پولیس نے جانوں کا نذرانہ دیکر صوبے میں امن قائم کیا ہے ، محمد طاہر
اشاعت کی تاریخ: 2nd, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260102-05-13
کوئٹہ(نمائندہ جسارت)آئی جی پولیس بلوچستان محمد طاہر نے کہا ہے کہ پولیس کے 44 ہزار آفسران اور اہلکاروں میں سے 1104 نے اپنی جانوں کا نذرانہ دیکر صوبے میں امن کے قیام کو یقینی بنایا ہے پولیس کو جدید خطوط پر استوار کرتے ہوئے ای ڈی ایف کی موجودہ افرادی قوت کو دگنا کیا جائے گا اور اسے جدید اسلحہ، سازو سامان اور پیشہ ورانہ تربیت دی جائے گی کیونکہ انہوںنے عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لئے اپنے فرائض کی انجام دہی کو یقینی بنایا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کو اے ٹی ایف ٹریننگ اسکول میں اے ٹی ایف کے 124 جوانوں کی 19 ویں بیج کی تربیت مکمل ہونے کے موقع پر پاسنگ آئوٹ تقریب سے اظہار خیال کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر بلوچستان کانسٹیبلری کے کمانڈنٹ اشفاق احمد، ایڈیشنل آئی جی جاوید علی مہر ،ڈی آئی جی سہیل احمد شیخ، ڈی آئی جی نیشنل ہائی وے ایاز بلوچ ،ڈی آئی جی اسپیشل برانچ طاہر علائو الدین کاسی، ڈی آئی جی ٹیلی و ٹرانسپورٹ علی شیر جکھرانی ڈی آئی جی اے ٹی ایف حمید اللہ، اے ٹی ایف اسکول کے ڈپٹی کمانڈنٹ رحمت اللہ، ایس ایس پی آپریشن کوئٹہ آصف علی خٹک، ایس ایس پی ٹریفک پولیس کوئٹہ محمد سمیع ملک ،اے آئی جی فریال فرید سمیت دیگر بھی موجود تھے۔ آئی جی پولیس محمد طاہر نے کہا کہ پولیس نے ہمیشہ اپنی ذمہ داری کو نبھاتے ہوئے امن کے قیام کو یقینی بنایا ہے کیونکہ دہشت گردوں اور تخریب کاروں نے بیرونی ایما پر امن کو خراب کرنے کی کوشش کی ہے اس وقت ملک انتہائی نازک مرحلے سے گزر رہا ہے اور چند مفاد پرست عناصر سادہ لوح افراد کو ورغلاکر اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل کیلئے بیرونی عناصر کے آلہ کار بنے ہوئے ہیں۔ ہم نے ارض وطن سے بے وفائی اور دشمنی کی تمام حدود کو پھلانگتے ہوئے اتحاد و یکجہتی کے فضا کو پارہ پارہ کرنے کے لئے ہمہ وقت مصروف رہ کر خودکش حملوں، ٹارگٹ کلنگ اور بم دھماکوں سے ہماری زندہ مثالیں ملتی ہیں۔ ایسے واقعات سے معصوم انسانی جانی مفاد پرست عناصر اور تخریب کاروں کے ہاتھوں لقمہ اجل بن جاتی ہیں۔ امن کی بحالی اور عوام کے جا ن و مال کے تحفظ کیلئے پولیس کی بڑی ذمہ داری ہے اس لئے پولیس کو جدید اسلحہ، سازو سامان کے علاوہ پیشہ ورانہ تربیت خصوصاً انسداد دہشت گردی کی تربیت بہت ضروری ہے اے ٹی ایف کی تربیت کیلئے 2013ء سے قبل صوبے میں کوئی ٹریننگ سینٹر نہیں تھا اس لئے جوانوں کو اے ٹی ایف کی تربیت سملی ڈیم اسلام آباد بجھوایا جاتا تھا جس پر بھاری اخراجات ہوتے تھے۔اگست 2013ء میں بلوچستان حکومت نے کوئٹہ میں اے ٹی ایف ٹریننگ اسکول کی منظوری دی جس سے اب تک 18 بیسک کورسز کا اجرا کیا جاچکا ہے جس میں 4134 جوان تربیت حاصل کرکے کوالیفائیڈ ہوکر اپنے اضلاع میں خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔ 19 بیسک اے ٹی ایف کورسز کا آغاز 15 ستمبر 2025ء کو اور آج 124 جوان تربیت مکمل کرکے پاس آئوٹ ہوچکے ہیں اور وہ اپنے فرائض کی بجا آوری کو یقینی بناکر عوام کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لئے اپنی جان کی قربانی دینے سے دریغ نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ اے ٹی ایف ٹریننگ اسکول کے آفسران اور انسٹرکٹر اور دیگر اسٹاف مبارک باد کے مستحق ہیں۔ صوبائی حکومت نے محکمہ پولیس کے جوانوں کی تربیت اور دیگر معاملات کی بہتری کیلئے بہت سے اقدامات اٹھائے ہیں اور آئندہ بھی پولیس کی سرپرستی جاری رکھے گی۔ انہوں نے کہا کہ وقت اور حالات کے تناظر کو مد نظر رکھتے ہوئے پولیس کو دہشت گردی اور کرمنل عناصر کا مقابلہ کرنے کے لئے جدید تربیت کی فراہمی اور جدید ٹیکنالوجی ، اسلحہ سازوسامان سے لیس کیا جارہا ہے اس لئے مختلف تربیتی کورسز کروائے جارہے ہیں کیونکہ فزیکل تربیت بنیادی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے شفاف وژن کے ساتھ مستحکم عزم کے ذریعے ڈسپلن پر عمل پیرا ہوکر ٹیم ورک کے ساتھ کرمنل اور دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے لئے ہارڈ پولیس اہلکار بن کر عوام کی خدمت کو یقینی بنانا ہے جس طرح اے ٹی ایف اور سی ٹی ڈی کرمنل عناصر کے خاتمے کے لئے کلیدی کردار ادا کررہے ہیں اور انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے جس میں فورسز نے اپنا مثبت کردار ادا کیا ہے۔ پولیس کے استعدا د کار کو بڑھانے کے لئے تمام دستیاب بروئے کار لارہے ہیں 44 ہزار پولیس آفسران اور اہلکاروں میں سے 1104 آفسران اور اہلکاروں نے اپنی جان قربان کرکے شہادت کا رتبہ پاکر امن کے قیام کو یقینی بنایا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کو یقینی بنایا ہے ا فسران اور ڈی ا ئی جی اے ٹی ایف نے کہا کہ پولیس کو انہوں نے کی تربیت کے لئے
پڑھیں:
دوسرا ون ڈے:آسٹریلیا کیخلاف پاکستانی ٹیم 190رنز پر آل آئوٹ
ایک روزہ سیریز کے دوسرے میچ میں پاکستان کی بیٹنگ لائن(bating line colapse) 232 رنز کا تعاقب کرتے ہوئے لڑکھڑا گئی۔ پاکستان نے 27 اوورز میں 6 وکٹوں کے نقصان پر 119 رنز بنا لیے ہیں۔
اس سے قبل لاہور میں جاری میچ میں پاکستان کی دعوت پر پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے آسٹریلیا کی ٹیم مقررہ 50 اوورز میں 9 وکٹوں کے نقصان پر 231 رنز بنا سکی۔
آسٹریلیا کی جانب سے کیمرون گرین اور کپتان جوش انگلس 51 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔ میٹ رینشا 43، اولیور پیک 31، میتھیو شارٹ 15، مارنس لبوشین 5، میتھیو کوہنمن 5 اور ایلکس کیرے 0 کے انفرادی اسکور پر آؤٹ ہوئے۔
مزید پڑھیں:آبنائے ہرمز بحالی پر بھی ایران سے پابندیاں نہیں ہٹائینگے: مارکوروبیو
پاکستان کی جانب سے کپتان شاہین شاہ آفریدی نے 3 جبکہ عرفات منہاس، ابرار احمد اور حارث رؤف نے 2، 2 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔