غفلت برتنے پر اسلام آباد پولیس کے 165 اہلکاروں کے خلاف کارروائی
اشاعت کی تاریخ: 1st, January 2026 GMT
اسلام آباد پولیس میں فرائض سے غفلت اور لاپرواہی برتنے پر سخت کارروائی عمل میں لاتے ہوئے 165 اہلکاروں کو سزائیں سنا دی گئی ہیں۔
ایس ایس پی آپریشنز نے نظم و ضبط کی خلاف ورزی پر تمام متعلقہ اہلکاروں کی ایک ایک سال کی سروس ضبط کرنے کے احکامات جاری کر دیے ہیں، جس کا باقاعدہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔
پولیس ذرائع کے مطابق مختلف اہم اور حساس ڈیوٹیوں کے دوران غیر حاضری اور غفلت کے واقعات سامنے آنے پر یہ کارروائی کی گئی۔ وی وی آئی پی روٹ کی سیکیورٹی ڈیوٹی سے غیر حاضر رہنے پر 12 اہلکاروں کو سزا دی گئی، جبکہ آزاد کشمیر میں تعینات ڈیوٹی سے غائب ہونے پر 36 اہلکاروں کے خلاف محکمانہ کارروائی عمل میں لائی گئی۔
اسی طرح سہہ ملکی سیریز کے دوران سیکیورٹی ڈیوٹی میں غفلت برتنے پر 32 اہلکاروں کو سزا دی گئی، جبکہ اسلام آباد پریس کلب میں احتجاج کے موقع پر ڈیوٹی سے غیر حاضر رہنے پر 21 اہلکاروں کو محکمانہ سزاؤں کا سامنا کرنا پڑا۔
بین الپارلیمانی کانفرنس جیسے اہم ایونٹ کے دوران 64 اہلکاروں کے ڈیوٹی سے غائب رہنے کے واقعات بھی رپورٹ ہوئے، جس پر سخت ایکشن لیا گیا۔
ایس ایس پی آپریشنز کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی جیسے حساس فرائض میں کسی بھی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی، اور مستقبل میں بھی فرائض سے غفلت برتنے والوں کے خلاف بلا امتیاز کارروائی جاری رکھی جائے گی۔ پولیس حکام کے مطابق اس اقدام کا مقصد فورس میں نظم و ضبط کو یقینی بنانا اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کو مزید مؤثر بنانا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل اہلکاروں کو ڈیوٹی سے
پڑھیں:
پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔
تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔
گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔