2027 تک معیشت سے سود کے خاتمے کا قطعی کوئی امکان نہیں،ڈاکٹر شاہد حسن صدیقی
اشاعت کی تاریخ: 1st, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی: چیئرمین ریسرچ انسٹیٹیوٹ آف اسلامی بینکنگ اینڈ فنانس کراچی ڈاکٹر شاہد حسن صدیقی نے کہا ہے کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے ڈپٹی گورنر نے 24 دسمبر 2025 کو کہا کہ اسلامی بینکاری صرف نام یا اصطلاحات تک محدود نہیں رہنی چاہیئےبلکہ اسلامی بینکوں کے تمام معاملات میں عملی طور پر اس کی جھلک بھی نظر آنی چاہیے۔
ڈاکٹر شاہد حسن صدیقی کا کہنا تھا کہ اسٹیٹ بینک نے 23 برس قبل بھی اسلامی بینک کی جو تاریخ دی تھی کہ یہ ایک ایسا بینکاری کا نظام ہے جو اسلام کی روح ، سماجی اخلاقیات اور ویلیوسسٹم سے ہم آہنگ ہو اور اسلامی شریعہ کے اصولو ں کے تابع ہو۔
ان کا کہناتھاکہ یہ بات واضح ہے کہ اسلامی بینکاری کے جھنڈے تلے کام کرنے والے بینک اس معیار پر پورا نہیں اترتے اور وہ 2006 سے پہلے بھی تواتر سے کہتے رہے ہیں کہ مروجہ اسلامی بینکاری کو سود کے نقش پا پر اور غیر اسلامی قرار دیتے رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اسٹیٹ بینک کا یہ بیان اسلامی بینکاری کے شروع ہونے کے 23 برس بعد ستمبر 2005 میں میری کتاب ’’ اسلامی بینکاری، غیر سودی یا سودی واستحصالی؟‘‘ کی اشاعت کے بعد سامنے آیا ہے ، مگر یہ امر افسوسناک ہے کہ اسٹیٹ بینک اس ضمن میں عملی اقدامات اٹھانے سے گریزاں ہے۔ اسلامی بینکاری سے متعلق اس کتاب میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ اسلامی بینکاری کے جھنڈے تلے کام کرنے والے بینک دراصل اسلامی بینک ہیں ہی نہیں۔ اور ان کی پروڈکٹس میں سود کی آمیزش ہوتی ہے اور اسلامی بینک اپنے کھاتے داروں کو سودی بینکوں کے مقابلے میں کم شرح سے منافع دے کر ان کا استحصال کررہے ہیں ، اپنی فنانسنگ (قرضوں کا متبادل) میں مقاصد شریعہ کو نظر انداز کررہے ہیں اور ان کی سرمایہ کاری میں بھی سود کی آمیزش ہوتی ہے۔
ڈاکٹر شاہد حسن صدیقی نے کہا کہ اسلامی بینک کی اس کتاب میں انہوں نے تجویز پیش کی تھی کہ موجودہ اسلامی بینکوں کو فوری طور پر بلاسودی بینک قرار دیا جائے اور ان کی تمام مصنوعات اور کاروبار سے سورہ البقرہ کی آیت278 کے مطابق سود کا شائبہ بھی نہ رہنے دیا جائے، تب ہی ان کو غیر سودی بینک کہا جاسکے گا۔
انہوں نے یہ بات زور دے کر کہی کہ اسٹیٹ بینک کو اسلامی بینکاری کے جھنڈے تلے کام کرنے والے بینکوں کوفوری طورپر اسلامی بینک کہنے سے روک دینا چاہیے،کیونکہ اس سے اسلام کے نام کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ رہا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ 26 ویں آئینی ترمیم کے باوجود 2027 تک معیشت سے سود کے خاتمے کا قطعی کوئی امکان نہیں ہے اور حکومت، اسٹیٹ بینک اور ایس ای سی کی جانب سے انتہائی بڑے پیمانے پرسود پر مبنی پروڈکٹ کو بڑے پیمانے پر بڑے اسلامی بینکوں میں استعمال کرنے کی منصوبہ بندی کی جارہی ہے جوکہ ایک المیہ ہوگا اور آنے والی دہائیوں میں اسلامی بینکاری کے نام پر سودی نظام کوفروغ دیا جاتا رہے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ڈاکٹر شاہد حسن صدیقی اسلامی بینکاری کے کہ اسلامی بینک کہ اسٹیٹ انہوں نے کہا کہ
پڑھیں:
باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
ایک نئی جنگ شروع ہوتی نظر آرہی ہے۔ یمن کے حوثیوں نے بحیرہ احمر سے باب المندب بند کر دیا ہے۔پہلے امریکا ایران جنگ کی وجہ سے دنیا جنگ کا شکار ہے۔ پوری کوشش کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا۔آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے دنیا میں تیل کی قیمتیں اوپر جا رہی ہیں۔ اب باب المندب کی بندش تیل کی قیمتوں کو مزید اوپر لے کر جائے گی۔ جس کی وجہ تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافہ اور ایک بحرانی کیفیت بنتی نظر آرہی ہے۔
باب المندب کی بندش کے بعد حوثیوں نے سعودی عرب کے دو تیل کے ٹینکرز کو بھی تباہ کر دیا ہے۔ ایک تیل کے ٹینکر کو میزائیل لگنے کی سعودی عرب نے تصدیق کر دی ہے۔ عالمی منڈی کا رحجان یہی رہا ہے کہ جب تیل کا ایک ٹینکر تباہ ہوتا ہے تو انشورنس ختم ہو جاتی ہے۔
کوئی کمپنی بھی اپنا جہاز وہاں سے گزارنے کے لیے تیار نہیں ہوتی۔ اس لیے حوثیوں کو باب المندب بند کرنے کے لیے دو جہاز ہی تباہ کرنے تھے ۔ باقی جہاز خود ہی آنے سے انکار کر دیں گے۔ اس لیے باب المندب بند ہوگیا ہے۔ اب جب تک یا تو حوثی اس کو کھولنے کا اعلان نہ کریں یا حوثیوں کی اس کو بند کرنے کی صلاحیت ختم نہ ہوجائے تب تک یہ کھل نہیں سکتا۔
حوثیوں کی جانب سے بندش کے اعلان کے بعد پاکستان کے دفتر خارجہ نے بھی ایک شدید سخت بیان جاری کیا تھا۔ جس میں کہا گیا تھا کہ اگر کسی پاکستانی جھنڈے کے حامل جہاز پر حملہ کیا گیا تو اس کا سخت جواب دیا جائے گا۔اس کے علاوہ باب المندب کی بندش کی مذمت بھی کی گئی تھی اور اس کے خلاف سخت رد عمل جاری کیا گیا تھا۔ لیکن اس بیان کے اگلے ہی دن سعودی عرب کے دو جہازوں پر حملہ کر دیا گیا ہے۔ یہ درست ہے کہ یہ پاکستانی جہاز نہیں تھے۔ لیکن یہ سعودی عرب کے جہاز تھے اور پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ بھی تھا۔
باب المندب بند کرنا لگتا ہے ایران کے لیے ناگزیر تھا۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کم ہی سہی لیکن ایک مناسب مقدار میں اپنا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کر رہے تھے۔ اس لیے ان کی تیل کی برآمد چل رہی تھی۔ کنویں بند نہیں ہو رہے تھے۔ وہاں کوئی خاص بحران نہیں تھا۔
دنیا کو بھی تیل مل رہا تھا اور ایسی خبریں آرہی تھیں کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات ایسی تیل کی لائنیں بچھا رہے ہیں کہ اگلے دو سال میں ان کا آبنائے ہرمز پر انحصار ختم ہو جائے گا۔ وہ اپنا سارا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کرنے کی پوزیشن میں ہونگے۔ یہ تیاری ایران کے آبنائے ہرمز پر کنٹرول رکھنے کی اہمیت کو کم کرنے کے لیے کی جا رہی ہے۔ اس لیے شائد ایران کو بھی سمجھ آگئی ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز سے جو بھی فائدہ اٹھانا ہے اس کی مدت کم ہے۔ عرب ممالک بالخصوص سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات متبادل بندوبست تیزی سے کر رہے ہیں۔
شائد اسی لیے ایران نے بھی حوثیوں کی حوصلہ افزائی کی ہے کہ وہ باب المندب بند کر دیں ۔ کیونکہ ایران کے پاس بھی وقت کم ہے۔ویسے بھی چند دن پہلے ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے مشیر نے ان کی طرف سے یہ بیان دیا تھا کہ اگر امریکا نے ایران پر بمباری بند نہ کی تو ایران جنگ کو وسیع کر دے گا۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ باب المندب بند کرنا جنگ کو وسیع کرنے کی ایک شکل ہے۔ جنگ پھیل گئی ہے۔ ایران جنگ کو پھیلانا چاہتا تھا تو اس نے پھیلا دی ہے۔
باب المندب سے دنیا کے تیل کی سات فیصد ترسیل ہوتی ہے۔ اس لیے سات فیصد کی ترسیل بند ہو گئی ہے۔ لیکن یہ صرف اتنی بات نہیں کئی ماہ سے یو اے ای اور سعودی عرب کے درمیان جاری سرد جنگ بھی یک دم ختم ہوگئی ہے۔ باب المندب بند ہونے کی خبر کیا آئی سعودی عرب اور یو اے ای میں صلح ہوگئی دونوں کے وزراء نے ایک دوسرے کے ساتھ تصویر پوسٹ کر دیں کہ ہم بھائی ہیں۔ آبنائے ہرمز کی بندش تو انھیں اکٹھا نہیں کر سکی لیکن باب المندب کی بندش نے انھیں اکٹھا کر دیا۔ اب آگے کا منظر نامہ کیا ہو سکتا ہے۔ پاکستان اورسعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ موجود ہے۔
اگر سعودی عرب باب المندب کھلوانے کے لیے حوثیوں کے ساتھ جنگ شروع کرتا ہے اور جواب میں حوثی سعودی عرب پر حملہ کرتے ہیں تو پاکستان اپنے دفاعی معاہدہ کے تحت سعودی عرب کے ساتھ کھڑے ہونے کا پابند ہوگا۔ کیسے اور کتنا، اس سوال کا ابھی تک کسی کے پاس کوئی جواب نہیں۔ لیکن حوثیوں نے یہ خبردار کیا ہے کہ اگر ان پر کسی بھی قسم کا کوئی بھی حملہ کیا گیا تو وہ سعودی عرب کی تیل اور دیگر تنصیبات کو نشانہ بنائیں گے۔ایک عمومی رائے یہ ہے کہ اتنی سخت بمباری کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا تو کیا صرف بمباری سے باب المندب کھلوایا جا سکے گا۔ حوثی بھی جواب میں میزائل ماریں گے۔
یہ درست ہے کہ ان کے پاس ایران جتنے میزائل نہیںہیں۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ان کے پاس میزائل ہیں۔ انھوں نے ماضی میں اسرائیل اور سعودی عرب پر میزائیل مارے بھی ہیں۔ شاید حوثیوں کو یہ لگ رہا ہے کہ جیسے ایران کی دیگر پراکسیوں کو ختم کیا جا رہا ہے۔ اگر وہ اس جنگ سے باہر رہتے ہیں تو بعد میں ان کی باری بھی آئے گی۔ اس لیے جنگ میں شامل ہونے کا یہ بہترین وقت ہے۔ باب المندب اور آبنائے ہرمز کا معاملہ اکٹھے طے کیا جائے، مل کر بات کی جائے، اس سے طاقت بڑھ جائے گی۔
اب سوال یہی ہے کہ پاکستان ایران امریکا لڑائی میں تو غیر جانبدار رہا۔ جس کی وجہ سے وہ آج تک ثالث ہے۔ لیکن کیا وہ باب المندب کی بندش اور سعودی عرب اور حوثیوں کی لڑائی میں بھی غیر جانبدار رہے گا۔ عملی طور پر یہ ممکن نظر نہیں آرہا۔ پاکستان کو سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہونا پڑے گا۔ اس کے علاوہ کوئی اور حل نظر نہیں آرہا۔ امریکا ایران میں مصروف ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے باب المندب کھلوانے کے لیے کردار ادا کرنے کا اعلان کیا ہے۔ لیکن پہلی ترجیح ایران ہی ہوگا۔ ایسے میں یہ لڑائی فی الحال سعودی عرب کو خود ہی لڑنی ہوگی۔ اگر پاکستان اس لڑائی میں شریک ہوتا ہے تو پھر اس کی ثالث کی پوزیشن بھی ختم ہو جائے گی۔ ایران پاکستان کو بھی لڑائی میں فریق سمجھے گا۔ خدشہ ہے کہ پاکستان بھی نہ چاہتے ہوئے لڑائی میں شامل ہو جائے گا۔ ہم پہلے بھی ایران کو بتا چکے ہیں کہ سعودی عرب ہماری ریڈ لائن ہے۔ لیکن شائد حوثی پاکستان کی اس بات کو نہیں سمجھیں گے، وہ سعودی عرب پر حملے کریں گے۔
اس تناظر میں دیکھا جائے تو لڑائی وسیع ہو رہی ہے۔ ایک خطرناک منظر نامہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ حوثیوں کے خلاف لڑائی میں پاکستان سعودی عرب ، یو اے ای ، امریکا اور اسرائیل مل کر لڑ رہے ہوں۔ یہ بھی لڑائی کی کوئی اچھی شکل نہیں ہوگی۔ لیکن اس کو مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ یہ ممکن ہے۔