانی کو یقینی بنانے کے لیے عالمی برادری اور سعودی عرب کے ساتھ مل کر کام کرتا رہے گا۔گفتگو کے دوران سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے پاکستان کی اس مستقل حمایت اور دونوں ممالک کے درمیان قائم قریبی برادرانہ تعلقات کی تعریف کی۔ اس موقع پر وزیراعظم پاکستان نے خادمِ حرمین شریفین، شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کے لیے بھی نیک خواہشات اور خیر سگالی کے جذبات کا اظہار کیا۔
دوسری جانب، دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ”گزشتہ ہفتے بھی حوثیوں کی جانب سے حملہ کیا گیا تھا. جس کی وزیراعظم پاکستان نے فوری مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا تھا“۔طاہر اندرابی نے کہا کہ ہمارے بحری جہازوں پر حملہ ریڈلائن ہوگی. ہم سعودی عرب کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور سعودی عرب کے ساتھ تمام معاہدوں کی پاسداری کریں گے۔انہوں نے خبردار کیا کہ یمن کے مسلح گروہوں کی جانب سے سعودی عرب پر ایسے حملے خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں، اس لیے پاکستان تمام فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور مسائل کا پرامن حل سفارتی راستے سے نکالنے کی اپیل کرتا ہے۔خطے میں امن قائم کرنے اور کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان نے اپنی سفارتی رفت و آمد میں بھی اضافہ کر دیا ہے۔ترجمان کے مطابق حال ہی میں ایران کے وزیر داخلہ اسکندر مومنی نے پاکستان کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے وزیراعظم، فیلڈ مارشل اور وفاقی وزیر داخلہ سمیت اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کیں تاکہ علاقائی سیکیورٹی کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔اس کے علاوہ پاکستان اور کویت کے وزرائے خارجہ کے درمیان رابطہ ہوا، جبکہ منیلا میں آسیان ریجنل فورم کے موقع پر نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے مصر، عمان، فلپائن، روس اور بنگلہ دیش کے وزرائے خارجہ سے الگ الگ اہم ملاقاتیں کیں۔ان ملاقاتوں کی تفصیل بتاتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ ”مصر کے وزیر خارجہ سے ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے تمام ممالک کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کے احترام پر زور دیا، جبکہ عمان کے وزیر خارجہ نے خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور امن و استحکام کے لیے پاکستان کے سفارتی کردار کو سراہا“۔اس کے ساتھ ساتھ روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ خلیل الرحمان سے بھی باہمی تعلقات اور تعاون کو آگے بڑھانے پر بات چیت کی گئی۔ترجمان دفترِ خارجہ نے مزید بتایا کہ پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اب شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے وزرائے خارجہ کونسل اجلاس میں شرکت کے لیے بشکیک پہنچیں گے. جہاں ان کی کرغزستان کے صدر اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں متوقع ہیں۔ترجمان نے یہ بھی بتایا کہ کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند نے بھی حال ہی میں پاکستان کا دورہ کیا ہے، جو گزشتہ بیس سالوں میں کسی کینیڈین وزیر خارجہ کا پہلا دورہ تھا اور اس دوران دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کی مضبوطی کے لیے اعلیٰ سطح پر بات چیت کی گئی۔