ایمسٹرڈیم کے معروف وونڈل پارک کے قریب واقع 154 سالہ قدیم وونڈل کرک میں شدید آگ بھڑک اٹھی جس کے نتیجے میں چرچ کا ٹاور منہدم ہوگیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیدرلینڈ کے دارالحکومت میں واقع اس چرچ کا شہر کے اہم تاریخی اور ثقافتی ورثے میں شمار ہوتا ہے۔

وونڈل کرک چرچ کی تعمیر 1872ء میں ہوئی تھی اور یہ ایمسٹرڈیم کی تاریخی شناخت کا ایک اہم حصہ سمجھا جاتا تھا۔ اس کا محل وقوع بھی خاص اہمیت کا حامل ہے۔

یہ چرچ شہر کے مرکزی حصے میں واقع ہے اور لائیڈسے پلین جیسے مشہور نائٹ لائف علاقے کے قریب ہے۔ رائکس میوزیم اور وان گوگ میوزیم بھی یہاں سے چند منٹ کی مسافت پر ہیں۔

آگ آدھی رات کے فوراً بعد لگی اور شدت اختیار کرتی چلی گئی۔ خوش قسمتی سے اُس وقت چرچ میں کوئی بھی شخص موجود نہ تھا۔

        View this post on Instagram                      

صورتحال کی سنگینی کے پیشِ نظر اسے علاقائی ایمرجنسی قرار دیا گیا جب کہ قریبی علاقوں کے درجنوں گھروں کو خالی کرا لیا گیا۔

چرچ کے اطراف کی تمام سڑکیں بند کر دی گئیں اور مقامی افراد کو گھنے دھوئیں کے باعث محتاط رہنے کی ہدایت جاری کی گئی۔

ایمسٹرڈیم-ایمسٹلینڈ سیفٹی ریجن کے ترجمان نے بتایا کہ چرچ کو بچانا ممکن نہیں اور خدشہ ہے کہ پوری عمارت منہدم ہو سکتی ہے۔

عمارت میں لکڑی کی بڑی مقدار اور تیز ہوا نے آگ کو مزید پھیلنے میں مدد دی جس کے باعث فائر فائٹرز عمارت کے اندر داخل نہیں ہو سکے۔

سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز میں چرچ کے بلند مینار کو شعلوں میں گھرا ہوا دیکھا جا سکتا ہے۔

ترجمان کے مطابق چرچ کی شناختی اور تاریخی ساخت شدید طور پر متاثر ہو چکی ہے اور اسے نئے سال کا ایک نہایت افسوسناک آغاز قرار دیا جا رہا ہے۔

ایمسٹرڈیم کی میئر فیمکے ہالسما نے کہا کہ یہ ایک انتہائی شدید اور دل دہلا دینے والا واقعہ ہے۔ اولین ترجیح قریبی رہائشیوں کی سلامتی اور ان کے گھروں کا تحفظ ہے۔

 

 

 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

پڑھیں:

میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے سی سی ڈی اہلکاروں کی جانب سے میاں بیوی اور تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھانے کے معاملے میں سی سی ٹی وی کیمروں کی وڈیو فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو متعلقہ ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہرام سرور چوہدری نے درخواست پر سماعت کی۔

درخواست گزار رحمان کی جانب سے ایڈووکیٹ ایاز صفدر سندھو نے دلائل دیئے۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سی سی ڈی گوجرانوالہ نے درخواست گزار کی بہن، بہنوئی اور ان کی تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھایا اور بعد ازاں میاں بیوی کے خلاف منشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کر دیا۔ مذکورہ میاں بیوی ایک مبینہ جعلی پولیس مقابلے کے مدعی ہیں اور پیروی سے باز نہ آنے پر انہیں جھوٹے مقدمے میں نامزد کیا گیا۔

(جاری ہے)

تین سالہ بچی بھی سی سی ڈی کی تحویل میں رہی تاہم درج مقدمے میں اس کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ عدالت سے استدعا کی گئی کہ متعلقہ مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔سماعت کے دوران جسٹس شہرام سرور چوہدری نے ریمارکس دیے کہ فوٹیج حاصل کرنا یا اسے محفوظ بنانا ہائیکورٹ کا کام نہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کے پاس سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے سمیت متعدد قانونی اختیارات موجود ہیں۔

عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ اپنی درخواست متعلقہ ٹرائل کورٹ میں دائر کرے کیونکہ اس حوالے سے حکم جاری کرنے کا اختیار اسی عدالت کے پاس ہے۔بعد ازاں عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی میں فائرنگ سے باپ اور نوجوان بیٹا جاں بحق
  • ایکس نے ’ری ایکٹ ود ویڈیو‘ فیچر متعارف کرا دیا، یہ کام کیسے کرتا ہے؟
  • کراچی میں گیس سلینڈر دھماکے سے تباہی، 1 جاں بحق
  • کراچی، محسن نقوی کا صفورا میں واقع نادرا میگا سینٹر کا اچانک دورہ
  • فیکٹ چیک: تھائی لینڈ کی ویڈیو پاکستانی فوجی افسر سے منسوب کرنے کی بھارتی کوشش ناکام
  • بٹ کوائن کی تاریخی گراوٹ، سرمایہ کاروں کے کروڑوں ڈالر ڈوب گئے
  • سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا
  • میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
  • لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق
  • مومنہ اقبال اور حمزہ حبیب کی دعائے خیر کی تقریب، دلکش تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل