صوبے کو افغان سرحد سے بھارتی حمایت یافتہ دہشت گردی کا سامنا ہے، گورنر خیبرپختونخوا
اشاعت کی تاریخ: 1st, January 2026 GMT
پشاور:
خیبرپختونخوا کے گورنر فیصل کریم کنڈی نے خیبرپختونخوا پولیس کو دہشت گردی کے مقابلے کے لیے درکار اسلحہ اور سہولیات نہ ملنے کی نشان دہی کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارے صوبے کو اب افغان سرحد سے بھارتی حمایت یافتہ دہشت گردی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
خیبرپختونخوا کے گورنر کے دفتر سے جاری بیان کے مطابق 18ویں نیشنل ورکشاپ بلوچستان کے شرکا نے گورنر ہاؤس پشاور کا دورہ کیا، نیشنل ورکشاپ بلوچستان کے شرکا پرمشتمل وفد کی قیادت بریگیڈیئر بلال غفور کر رہے تھے۔
ورکشاپ کے شرکا میں بلوچستان کی مختلف یونیورسٹیوں کے طلبہ اور فیکلٹی اراکین شامل تھے، گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے ورکشاپ کے شرکا کو گورنر ہاؤس پشاور آمد پر خوش آمدید کہا اور نئے سال کی مبارک باد پیش کی۔
ورکشاپ کے شرکا نے گورنر خیبرپختونخوا سے صوبے میں امن و امان، یونیورسٹیوں کے امور، تعلیمی شعبے کی ترقی اور دہشت گردی کے خاتمہ کے لیے اقدامات، صوبے کے قدرتی وسائل سمیت مختلف موضوعات سے متعلق سوالات کیے۔
فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ خیبرپختونخوا اور بلوچستان کی ثقافت مشترکہ ہے، دونوں صوبے افغان بارڈر کے ساتھ منسلک ہونے کے باعث امن و امان کے خطرات سے دوچار ہیں، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ملنے والے فنڈز سے خیبر پختونخوا پولیس کی استعداد کو نہیں بڑھایا گیا۔
انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا پولیس بہادر اور انتہائی پیشہ ورانہ فورس ہے، بدقسمتی سے خیبرپختونخوا پولیس کو دہشت گردی کے مقابلے کے لیے درکار اسلحہ اور سہولیات نہیں ملی ہیں، ہمارے صوبے کو اب افغان سرحد سے بھارتی حمایت یافتہ دہشت گردی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ صوبے کے تمام سیاسی رہنما اپنے اپنے علاقوں میں بدامنی کی صورت حال سے پریشان ہیں، پائیدار امن کے لیے انٹیلی جنس کی بنیاد پر آپریشن انتہائی ضروری ہے، اگر انٹیلی جنس آپریشن نہ ہو تو دہشت گردوں کا خاتمہ کیسے کیا جا سکتا ہے۔
فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ بدقسمتی سے سیکیورٹی اداروں کے خلاف نفرت پر مبنی پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے جو افسوس ناک ہے، سیاسی لڑائی سیاسی دائرہ کار میں کرنی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ صوبے میں دہشت گردی کے متعدد واقعات میں افغان شہریوں کے نام سامنے آئے ہیں، دہشت گردی کے ساتھ صوبے کو گزشتہ برس ماحولیاتی تبدیلی کے خطرناک اثرات کا سامنا کرنا پڑا۔
گورنر فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ صوبے میں تعلیمی شعبے پر سنجیدہ توجہ اور ٹھوس اقدامات کی ضرورت ہے، صوبے کی 34 سرکاری یونیورسٹیوں کے لیے مالی سال کے بجٹ میں 4 ارب کی خطیر رقم مختص کی گئی، اگر یونیورسٹیوں کو درکار مطلوبہ فنڈز نہ ملیں تو تعلیمی نتائج کیسے حاصل کیے جا سکتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا میں آئل اور گیس، بجلی کی پیداوار سے صوبے کو کوئی فائدہ نہیں مل رہا ہے، ہم مسائل حل کرنے کے بجائے انہیں مزید الجھا دیتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ آج دنیا کے دیگر ممالک کے سربراہان و قائدین پاکستان کا دورہ کر رہے ہیں، تاجر برادری سمیت تمام طبقات کو عالمی قائدین کے دوروں سے فائدہ لینا چاہیے اور عالمی سطح پر اس وقت ہم بہترین سفارت کاری میں کامیاب ہوئے ہیں۔
فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ صوبے میں ہائیڈل پاور کے وسیع مواقع موجود ہیں، تعلیم یافتہ نوجوان ملک و قوم کا قیمتی سرمایہ ہیں، نوجوانوں نے ہی اپنی تعلیم اور مثبت سوچ و صلاحیتوں سے اس ملک کو آگے لے کر جانا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ دہشت گردی کے کا سامنا کہ صوبے کے شرکا صوبے کو کے لیے رہا ہے
پڑھیں:
وسائل پر قبضے کی جنگ: افغان طالبان میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے
افغانستان کے صوبے بدخشاں میں سونے کی کانوں، غیر قانونی دولت، مسلح گروہوں کے باہمی مفادات اور قدرتی وسائل پر کنٹرول کے تنازع نے طالبان حکومت کے اندر بڑھتے ہوئے اختلافات کو نمایاں کردیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق بدخشاں کی صورتحال طالبان کے سرکاری بیانیے سے مختلف تصویر پیش کرتی ہے، جہاں مختلف دھڑے عوامی فلاح یا حکمرانی کے بجائے سونے کے ذخائر، منشیات سے حاصل ہونے والی آمدنی، غیر قانونی مالی فوائد اور طاقت کے حصول کے لیے ایک دوسرے کے مدمقابل دکھائی دیتے ہیں۔
سونے کے ذخائر پر کشمکش، قندھاری قیادت پر الزاماتبدخشاں میں سونے کی کانوں پر جاری تنازع نے طالبان کے اندر موجود گہرے اختلافات کو نمایاں کر دیا ہے۔
مقامی سطح پر اس بات پر ناراضی پائی جاتی ہے کہ قندھاری طالبان قیادت مبینہ طور پر کانوں، آمدنی کے ذرائع، ریاستی اختیارات اور معاشی فوائد پر اپنا کنٹرول مضبوط کرنے کی کوشش کر رہی ہے، جبکہ مقامی طالبان عناصر کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔
10 ہزار جنگجوؤں کا دعویٰ، انتظامی بیان یا طاقت کا مظاہرہ؟صوبہ زابل کے طالبان نائب گورنر ملا جمعہ خان فتح کی جانب سے 10 ہزار جنگجوؤں پر کمانڈ رکھنے کا دعویٰ بھی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق یہ بیان ایک فعال انتظامیہ کے نمائندے کے بجائے ایسے مسلح دھڑے کے رہنما کا تاثر دیتا ہے جو دولت، اثر و رسوخ اور اختیار کی اندرونی کشمکش میں اپنی طاقت دکھانے کے لیے تیار ہے۔
تحقیقات کا حکم، بدعنوانی کے اعتراف کے مترادف قرارطالبان رہنما کی جانب سے غیر قانونی کان کنی، منشیات کی تجارت اور شہریوں پر مظالم کے الزامات کی تحقیقات کا حکم اس بات کا اعتراف سمجھا جا رہا ہے کہ طالبان نظامِ حکومت کے اندر مجرمانہ مالی مفادات، وسائل کے استحصالی استعمال اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے مسائل موجود ہیں۔
اسلامی انصاف کا دعویٰ سوالات کی زد میںرپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طالبان اقتدار سنبھالنے کے بعد بعض عہدیداروں کی اچانک بڑھتی ہوئی دولت، کانوں پر کنٹرول کے لیے دھڑوں کی کشمکش اور ہزاروں جنگجوؤں تک رسائی کے دعوے طالبان کے ’اسلامی انصاف‘ کے بیانیے کو کمزور کرتے ہیں۔ اس صورتحال کو وسائل کی لوٹ مار، عسکری بدعنوانی اور جنگجو سرداروں کی طرز کی سیاست سے تشبیہ دی گئی ہے۔
بدخشاں طالبان طرز حکمرانی کی عکاس تصویررپورٹ کے مطابق بدخشاں میں سونے کے مافیا، منشیات پر مبنی معیشت، مسلح سرپرستی کے نظام، شہریوں کو دباؤ میں رکھنے کے حربے اور مختلف جنگجو گروہوں کے درمیان مسابقت طالبان حکمرانی کی ایک واضح تصویر پیش کرتی ہے۔
اس صورتحال میں مقامی آبادی استحصال کا سامنا کررہی ہے جبکہ طالبان کے مختلف حلقے وسائل اور اثر و رسوخ کے حصول کی دوڑ میں مصروف ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق طالبان نے اقتدار میں آنے سے قبل نظم و ضبط، احتساب اور بدعنوانی کے خاتمے کے وعدے کیے تھے، تاہم بدخشاں کی صورتحال قندھاری قیادت کے مبینہ اختیارات پر قبضے، اندرونی اختلافات، معدنی وسائل کی لوٹ مار، منشیات سے جڑی بدعنوانی اور مسلح گروہی طرز عمل کو نمایاں کرتی ہے، جس سے یہ تاثر ابھرتا ہے کہ طالبان حکومت ایک مرکزی ریاستی نظام کے بجائے مختلف مسلح نیٹ ورکس کے اتحاد کی صورت اختیار کر چکی ہے جو اقتدار اور وسائل کی تقسیم پر باہمی کشمکش میں مبتلا ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews اختلافات افغان طالبان وسائل پر قبضے کی جنگ وی نیوز