مہنگائی میں کمی سے متعلق حکومت کے اشاریے گمراہ کُن اور جھوٹ قرار
اشاعت کی تاریخ: 1st, January 2026 GMT
آل کراچی تاجر اتحاد کے سربراہ عتیق میر نے کہا کہ معاشی حب کراچی مکمل طور پر مافیاز کا شہر بن گیا، تاجر و صنعتکار بھتہ خوروں کی زد میں رہے، چار کروڑ آبادی کا شہر ناقابلِ برداشت مہنگائی، بیروزگاری، تجاوزات، زمینوں پر ناجائز قبضے، ٹریفک کی بدنظمی، پانی کا بحران، بدامنی، لاقانونیت اور اذیتناک بلدیاتی عذاب سے دوچار رہا۔ اسلام ٹائمز۔ چھوٹے تاجروں نے سال 2025ء کو کاروباری، سرمایہ کاری، بیروزگاری اور مہنگائی کے اعتبار سے تاریخ کا بدترین سال قرار دے دیا۔ انہوں نے کہا کہ 2025ء میں تجارتی سرگرمیاں 60 فیصد سے بھی کم رہیں، سیاسی عدمِ استحکام نے معاشی بحران کو جنم دیا، مستقبل سے مایوسی اور غیریقینی صورتحال سے مقامی مارکیٹ پر سرمایہ کاروں کا اعتماد متزلزل رہا اور نئے تجارتی اور صنعتی یونٹس قائم نہ ہو سکے۔ آل کراچی تاجر اتحاد کے سربراہ عتیق میر کی مرتب کردہ رپورٹ کے مطابق سال 2025ء تالہ بندی کا سال رہا، لاتعداد صنعتوں اور کاروبار کی بندش سے بیروزگاری میں ہولناک اضافہ ہوا، سرمائے کی بیرون ملک منتقلی کا رحجان بڑھ گیا، مسلسل بڑھتی ہوئی ہولناک اور ناقابلِ برداشت مہنگائی نے 2025ء کو غریب اور متوسط طبقے کیلئے ڈراؤنا خواب بنا دیا۔
آل کراچی تاجر اتحاد کی رپورٹ کے مطابق ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچانے کے دعویدار صنعت و تجارت کو دیوالیہ ہونے سے نہ بچا سکے، 2025ء میں سرکاری شعبوں کی کارکردگی بدترین رہی اور عاقبت نااندیش اور غفلت میں ڈوبے حکمرانوں نے بیرونی سرمایہ کاری کے نام سے 35 غیرملکی دورے کیے، لیکن ایک دھیلہ بھی نہ آیا بلکہ مقامی سرمایہ بھی بیرونِ ملک منتقل ہوتا رہا۔ رپورٹ میں کہا کہ ملک کو معاشی بحران سے نکالنے کی کوئی بھی سنجیدہ کوشش اور حکمت عملی نظر نہیں آئی، 2026ء میں بھی دور دور تک مشکلات کے خاتمے اور بہتری کی امید نظر نہیں آ رہی۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ ٹیکسوں کی بھرمار، بجلی، گیس، پیٹرول اور ڈالر کی ناقابلِ برداشت قیمتوں اور مصنوعی مہنگائی کی روک تھام نہ ہونے کے نتیجے میں معیشت مسلسل زوال پذیر اور ضروریات زندگی کی اشیاء غریب و متوسط طبقے کی پہنچ سے دور ہوگئیں۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ تاجروں کے کسی بھی سیل سیزن پر مارکیٹوں میں روائتی رونقیں، گہما گہمی اور خریداری دیکھنے میں نہ آ سکی، حکمران مہنگائی میں کمی اور معاشی بحالی کے ٹھوس اقدامات کرنے کے بجائے مصنوعی اور گمراہ کُن اشاریوں سے عوام کا دل بہلاتے رہے، اسٹاک مارکیٹ بلند ترین سطح پر اور تجارت پست ترین درجے پر رہی۔ آل کراچی تاجر اتحاد کے سربراہ عتیق میر نے کہا کہ دال، گھی دودھ، گوشت، سبزیاں اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں روزانہ کی بنیاد پر اضافہ ہوتا رہا، معاشی حب کراچی مکمل طور پر مافیاز کا شہر بن گیا، تاجر و صنعتکار بھتہ خوروں کی زد میں رہے، چار کروڑ آبادی کا شہر ناقابلِ برداشت مہنگائی، بیروزگاری، تجاوزات، زمینوں پر ناجائز قبضے، ٹریفک کی بدنظمی، پانی کا بحران، بدامنی، لاقانونیت اور اذیتناک بلدیاتی عذاب سے دوچار رہا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: آل کراچی تاجر اتحاد کہا کہ کا شہر
پڑھیں:
کراچی میں کھلے مین ہول میں گر کر 7 سالہ بچہ جاں بحق
شہر قائد کے علاقے مواچھ گوٹھ میں کھلے مین ہول میں گر کر 7 سالہ بچہ جاں بحق ہوگیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق مواچھ گوٹھ کے نور شاہ محلے میں 7 سالہ بچہ کھلے مین ہول میں گرکر جاں بحق ہوا جس کی شناخت جہانگیر کے نام سے کی گئی۔
ایس ایچ او موچکو واقعے کی تصدیق کی اور بتایا کہ بچہ گھر کے قریب کھیلتے ہوئے کھلے مین ہول میں گرا۔
کھلے مین ہول میں گرکر بچے کی ہلاکت پر اہل خانہ شدت غم سے نڈھال ہوگئے اور واقعے کے بعد علاقہ مکینوں میں شدید اشتعال پھیل گیا۔
مواچھ گوٹھ میں کھلے مین ہول میں گرنے سے بچے کی ہلاکت کے بعد علاقہ مکینوں نے بچے کی میت رکھ کر احتجاج کیا اور حب ریور روڈ و ناردرن بائی پاس پر ٹریفک کو بند کردیا۔