Jasarat News:
2026-06-02@20:42:57 GMT

بھارت اسرائیل جڑواں ریاستیں

اشاعت کی تاریخ: 1st, January 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

ہندو اور یہودی بھارت اور اسرائیل کی شکل میں خطہ ٔ زمین پر ناسور ہیں‘ دونوں کے دل ایک ساتھ دھڑکتے ہیں‘ حرکتیں بھی ایک جیسی ہیں اور کرتوت بھی ایک جیسے ہیں۔ دونوں توسیع پسندانہ عزائم رکھتے ہیں‘ ناجائز قبضے ان دونوں کی پہچان ہے‘ کشمیر اور فلسطین کی سرزمین اس کی ایک مثال ہے۔ اب اسرائیل نے ایک اور حرکت کی ہے‘ صومالیہ کے علاقے صومالی لینڈ کو ایک الگ ملک کے طور پر تسلیم کرلیا ہے‘ پاکستان اور مسلم ممالک نے اسے مسترد کرکے بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ اعلامیے میں واضح کیا گیا ہے کہ 26 دسمبر 2025ء کو اسرائیل کی جانب سے اْٹھایا جانے والا یہ غیرمعمولی قدم ’’ہارن آف افریقا‘‘ اور بحیرۂ احمر کے خطے کے اَمن اور سلامتی کے لیے سنگین خطرہ بن سکتا ہے۔ مشترکہ بیان میں اسرائیل کے اِس اقدام کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی گئی ہے کہ کسی ملک کے کسی حصے کو علٰیحدہ ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اقوامِ متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی اصولوں کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ یہ عمل ریاستوں کی علاقائی سالمیت اور خود مختاری کے تحفظ کے عالمی اصولوں کے منافی ہے اور اسرائیل کے ’’توسیع پسندانہ عزائم‘‘ کی عکاسی کرتا ہے۔

اعلامیے میں وفاقی جمہوریہ صومالیہ کی وحدت اور اِس کے تمام علاقوں پر اْس کی حاکمیت کی بھرپور حمایت کا اعادہ کیا گیا اور صومالیہ کی تقسیم کی کسی بھی کوشش کو عالمی اَمن کے لیے ایک خطرناک مثال قرار دیا گیا۔ اِس اعلامیے کا ایک اہم پہلو اسرائیل کے اِس اقدام کا فلسطین کے تناظر میں جائزہ لینا بھی تھا، مسلم ممالک نے اِس خدشے اور اِمکان کو مکمل طور پر مسترد کیا کہ اِس قسم کے اقدامات کا مقصد فلسطینی عوام کو اْن کی اپنی سرزمین سے زبردستی بے دخل کرنے کی کسی کوشش سے جْڑا ہو سکتا ہے، انہوں نے واضح کر دیا کہ فلسطینیوں کی جبری بے دخلی کسی بھی صورت قبول نہیں کی جائے گی۔ مسلم اْمہ صومالیہ کی علاقائی سالمیت کے تحفظ اور عالمی قوانین کی بالادستی کے لیے متحد ہے۔ اسرائیل کے سرپرست صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی صومالی لینڈ کو بطور ایک آزاد ریاست تسلیم کرنے کے امکان کو مسترد کیا ہے اور تیل دیکھو تیل کی دھار دیکھو‘ کی پالیسی اپنا لی ہے۔ امریکا تو اسرائیل کو تسلیم کرانے کے لیے زور لگا رہا ہے وہ اس وقت مسلم دنیا کو ناراض نہیں کرنا چاہتا مگر اس نے اسرائیل کو صومالی لینڈ کے معاملے پر جاحانہ انداز میں منع بھی نہیں کیا‘ یہی اس کی منافقت کی معراج ہے۔

نائب وزیر ِاعظم اور وزیر ِ خارجہ اسحاق ڈار سے صومالیہ کے وزیر خارجہ عبدالسلام عبدی علی نے ٹیلی فونک رابطہ کیا تھا اور سلامتی کونسل میں پاکستان سے تعاون کی درخواست کی تھی پاکستان نے انہیں اقوام متحدہ سمیت ہر فورم پر مکمل حمایت کا یقین دلایا ہے‘ اسرائیل کی جانب سے صومالیہ کی ریاست صومالی لینڈ کو خودمختار ملک تسلیم کرنے کے اقدام پر اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس بھی طلب کیا گیا ہے مگر اصل سوال یہ ہے کہ فیصلہ کیا ہوگا؟۔ اسرائیل نے صومالیہ کے علٰیحدگی پسند خطے ’’صومالی لینڈ‘‘ کو باضابطہ طور پر ایک آزاد ملک کے طور پر تسلیم کرنے کا اعلان کرکے دنیا بھر کو چیلنج دیا ہے اسرائیل اب اس علاقے کی زرعت اور دیگر شعبوں سے بھی تعاون کے نام پر عرق چوسنا چاہے گا! اسرائیل کا یہ اقدام در اصل مسلم امہ کے لیے ایک نیا امتحان ہے کہ مسلم ممالک خودمختاری پر حملہ ہوا ہے۔

صومالیہ کا جغرافیہ بہت اہم ہے یہ مشرقی افریقا کے ساحل پر ہے، اِس کے شمال میں خلیج عدن اور جبوتی، مغرب میں ایتھوپیا، مشرق میں بحر ِ ہند اور جنوب میں کینیا واقع ہیں۔ انیسویں صدی میں اس کا کچھ حصہ اطالوی سامراج کے قبضے میں چلا گیا تھا اور شمال مغربی علاقہ برطانوی کنٹرول میں رہا۔ صومالیہ 1960ء میں آزاد ہوا اور اطالوی اور برطانوی زیر ِانتظام علاقوں کو ملا کر ’’متحدہ جمہوریہ صومالیہ‘‘ قائم ہوا، 1969ء میں فوجی بغاوت ہوگئی محمد سیاد بری نے منتخب صدر عبد الرشید شارمارکے کو قتل کردیا اور صومالیہ اشتراکی ریاست بن گئی فوجی حکومت 22 سال تک رہی اور ملک میں نئے نئے تنازعات ابھرتے رہے، 1991ء میں یہاں فوجی حکومت ختم ہوئی تو جاتے جاتے ملک کو بے شمار مسائل میں دھکیل گئی فوجی حکومت کے جاتے ہی وہاں وار لینڈ سرداروں نے سر اْٹھا لیا، ایک بار پھر خانہ جنگی شروع ہو گئی جو کئی دہائیوں تک جاری رہی۔ 1991ء ہی میں برطانوی زیر ِ انتظام رہنے والے شمالی علاقے پر مشتمل ’’جمہوریہ صومالی لینڈ‘‘ کی آزادی کا اعلان کر دیا تاہم اِسے کسی ملک یا عالمی ادارے کی جانب سے تسلیم نہیں کیا گیا اب اسرائیل نے 26 دسمبر 2025ء کو یہ حرکت کی ہے یہ بات بھی ریکارڈ پر ہے کہ صومالی لینڈ کی اپنی کرنسی، پاسپورٹ اور پولیس فورس ہے۔ 1998ء میں ایک حصہ ’’پونٹ لینڈ‘‘ نے بھی نیم خودمختار انتظامی نظام کا اعلان کیا تھا، اِس نے صومالی لینڈ کے برعکس مکمل آزادی کا اعلان نہیں کیا بلکہ صومالیہ کا حصہ رہتے ہوئے خودمختاری کو ترجیح دی تھی‘ یہاں یہ سارے مسائل فوجی حکومت کے دیے ہوئے ہیں۔ یہاں دو سوال ہیں پہلا صومالیہ کے بارے میں کہ مسلم امہ کیا کرتی رہی؟ دوسرا یہ کہ اسرائیل اب کیوں کودا ہے؟ یہ دراصل ’’ابراہام اکارڈ‘‘ پر مسلم دنیا کو لانے کی بلیک میلنگ ہے اور مسلم دنیا کشمیر کی طرح یہاں بھی خاموش رہے گی؟

 

میاں منیر احمد.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: صومالی لینڈ اسرائیل کے صومالیہ کے فوجی حکومت صومالیہ کی کا اعلان کیا گیا نہیں کی کے لیے

پڑھیں:

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے لبنان میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں میں اضافے پر اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کو سخت تنبیہ کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ مزید حملے نہ صرف خطے میں کشیدگی بڑھا سکتے ہیں بلکہ اسرائیل کو عالمی سطح پر مزید تنہائی کا شکار بھی کر سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: لبنان جنگ بندی پراتفاق ہونے کے بعد امریکا، ایران مذاکرات دوبارہ تیز رفتاری سے شروع ہو گئے ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ کا اعلان

امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق پیر کو دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی ٹیلیفونک گفتگو خاصی کشیدہ رہی جس میں ٹرمپ نے لبنان میں جاری اسرائیلی کارروائیوں اور بیروت میں ممکنہ حملوں کے منصوبوں پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔

امریکی صدر نے نیتن یاہو کو باور کرایا کہ بیروت پر حملہ خطے میں حالات کو مزید خراب کر سکتا ہے، اسرائیل کی بین الاقوامی ساکھ کو نقصان پہنچا سکتا ہے اور ایران کے ساتھ جاری سفارتی مذاکرات کو بھی پیچیدگیوں سے دوچار کر سکتا ہے۔

یکم جون کو جنوبی لبنان کے شہر صور میں ایک اسپتال کے قریب اسرائیلی حملے کے مقام پر امدادی کارکن اور ریسکیو اہلکار جمع ہیں۔

یہ گفتگو ایسے وقت میں ہوئی جب ایران نے لبنان میں اسرائیلی کارروائیوں پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے امریکا کے ساتھ جاری مذاکرات سے دستبرداری کا عندیہ دیا ہے۔ ٹرمپ کے قریبی ذرائع کے مطابق امریکی صدر کو خدشہ ہے کہ اگر تنازع مزید پھیلا تو خطے میں استحکام کے لیے جاری سفارتی کوششیں متاثر ہو سکتی ہیں۔

اطلاعات کے مطابق ٹرمپ نے اسرائیل کے دفاع کے حق کو تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ حزب اللہ کی جانب سے حملوں کا جواب دینا اسرائیل کا حق ہے تاہم انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ موجودہ فوجی ردعمل ضرورت سے زیادہ ہے اور اس کے نتیجے میں شہری ہلاکتوں اور تباہی میں اضافہ ہو رہا ہے۔

مزید پڑھیے: امریکا کی 250ویں سالگرہ کی تقریبات تنازع کا شکار، فنکاروں کی علیحدگی پر صدر ٹرمپ برہم

رپورٹس کے مطابق امریکی صدر نے خاص طور پر ان کارروائیوں پر اعتراض کیا جن میں حزب اللہ کے کمانڈروں کو نشانہ بنانے کے لیے رہائشی عمارتوں پر وسیع بمباری کی جاتی ہے۔ ان کا مؤقف تھا کہ اس طرزِ عمل سے اسرائیل کے خلاف عالمی تنقید میں اضافہ ہو رہا ہے۔

حکام کے مطابق گفتگو کے دوران ٹرمپ نے نیتن یاہو کو خبردار کیا کہ بیروت پر حملے کی منظوری اسرائیل کو مزید عالمی تنہائی کی طرف دھکیل سکتی ہے اور اتحادی ممالک میں بھی تشویش پیدا کر سکتی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اس سخت مؤقف کے بعد اسرائیل نے بیروت میں بعض اہداف پر مجوزہ حملوں کا منصوبہ مؤخر کر دیا۔ بعد ازاں ایک اسرائیلی عہدیدار نے بھی اشارہ دیا کہ فی الحال بیروت پر حملے کا کوئی فوری منصوبہ نہیں تاہم جنوبی لبنان میں فوجی کارروائیاں جاری رہیں گی۔

ٹرمپ سے گفتگو کے بعد جاری بیان میں نیتن یاہو نے کہا کہ اگر حزب اللہ کی جانب سے حملے جاری رہے تو بیروت میں اہداف کو نشانہ بنانے کا آپشن بدستور موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل اپنی سلامتی کے خلاف خطرات کے خاتمے کے لیے کارروائیاں جاری رکھے گا۔

مزید پڑھیں: امریکی صدر ٹرمپ کا طبی معائنہ: کام کے لیے ِفٹ قرار، صحت بہترین، وزن کم کرنے کا مشورہ

تجزیہ کاروں کے مطابق اگرچہ ٹرمپ اور نیتن یاہو ایران سمیت کئی علاقائی معاملات پر قریبی رابطے میں رہے ہیں تاہم لبنان کے معاملے پر حالیہ اختلافات دونوں رہنماؤں کے درمیان بڑھتے ہوئے مؤقف کے فرق کی نشاندہی کرتے ہیں۔

صدر ٹرمپ کی تشویش کی ایک بڑی وجہ ایران کے ساتھ جاری مذاکرات ہیں جنہیں امریکی انتظامیہ خطے میں کشیدگی کم کرنے کی وسیع تر حکمت عملی کا حصہ سمجھتی ہے۔

ٹیلیفونک گفتگو کے کچھ ہی دیر بعد ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر کہا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں تاہم امریکی حکام کا ماننا ہے کہ لبنان کی صورتحال ان مذاکرات کے مستقبل پر براہِ راست اثر انداز ہو سکتی ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ صورتحال امریکا کے لیے ایک نازک توازن کی عکاسی کرتی ہے جہاں ایک جانب واشنگٹن اسرائیل کی سلامتی کی حمایت جاری رکھنا چاہتا ہے جبکہ دوسری جانب وہ خطے میں وسیع جنگ کے خدشات کو کم کرنے کے لیے سفارتی کوششوں کو بھی آگے بڑھا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیے: امریکا ایران ممکنہ معاہدہ: نیتن یاہو کی برسوں پر محیط ایران پالیسی کو بڑا دھچکا لگنے کا خدشہ

جنوبی لبنان میں جاری کشیدگی اور ایران کے ساتھ مذاکرات کے تناظر میں آنے والے ہفتے مشرقِ وسطیٰ کی سلامتی اور علاقائی سفارت کاری کے لیے انتہائی اہم قرار دیے جا رہے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ٹرمپ نیتن یاہو پر برہم لبنان پر اسرائیل کے حملے لبنان جنگ

متعلقہ مضامین

  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • صومالی بحری قزاقوں کے ہاتھوں پاکستانیوں کے اغوا کا معاملہ، متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا
  • فیکٹ چیک: تھائی لینڈ کی ویڈیو پاکستانی فوجی افسر سے منسوب کرنے کی بھارتی کوشش ناکام
  • گلگت بلتستان کو بھی آئینی وبنیادی حقوق ملنے چاہئیں ، سعد رفیق
  • واشنگٹن میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات شروع
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • نواز شریف گلگت بلتستان روانہ، انتخابی مہم میں حصہ لیں گے
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان