شیخ ابو عبیدہ: نقاب میں چھپا چہرہ، تاریخ میں روشن نشان
اشاعت کی تاریخ: 1st, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260102-03-6
میر بابر مشتاق
کچھ آوازیں جسم کی محتاج نہیں ہوتیں۔ وہ لہجے، ارادے اور ایمان سے جنم لیتی ہیں۔ شیخ ابو عبیدہ بھی ایسی ہی ایک آواز تھے۔ نقاب میں لپٹی ہوئی، مگر پوری امت کے دل میں اُترتی ہوئی۔ ان کی شہادت کی خبر محض ایک فرد کے دنیا سے رخصت ہونے کی اطلاع نہیں، یہ اْس عہد کی علامت ہے جس میں لفظ، مزاحمت اور قربانی ایک دوسرے میں مدغم ہو گئے تھے۔ غزہ کی گلیوں سے اٹھنے والی یہ آواز آج جسمانی طور پر خاموش ہو چکی ہے، مگر تاریخ کے کاغذ، ضمیر کے آئینے اور آنے والی نسلوں کے حافظے میں اس کی گونج باقی رہے گی۔ شیخ ابو عبیدہ کا امتیاز یہ تھا کہ وہ محض ترجمان نہیں تھے؛ وہ بیانیہ تھے۔ ایسے بیانیے کے علمبردار جس نے طاقت کے نشے میں بدمست دنیا کو یہ باور کرایا کہ حق، اگرچہ بے سروسامان ہو، تب بھی باطل کے ایوانوں کو لرزا دیتا ہے۔ ان کا ہر خطاب، ہر جملہ، ہر وقفہ ایک منظم مزاحمتی حکمت ِ عملی کا حصہ تھا۔ وہ لفظوں کو ہتھیار بناتے تھے، مگر نفرت کے نہیں؛ یقین کے۔ خوف پھیلانے کے نہیں؛ حوصلہ جگانے کے۔ ان کے نقاب نے دنیا کو متجسس رکھا، مگر ان کی آنکھوں کی چمک اور لہجے کی ٹھیراؤ نے اہل ِ ایمان کو مطمئن کیا۔ وہ اپنے چہرے کی نمائش سے بے نیاز رہے، کیونکہ ان کی ترجیح ذات نہیں، مقصد تھا۔ یہی وجہ ہے کہ دشمن ان کی شناخت کے پیچھے بھاگتا رہا اور وہ شناخت سے ماورا ہو کر تاریخ میں جگہ بناتے رہے۔ اس گم نامی میں ایک عظمت تھی ایسی عظمت جو خود کو پس منظر میں رکھ کر قوم کو پیش منظر میں لے آئے۔ غزہ کے اندھیرے میں، جب بموں کی گھن گرج نے راتوں کو یرغمال بنایا، ابو عبیدہ کی آواز امید کی چراغ بن کر ابھری۔ وہ شکست کے لمحوں میں بھی شکستہ نہیں ہوئے۔ انہوں نے واضح کیا کہ مزاحمت محض بندوق کا نام نہیں؛ یہ صبر، نظم، اخلاقی برتری اور مسلسل استقامت کا نام ہے۔ ان کے بیانات میں جذباتیت کم، مقصدیت زیادہ تھی۔
شیخ ابو عبیدہ کی شہادت نے عالمی برادری کے اصل چہرے بے نقاب کر دیے ہیں۔ مغربی ممالک کا ردعمل نمایاں طور پر خاموش رہا۔ امریکا، برطانیہ اور یورپی یونین کی جانب سے کوئی باقاعدہ بیان جاری نہیں کیا گیا، جو درحقیقت اسرائیل کے ساتھ ان کے اخلاقی اور سیاسی اتحاد کی خاموش تصدیق ہے۔ اس خاموشی نے ایک بار پھر ثابت کیا کہ مغربی جمہوریتیں انسانی حقوق کا نعرہ صرف اپنے مفادات کی تکمیل تک ہی استعمال کرتی ہیں۔ عرب دنیا کا ردعمل انتہائی تقسیم کا شکار رہا۔ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور بحرین جیسے ممالک نے رسمی افسوس کا اظہار کیا، مگر اسرائیل کے ساتھ نارملائزیشن معاہدوں (ابراہیم ایکارڈز) پر عمل درآمد جاری رکھا۔ دوسری طرف، ایران، حزب اللہ اور یمن کے انصاراللہ نے واضح اور پرزور انداز میں شہادت پر خراج تحسین پیش کیا اور مزاحمت کو جاری رکھنے کا عہد کیا۔ ترکیے کے رجب طیب اردوان نے ذاتی طور پر تعزیت کا اظہار کیا اور ابو عبیدہ کو ’’فلسطین کی آواز‘‘ قرار دیا۔ ملائیشیا اور انڈونیشیا جیسے مسلم ممالک نے فلسطینی مزاحمت کے حق کو تسلیم کرتے ہوئے اسرائیل پر جنگی جرائم کے ارتکاب کا الزام عائد کیا۔ بین الاقوامی تنظیموں کا موقف بھی دلچسپ رہا۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اس معاملے پر متحد ہونے میں ناکام رہی، جس کی بڑی وجہ امریکا کی ویٹو پاور ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں، خاص طور پر ایمنسٹی انٹرنیشنل اور ہیومن رائٹس واچ، نے اسرائیلی فوج کی کارروائیوں پر تشویش کا اظہار کیا، مگر مزاحمتی رہنماؤں کی شہادت پر واضح موقف اختیار کرنے سے گریز کیا۔
ابو عبیدہ جیسی مرکزی شخصیات کا فقدان درحقیقت تحریک کو زیادہ پائیدار بنانے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ مستقبل میں ہم چھوٹے، خودمختار یونٹس دیکھ سکتے ہیں جو باہم مربوط ہوں گے، جس سے دشمن کے لیے نشانہ بنانا مشکل ہو جائے گا۔ ایران، حزب اللہ اور یمن کی حمایت کے باوجود، فلسطینی مزاحمت کو عرب دنیا میں اپنی حمایت کو وسعت دینے کی ضرورت ہے۔ عرب عوام کی ہمدردی تو موجود ہے، مگر حکومتی سطح پر حمایت حاصل کرنا ایک بڑا چیلنج رہے گا۔ ابو عبیدہ کی شہادت نوجوان کارکنوں کے لیے ایک چیلنج اور موقع دونوں ہے۔ غزہ کی نوجوان نسل، جو پوری زندگی محاصرے اور جنگ میں گزار چکی ہے، اب قیادت کے میدان میں آ رہی ہے۔ یہ نوجوان جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ ہیں اور عالمی سیاست کی پیچیدگیوں سے بھی آگاہ ہیں۔ ان کی قیادت میں مزاحمت کا رنگ بدل سکتا ہے۔ مستقبل میں فلسطینی مزاحمت قانونی محاذ پر زیادہ فعال ہوگی۔ بین الاقوامی عدالت انصاف اور دیگر فورموں کے ذریعے اسرائیل کے خلاف مقدمات لڑے جائیں گے۔ یہ قانونی جنگ میدان جنگ کا ہی ایک توسیعی محاذ ہوگی، جہاں ثبوت، دستاویزات اور قانونی دلائل ہتھیاروں کا کام کریں گے۔ڈیجیٹل دور میں مزاحمت کا نیا محاذ سائبر اسپیس ہے۔ فلسطینی کارکنان پہلے ہی سوشل میڈیا پر بیانیاتی جنگ لڑ رہے ہیں۔ مستقبل میں ہم ڈیجیٹل ہیکٹیویزم، آن لائن تنظیم کاری اور ورچوئل یکجہتی مہمات میں اضافہ دیکھ سکتے ہیں۔ یہ نئی جنگ میدان جنگ سے کم اہم نہیں ہوگی۔
شہادت کا تصور ہمارے ہاں محض موت نہیں؛ یہ زندگی کی توسیع ہے۔ شیخ ابو عبیدہ کی شہادت بھی اسی توسیع کا اعلان ہے۔ وہ اپنے ربّ کے حضور سرخرو ہوئے، مگر پیچھے سوالات چھوڑ گئے ہم کہاں کھڑے ہیں؟ ہم نے مظلوم کے حق میں کیا کیا؟ ہم نے اپنے ضمیر کی قیمت پر کون سی خاموشیاں خریدیں؟ یہ سوالات ہمیں چین سے بیٹھنے نہیں دیں گے، اور یہی ان کی سب سے بڑی فتح ہے۔
آج، جب عالمی میڈیا کی آنکھیں اکثر طاقت کے ترازو میں جھکی رہتی ہیں، ابو عبیدہ کی کہانی ہمیں یاد دلاتی ہے کہ تاریخ کا انصاف فوری نہیں ہوتا، مگر لازمی ہوتا ہے۔ جو سچ آج دبایا جاتا ہے، وہ کل گواہی بن جاتا ہے۔ اور جو خون آج زمین میں جذب ہوتا ہے، وہ کل بیج بن کر اُگتا ہے۔ غزہ کی مٹی نے ایسے ہی بیج قبول کیے ہیں اور ابو عبیدہ ان میں نمایاں ہیں۔ ان کی شہادت پر آنسو بہانا فطری ہے، مگر اس سے بڑھ کر ضروری ہے کہ ہم ان کے پیغام کو زندہ رکھیں۔ پیغام یہ کہ ظلم کے سامنے خاموشی بھی جرم ہے۔ پیغام یہ کہ اتحاد، نظم اور مقصدیت کے بغیر قربانیاں ضائع ہو جاتی ہیں۔ پیغام یہ کہ ایمان، جب اجتماعی شعور بن جائے، تو ناقابل ِ شکست قوت بن جاتا ہے۔ شیخ ابو عبیدہ کے جانے سے ایک خلا پیدا ہوا ہے، مگر یہ خلا ہمیں پکار رہا ہے کہ ہم اسے پر کریں اپنے کردار سے، اپنے قلم سے، اپنے موقف سے۔ آج اگر ہم ان کی یاد کو محض جذباتی نعروں تک محدود کر دیں، تو یہ ان کی قربانی سے ناانصافی ہوگی۔ ان کی یاد کا حق یہ ہے کہ ہم سچ بولیں، مظلوم کا ساتھ دیں، اور باطل کے بیانیے کو دلیل، اخلاق اور استقامت سے شکست دیں۔
آخر میں، یہ کہنا بیجا نہ ہوگا کہ ابو عبیدہ ایک فرد نہیں تھے؛ وہ ایک مدرسہ تھے۔ مزاحمت کا، وقار کا، اور ایمان کا۔ ان کی شہادت اس مدرسے کی بندش نہیں، اس کی توسیع ہے۔ شاگرد اب زیادہ ہیں، ذمے داری بھی زیادہ ہے۔ مستقبل کی مزاحمت زیادہ جامع، زیادہ دانشمندانہ اور زیادہ مؤثر ہوگی۔ شیخ ابو عبیدہ نے جو بیانیہ تخلیق کیا، وہ اب ہر اس انسان کا مشن بن گیا ہے جو ظلم کے خلاف کھڑا ہونے کا عزم رکھتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کی شہادت قبول فرمائے، ان کے درجات بلند کرے، اور ہمیں ان کے نقش ِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ابو عبیدہ کی ان کی شہادت
پڑھیں:
عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ عوامی خدمت، فوری انصاف، مؤثر گورننس اور شفاف احتساب کے ذریعے وزیراعلیٰ سندھ کے عوام دوست وڑن کو مزید مضبوط بنایا جائے گا، جبکہ تمام متعلقہ محکمے شہریوں کے مسائل کے بروقت، پائیدار اور مؤثر حل کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری دیانت داری اور پیشہ ورانہ انداز میں ادا کریں گے۔ اسلام ٹائمز۔ وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار نے وزیراعلیٰ سندھ کے مرکزی شکایات سینٹر کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے ٹیلیفون پر شہریوں کی شکایات اور مسائل براہِ راست سنے اور مختلف سرکاری محکموں سے متعلق موصول ہونے والی درخواستوں کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اس موقع پر متعلقہ افسران کو شکایات کے فوری، شفاف اور مؤثر ازالے کے لیے ضروری ہدایات بھی جاری کی گئیں۔ وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ عوامی مسائل کے حل میں غیر ضروری تاخیر کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی اور تمام متعلقہ ادارے مقررہ مدت کے اندر شکایات کے ازالے کو یقینی بناتے ہوئے اپنی تعمیلی رپورٹس پیش کریں۔ انہوں نے واضح کیا کہ شہریوں کو بروقت ریلیف کی فراہمی حکومت سندھ کی اولین ترجیح ہے اور ہر جائز شکایت پر فوری، منصفانہ اور مؤثر کارروائی کی جائے گی۔
ضیاء الحسن لنجار نے کہا کہ شہریوں کو سرکاری دفاتر کے چکر لگانے پر مجبور کرنے کے بجائے ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کے مسائل ان کی دہلیز پر حل کریں۔ انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ درخواست گزاروں کو ہر شکایت پر ہونے والی عملی پیش رفت سے باقاعدگی سے آگاہ رکھا جائے تاکہ عوام اور سرکاری اداروں کے درمیان اعتماد کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ شکایات کے ازالے میں غفلت، لاپرواہی یا غیر ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرنے والے افسران کے خلاف قانون اور قواعد کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی خدمت صرف ایک انتظامی ذمہ داری نہیں بلکہ حکومت کی بنیادی ترجیح ہے، جس کے لیے تمام متعلقہ محکموں کو جوابدہی اور اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔