حرمِ ابراہیمی ایک اسلامی مسجد ہی رہے گی، حماس
اشاعت کی تاریخ: 2nd, January 2026 GMT
بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ اقدام اقوام متحدہ کے ادارے یونیسکو کے فیصلوں کو کھلا چیلنج ہے، جن کے تحت حرمِ ابراہیمی اور الخلیل کے قدیم شہر کو خطرے سے دوچار عالمی ورثے کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ فلسطینی اسلامی مزاحمتی تحریک حماس نے اس بات پر زور دیا ہے کہ تاریخی حقائق تبدیل نہیں ہوں گے اور حرمِ ابراہیمی ایک مکمل طور پر اسلامی مسجد ہی رہے گی۔ خبر رساں ادارے تسنیم کے بین الاقوامی گروپ کے مطابق فلسطینی اسلامی مزاحمتی تحریک (حماس) نے آج بروز جمعرات ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ صہیونی قابضین کا حرمِ ابراہیمی کے انتظامی اختیارات کو الخلیل کی بلدیہ سے چھین کر قابض رژیم کی انتظامیہ کے حوالے کرنے کا فیصلہ ایک خطرناک یہودیانہ اقدام ہے، جو مسجد کی اسلامی شناخت اور شہر الخلیل کی عربی و اسلامی شناخت کو نشانہ بناتا ہے، یہ اقدام مغربی کنارے اور مقبوضہ القدس میں مقدسات اور سرزمین پر غاصبانہ تسلط قائم کرنے کی قابض رژیم کی مسلسل کوششوں کا تسلسل ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ اقدام اقوام متحدہ کے ادارے یونیسکو کے فیصلوں کو کھلا چیلنج ہے، جن کے تحت حرمِ ابراہیمی اور الخلیل کے قدیم شہر کو خطرے سے دوچار عالمی ورثے کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔ تحریک حماس نے عالمی برادری، تنظیمِ تعاونِ اسلامی، عرب لیگ، قانونی اداروں اور اقوام متحدہ سے وابستہ تنظیموں، بالخصوص یونیسکو، سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ قابض حکومت کی جارحیت کو روکنے اور فلسطین میں اسلامی و مسیحی مقدسات کی خطرناک یہودی کاری اور ان پر تسلط کے منصوبوں کا مقابلہ کرنے کے لیے فوری اقدامات کریں، قابضین کی جانب سے مسلط کردہ زمینی حقائق کی پالیسی نہ تو تاریخی اور نہ ہی قانونی حقائق کو بدل سکتی ہے، حرمِ ابراہیمی ایک خالص اسلامی مسجد ہے، الخلیل بدستور ایک فلسطینی اور عرب شہر رہے گا، اور ہماری فلسطینی قوم استقامت اور مزاحمت کے ذریعے ان منصوبوں کا مقابلہ کرتی رہے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: گیا ہے
پڑھیں:
اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
راہنماؤں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے مفادات کے تحفظ اور توسیع کے لیے مسلسل سہولت کاری کی جا رہی ہے، جس کا مقصد فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے صہیونی ریاست کے توسیع پسندانہ عزائم کو عملی شکل دینا ہے۔’’ابراہیمی معاہدہ‘‘ بین المذاہب ہم آہنگی کا عنوان استعمال کرتے ہوئے مسلم ممالک کو اسرائیل کیساتھ تعلقات استوار کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش ہے، حالانکہ اس کے پس پردہ سیاسی اہداف اور مقاصد کسی سے پوشیدہ نہیں۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا زاہدالراشدی اور انصار اُلامہ پاکستان کے امیر مولانا فضل الرحمن خلیل نے سعودی عرب کے ممتاز علماء کی جانب سے اتحاد مذاہب کے بارے میں جاری کردہ فتوے کی بھرپور تائید کرتے ہوئے کہا ہے کہ نام نہاد ابراھیمی معاہدہ درحقیقت اسرائیل کو خطے میں مستقل حیثیت دلانے اور ’’گریٹر اسرائیل‘‘ کے توسیع پسندانہ منصوبے کی راہ ہموار کرنے کی ایک خطرناک کوشش ہے، جسے عالم اسلام کسی صورت قبول نہیں کرے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد میں باہمی ملاقات کے دوران کیا۔ اس موقع پر پاکستان شریعت کونسل کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل مولانا عبدالرؤف محمدی، سیکرٹری اطلاعات پروفیسر حافظ محمد منیر، مولانا جمیل الرحمن فاروقی، حاجی صلاح الدین فاروقی، مفتی محمد نعمان، مولانا محمد معاویہ، سردار زاہد منان اور دیگر راہنما بھی موجود تھے۔ راہنماؤں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے مفادات کے تحفظ اور توسیع کے لیے مسلسل سہولت کاری کی جا رہی ہے، جس کا مقصد فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے صہیونی ریاست کے توسیع پسندانہ عزائم کو عملی شکل دینا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’’ابراہیمی معاہدہ‘‘ بین المذاہب ہم آہنگی کا عنوان استعمال کرتے ہوئے مسلم ممالک کو اسرائیل کیساتھ تعلقات استوار کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش ہے، حالانکہ اس کے پس پردہ سیاسی اہداف اور مقاصد کسی سے پوشیدہ نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسرائیل نے گزشتہ کئی دہائیوں سے فلسطینی سرزمین پر ناجائز قبضہ کر رکھا ہے، لاکھوں فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے بے دخل کیا گیا، بیت المقدس کی حیثیت تبدیل کرنے کی کوششیں کی گئیں اور غزہ سمیت فلسطینی علاقوں میں انسانیت سوز مظالم کا سلسلہ جاری ہے۔ ایسے حالات میں اسرائیل کو تسلیم کرنے یا اس کیساتھ معمول کے تعلقات قائم کرنے کا کوئی جواز موجود نہیں۔ مولانا زاہد الراشدی اور مولانا فضل الرحمن خلیل نے کہا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نسبت کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا اور اس کے نام پر مختلف مذاہب کو ایک ایسے نظریاتی فریم ورک میں جمع کرنے کی کوشش کرنا جس سے اسلامی عقائد و تعلیمات متاثر ہوں، قابل قبول نہیں۔ انہوں نے کہا کہ قرآن کریم کی تعلیمات اور امت مسلمہ کے اجماعی عقائد کی روشنی میں اسلام اپنی مستقل شناخت اور نظریاتی اساس رکھتا ہے جسے کسی مصنوعی عنوان کے تحت خلط ملط نہیں کیا جا سکتا۔
اجلاس کے شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان اور سعودی عرب سمیت تمام مسلم ممالک کو اسرائیل کے توسیع پسندانہ عزائم اور گریٹر اسرائیل کے منصوبے کے خلاف مشترکہ مؤقف اختیار کرنا چاہیے اور ایسی ہر کوشش کو سختی سے مسترد کر دینا چاہیے جو فلسطینی کاز کو نقصان پہنچانے یا صہیونی ریاست کو مزید تقویت دینے کا باعث بنے۔ انہوں نے عالم اسلام کے حکمرانوں، دینی قیادت اور عوام سے اپیل کی کہ وہ مسئلہ فلسطین کے حوالے سے اپنے تاریخی، دینی اور اخلاقی موقف پر ثابت قدم رہیں اور بیت المقدس اور فلسطینی عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے متحدہ کردار ادا کریں۔ اس موقع پر شرکاء نے فلسطینی عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے عوام ہمیشہ کی طرح فلسطینی بھائیوں کے حق خود ارادیت، آزادی اور ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی جدوجہد کی حمایت جاری رکھیں گے۔