اسٹیٹ بینک نے پاکستان فنانشل انکلیوژن انڈیکس متعارف کرادیا
اشاعت کی تاریخ: 2nd, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (کامرس رپورٹر) اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے مالی شمولیت کی سطح جانچنے کے لیے پاکستان فنانشل انکلیوژن انڈیکس (P-FII) متعارف کرا دیا ہے جسے مالی شعبے میں ایک اہم اور تاریخی پیش رفت قرار دیا جارہا ہے۔یہ انڈیکس ملکی اور عالمی اداروں سے مشاورت کے بعد تیار کیا گیا ہے اور اس کا مقصد پاکستان میں مالی خدمات تک رسائی، استعمال اور معیار کو ایک جامع فریم ورک کے تحت جانچنا ہے۔ اسٹیٹ بینک نے واضح کیا ہے کہ پاکستان فنائنشل انکلیوژن انڈیکس 69 معاشی و مالی اظہاریوں پر مشتمل ہے جو بینکاری، غیر بینکاری اور ادائیگی کے نظام سے متعلق اعدادوشمار کی مکمل تصویر پیش کرتا ہے، ان اظہاریوں میں مالی شعبے کے انفرااسٹرکچر، مالی مصنوعات و خدمات کے استعمال اور مالی خدمات کے معیار سے متعلق پیمانے شامل ہیں۔ پی ایف آئی آئی نتائج کے مطابق سال 2024ء میں پاکستان میں مجموعی مالی شمولیت کی سطح 58.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: پی ایف ا ئی ا ئی مالی شمولیت اسٹیٹ بینک کے مطابق میں مالی کے تحت
پڑھیں:
سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک "تاریخی جست" ثابت ہوگی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے مجوزہ سول جوہری معاہدے کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی حتمی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل نہیں ہو جاتا۔
ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیئم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔واضح رہے کہ ایک روز قبل جب اس مجوزہ جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے منسلک نہیں کیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔