سابق کرکٹر شعیب ملک کی اہلیہ اور اداکارہ ثناجاوید ایک بار پھر اپنی پوسٹ کی وجہ سے تنقید کی زد میں آگئیں۔

ڈرامہ سیریلز ’پیارے افضل‘ سے شہرت پانے والی سنا جاوید کا شمار پاکستان کی مشہور اور مقبول اداکاراؤں میں ہوتا ہے جب کہ سوشل میڈیا پر بھی ان کے چاہنے والوں کی تعداد لاکھوں میں ہے، صرف انسٹاگرام پر ان کے فالورز کی تعداد 9.

1 ملین ہے۔

ثنا جاوید کے دیگر نمایاں ڈراموں میں ذرا یاد کر، خانی، رومیو ویڈز ہیر، اے مشتِ خاک، کالا ڈوریا، مانا کا گھرانا اور سکون شامل ہیں۔

ثنا جاوید کی پہلی شادی گلوکار عمیر جیسوال سے ہوئی تھی جو طلاق پر ختم ہوئی جس کے بعد انہوں نے قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان شعیب ملک سے شادی کی، جن کی پہلی شادی بھارتی ٹینس اسٹار ثانیہ مرزا سے ہوئی تھی جس سے ان کا ایک بیٹا بھی ہے۔

حال ہی میں ثناجاوید نے دبئی سے اپنی خوبصورت تصاویر سوشل میڈیا پر شیئر کیں، جنہیں عوام کی جانب سے خوب سراہا گیا۔

ثناجاوید کی پوسٹ پر عمیر قاضی نے کمنٹ کرتے ہوئے کہا کہ ’مجھے یہ فوٹوگرافر چاہیے‘، جس پر اداکارہ نے جواب دیا کہ ’میں اپنا میاں کسی کو نہیں دے سکتی‘۔

تاہم، ثنا جاوید کا اپنے شوہر سے متعلق دیا گیا جواب بھاری پڑگیا اور صارفین نے انہیں تنقید کا نشانہ بنایا۔

کشف نامی صارف نے کمنٹ میں لکھا ’میں اپنا شوہر کسی کو نہیں دے سکتی، لیکن کسی اور کا لے سکتی ہوں‘۔

ایک اور صارف نے کہا کہ ’کیوں کہ میں نے خود کسی کا شوہر چھینا ہے‘۔

ایک اور کمنٹ میں لکھا گیا کہ ’سنو، یہ تمہارا شوہر نہیں، دراصل تم نے اسے کسی اور سے چھینا ہے‘۔

ایک اور صارف نے لکھا کہ ’کسی کو تمہارے شوہر کی ضرورت نہیں، اپنے پاس ہی رکھو‘۔

ٹ

TagsShowbiz News Urdu

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

کلیدی لفظ: پاکستان کھیل ثنا جاوید

پڑھیں:

میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے سی سی ڈی اہلکاروں کی جانب سے میاں بیوی اور تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھانے کے معاملے میں سی سی ٹی وی کیمروں کی وڈیو فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو متعلقہ ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہرام سرور چوہدری نے درخواست پر سماعت کی۔

درخواست گزار رحمان کی جانب سے ایڈووکیٹ ایاز صفدر سندھو نے دلائل دیئے۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سی سی ڈی گوجرانوالہ نے درخواست گزار کی بہن، بہنوئی اور ان کی تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھایا اور بعد ازاں میاں بیوی کے خلاف منشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کر دیا۔ مذکورہ میاں بیوی ایک مبینہ جعلی پولیس مقابلے کے مدعی ہیں اور پیروی سے باز نہ آنے پر انہیں جھوٹے مقدمے میں نامزد کیا گیا۔

(جاری ہے)

تین سالہ بچی بھی سی سی ڈی کی تحویل میں رہی تاہم درج مقدمے میں اس کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ عدالت سے استدعا کی گئی کہ متعلقہ مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔سماعت کے دوران جسٹس شہرام سرور چوہدری نے ریمارکس دیے کہ فوٹیج حاصل کرنا یا اسے محفوظ بنانا ہائیکورٹ کا کام نہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کے پاس سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے سمیت متعدد قانونی اختیارات موجود ہیں۔

عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ اپنی درخواست متعلقہ ٹرائل کورٹ میں دائر کرے کیونکہ اس حوالے سے حکم جاری کرنے کا اختیار اسی عدالت کے پاس ہے۔بعد ازاں عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔

متعلقہ مضامین

  • میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
  • فلاحی ریاست کا درس دینے والے غریبوں کے وظیفے پر سیخ پا کیوں؟ سعدیہ جاوید
  • بانی پی ٹی آئی نے مجھے وزیر اعلی نامزد کیا کوئی طاقت مجھے نہیں ہٹا سکتی;سہیل آفریدی
  • میں بالکل ٹھیک اور صحت مند ہوں؛گلوکارہ طاہرہ سید کی سوشل میڈیا افواہوں کی تردید
  • مومنہ اقبال کے شوہر کون، تفصیلات سامنے آگئیں
  • ورلڈ کپ تیاریوں کے لیے سست وکٹوں پر تنقید مسترد، مائیک ہیسن کا دوٹوک مؤقف
  • معروف میکسیکن انفلوئنسر گھر میں مردہ پائی گئیں، قتل کا شبہ
  • میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
  • میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
  • مومنہ اقبال اور حمزہ حبیب کی دعائے خیر کی تقریب، دلکش تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل