ملیر: پولیس مقابلے میں ہلاک ملزم 12 سالہ بچے کا قاتل نکلا
اشاعت کی تاریخ: 1st, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی کے علاقے ملیر نشترآباد ریلوے ٹریک کے قریب مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک ہونے والا ملزم محمد رضوان ولد فضل حکیم ایک خطرناک مجرم نکلا، جو گزشتہ سال ڈکیتی کے دوران 12 سالہ بچے امین عرف شانو کو قتل اور اس کی والدہ ناصرہ کو شدید زخمی کرنے کے واقعے میں ملوث تھا۔
نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پولیس نے بتایا کہ ہلاک ملزم متعدد سنگین مقدمات میں مطلوب تھا اور اس کے خلاف الفلاح، قائد آباد، شرافی گوٹھ، سکھن، لانڈھی اور شاہ لطیف ٹاؤن تھانوں میں قتل، ڈکیتی، غیر قانونی اسلحہ رکھنے اور پولیس مقابلے سمیت دیگر دفعات کے تحت 24 سے زائد مقدمات درج تھے۔
پولیس کا کہنا تھا کہ اس کے علاوہ ملزم کے خلاف ڈکیتی کی وارداتوں کی متعدد سی سی ٹی وی ویڈیوز بھی موجود ہیں، جن میں اس کی ملوث ہونے کی واضح شناخت ہو رہی ہے۔
پولیس کے مطابق دورانِ گشت موٹر سائیکل سوار مشکوک ملزمان کو روکنے کا اشارہ کیا گیا، جس پر ملزمان نے پولیس پارٹی پر اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی۔ دو طرفہ فائرنگ کے نتیجے میں محمد رضوان موقع پر ہلاک ہو گیا جبکہ اس کا ساتھی اندھیرے کا فائدہ اٹھا کر فرار ہونے میں کامیاب رہا۔
رپورٹ کے مطابق ہلاک ملزم کے قبضے سے ایک پستول 30 بور بمعہ ایک لوڈ میگزین اور راؤنڈز کے علاوہ سچل تھانے کی حدود سے چوری شدہ موٹر سائیکل بھی برآمد ہوئی۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ہلاک ملزم کے خلاف ماڈل کالونی تھانے میں دو مقدمات درج کر دیے گئے ہیں، جبکہ ایس آئی یو پولیس اس کے دیگر سنگین جرائم کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہے۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ملزم کی ہلاکت سے نہ صرف شہر میں جرائم پیشہ عناصر کی کارکردگی محدود ہوگی بلکہ شہریوں کی حفاظت اور امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
لاہور ڈیفنس فیز 5 میں گھر کی بیسمنٹ سے 53 سالہ شخص کی لاش برآمد
لاہور:ڈیفنس بی کے علاقے فیز 5 میں ایک گھر کی بیسمنٹ سے 53 سالہ شخص کی لاش برآمد ہوئی۔
اطلاع ملتے ہی ڈیفنس بی پولیس فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ گئی جبکہ پولیس اور فرانزک ٹیم نے موقع سے شواہد اکٹھے کر لیے۔
پولیس نے لاش کو تحویل میں لے کر پوسٹ مارٹم کے لیے ڈیڈ ہاؤس منتقل کر دیا، متوفی کی شناخت 53 سالہ اویس کے نام سے ہوئی۔
ایس پی کینٹ اختر نواز کے مطابق واقعے کے تمام پہلوؤں کو مدنظر رکھتے ہوئے تحقیقات کی جا رہی ہیں، جبکہ مزید کارروائی ضابطے کے مطابق عمل میں لائی جا رہی ہے۔