Jasarat News:
2026-07-24@04:21:32 GMT

دعوتِ حق کے داعیٔ اعظم ﷺ

اشاعت کی تاریخ: 2nd, January 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

رسول اللہ ﷺ کو کس مقصد کے لیے اللہ تعالیٰ نے مبعوث فرمایا اس کا ذکر مختصر مگر نہایت بلیغ الفاظ میں سورۂ احزاب میں ہوا ہے۔ ارشاد ہوا ہے کہ بحیثیت رسول آپؐ کے پانچ اوصاف ہیں: آپؐ (نوعِ انسانی پر) گواہ ہیں، بشارت دینے والے ہیں، ڈرانے والے ہیں، اللہ کی طرف بلانے والے ہیں اور چراغِ روشن ہیں۔ ان پانچ الفاظ میں حضورؐ کا مقصد بعثت اس طرح سمٹ آیا ہے جیسے سمندر کو کوزے میں بند کر دیا جائے۔ بنیادی طور پر یہ آیت ان تمام خوش عقیدگیوں کی جڑ کاٹ دیتی ہے جن کا تانا بانا عجوبہ پسند ذہنوں نے رسولؐ کی ذات مطہرہ کے اردگرد بُن دیا ہے اور جنہوں نے وہ تمام امتیازات ختم کر دیے ہیں جو اللہ تعالیٰ اور بندے کے درمیان موجود ہیں اور جن کی تعلیم خود رسولؐ نے دی ہے۔ ان پانچ الفاظ میں سے ہر لفظ مطالب و مفاہیم کی وسیع دنیا اپنے دامن میں رکھتا ہے، لیکن چونکہ ہمارا آج کا موضوع حضورؐ کی داعیانہ زندگی سے تعلق رکھتا ہے اس لیے ہم صرف اسی پہلو پر حصر کریں گے۔

رسولؐ اللہ کی طرف سے جو دعوت لے کر آئے وہ انسان کی پوری زندگی سے متعلق تھی۔ یہ ایک انقلابی دعوت تھی جو انسان کے فکر ونظر اور کردار و عمل کی دنیا کو یکسر بدل ڈالنا چاہتی تھی۔ انسان صدیوں سے جن محدود تصورات میں مقید چلا آتا تھا، اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی کو جن خطوط پر اس نے از خود استوار کر لیا تھا۔ یہ انقلابی دعوت ان تمام تصورات کو ادھیڑ کر اور تمام خود ساختہ خطوط کو ختم کر کے نئے تصورات اور خطوط پر اس زندگی کو استوار کرنا چاہتی تھی۔ عبد اور معبود کے جس رشتے کو نوعِ انسان نے فراموش کر دیا تھا اسے ازِ سر نو قائم کرنا چاہتی تھی۔ یہ انقلابی دعوت کسی خاص سرزمین اور کسی خاص قوم کے لیے نہ تھی بلکہ رنگ و نسل کے امتیازات اور زبان و وطن اور زمان و مکان کی حد بندیوں سے ماورا، پوری انسانیت اس کی مخاطب تھی۔ اس طرح حضورؐ کی داعیانہ حیثیت، گزشتہ تمام انبیا سے بالکل مختلف تھی جو بہرحال ایک محدود دور اور خاص قوموں کے لیے مبعوث کیے گئے تھے۔ پھر حضورؐ محض رسول اور پیغمبر اور دعوت حق کے داعی و مبلغ ہی نہ تھے بلکہ پوری انسانیت کے لیے آپؐ کا کردار نمونۂ عمل بھی تھا اس لیے بھی حضورؐ کا مقامِ دعوت دوسرے انبیا سے بالکل جداگانہ تھا۔

کسی دعوت اور تحریک کی کامیابی کے لیے دو باتیں اشد ضروری ہوتی ہیں دعوت دینے والے کا انفرادی کردار اور دعوت کا انداز اور طریقِ کار۔ کوئی بھی دعوت اور تحریک جب اُٹھتی ہے تو اسے مخالفت کا سامنا کرنا پڑتا ہے، پھر یہ دعوت اور تحریک کسی معاشرے کے معمولات اور اس کے برسر اقتدار طبقات پر جتنی زیادہ شدید ضرب لگانے والی ہو اتنی ہی اس کی مخالفت بھی شدید کی جاتی ہے۔ مخالفین اگرچہ مختلف گروہوں پر مشتمل ہوتے ہیں اور ہر گروہ ایک دوسرے کا مخالف لیکن اس دعوت اور تحریک کی مخالفت میں وہ متحد ہو جاتے ہیں۔ پھر یہ دعوت اور تحریک جیسے جیسے جڑ پکڑتی اور قلوب و اذہان مسخر کرتی جاتی ہے مخالفت اتنی ہی تیز و تند ہونے لگتی ہے۔ اس بے پناہ مخالفت کا مقابلہ دعوت اور تحریک کا داعی اپنے کردار کی مضبوطی اور ثبات ہی سے کر سکتا ہے۔ یہی نہیں کہ خود اس کا اپنا کردار مضبوط اور بلند ہو کہ مخالفین کی شدید سے شدید کاروائیاں اور حملے اسے سرنگوں نہ کر سکیں بلکہ وہ اپنے پیروکاروں کے دلوں میں بھی جرأت و عزیمت اور صبر وثبات کا ویسا ہی جذبہ پھونک سکے جس سے وہ خود سرشار ہے۔ یہ تو عام دعوتوں اور تحریکوں کا معاملہ ہے۔ اسلام کی دعوت و تحریک کی کامیابی کے لیے تو اس سے کہیں زیادہ کردار کی بلندی اور مضبوطی کی ضرورت ہوتی ہے کہ یہ تحریک اور دعوت، دنیا میں پائی جانے والی ہر برائی سے نبرد آزما ہوتی ہے اور کسی بھی مرحلے میں اس کے ساتھ مداہنت اور مصالحت کی پالیسی اختیار نہیں کرتی۔ اسلامی دعوت کے داعی کو چومکھی لڑائی لڑنا ہوتی ہے، اپنے معاشرے کے اندر اور باہر بیک وقت متعدد محاذوں پر۔ اس جنگ میں کامیابی اسی وقت ممکن ہے جب اس میں یہ تمام اوصاف بدرجہ اتم پائے جائیں اور اس کے کردار کی عملی مثال اس کے متبعین کو بھی ان اوصاف سے متصف کر سکے۔

داعی کے انفرادی کردار کی طرح دعوت کا انداز اور طریق کار بھی اس کی کامیابی کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ دعوت بجائے خود کتنی ہی پرکشش اور صحیح کیوں نہ ہو کسی معاشرے میں اس وقت جڑ پکڑتی ہے جب کہ اسے نہایت حکیمانہ انداز میں پیش کیا جائے۔ دعوت کے مخاطب گوناگوں ذہنیت اور عملی و فکری سطح کے لوگ ہوتے ہیں، ان کے اندر بیسیوں قسم کی کمزوریاں ہوتی ہیں جن سے انہیں بڑا پیار ہوتا ہے، ان کے اندر مختلف نوعیت کی اندھی عصبیتیں ہوتی ہیں جن کے خلاف وہ ایک کلمہ سننا گوارا نہیں کرتے، ان کی محبتوں اور عقیدتوں کے کچھ مرکز ہوتے ہیں جن پر ذرا سی انگشت نمائی بھی ان کی برداشت سے باہر ہوتی ہے اس لیے ان لوگوں میں کام کرنے کے لیے بڑی حکمت و دانش کی ضرورت ہوتی ہے۔ پھر حالات ہمیشہ یک رنگ نہیں رہتے بلکہ بدلتے رہتے ہیں اور ہمیشہ یکساں اور جامد طریقِ کار کام نہیں آتا۔ داعی کو ان بدلتے ہوئے حالات کو سامنے رکھ کر حکمتِ عملی وضع کرنا پڑتی ہے اس طرح کہ دعوت کے اصولوں اور بنیادی طریق کار پر کوئی زد نہ پڑے اور دعوت اپنی صحیح شکل و صورت میں اپنا راستہ اس طرح بناتی چلی جائے جس طرح ایک ندی پہاڑوں کی چٹانوں، وادیوں اور میدانوں میں اپنا راستہ بناتے ہوئے چلی جاتی ہے اور حالات کی تبدیلی نہ تو اس ندی کی ہیئت کو تبدیل کر پاتی ہے اور نہ اس کو اپنی منزل کی طرف بڑھنے سے روک سکتی ہے۔

رسولؐ کی حیاتِ مبارکہ پر ہم جب ان دونوں زاویوں سے نظر ڈالتے ہیں تو ہمیں ان کی ذات پوری تاریخِ انسانی میں منفرد دکھائی دیتی ہے۔ انفرادی کردار کے اعتبار سے حضورؐ عظمت و نور کا ایک ایسا مینار ہیں جن کے آگے دنیا کی ساری بلندیاں ہیچ اور سرنگوں ہیں۔ حضورؐ کی سیرت اخلاقِ عالیہ سے عبارت تھی جس کی طرف لوگوں کے دل بے اختیار کھینچتے اور دشمن دوست بن جاتے تھے۔ سیدہ عائشہؓ بیان کرتی ہیں۔ آنحضرتؐ کی عادت کسی کو برا بھلا کہنے کی نہ تھی، برائی کے بدلے میں برائی نہ کرتے، بلکہ درگزر سے کام لیتے اور معاف فرما دیتے۔ کبھی کسی سے اپنے ذاتی معاملے میں انتقام نہ لیتے، نام لے کر کبھی کسی مسلمان پر لعنت نہ کرتے، کسی غلام، لونڈی، عورت، خادم یا جانور کو کبھی اپنے ہاتھ سے نہ مارتے۔ کسی کی درخواست رد نہ فرماتے الّا یہ کہ ناجائز ہوتی۔ سیدنا علیؓ کا بیان ہے آپؐ خندہ جبین، نرم خو اور طبیعت کے مہربان تھے۔ سخت مزاج اور تنگ دل نہ تھے، نہ عیب جُو اور تنگ گیر تھے۔ کوئی برا کلمہ زبان مبارک سے نہ نکالتے۔ کسی کی کوئی بات ناپسند ہوتی تو اس سے اغماض فرماتے۔ سلام میں پیش دستی فرماتے، راستہ چلتے ہوئے مرد، عورتیں، بچے، جو سامنے آتے انہیں سلام کرتے۔ اپنوں سے محبت کے ساتھ پیش آتے اور دشمنوں پر احسان کرتے (یہی اخلاقِ عالیہ تھے جس نے ایک طرف اپنوں کو جاں نثار اور فدا کار بنایا اور انہوں نے اپنے قرابت داروں بلکہ والدین تک پر آپؐ کی معیت و رفاقت کو ترجیح دی اور دوسری طرف دشمنوں کے دل جیتے اور ان کی تلواروں کو حق کے مقابلے میں کُند کر دیا۔ زید بن حارثہ کا واقعہ کون نہیں جانتا، وہ بچپن میں اپنے والدین سے چھٹے، غلام بن کر لائے گئے اور فروخت کر دیے گئے۔ ان کے والد اور چچا ڈھونڈتے ڈھونڈتے مکہ آپہنچے، مگر زیدؓ جو مدّتوں اپنے گھر کی یاد میں تڑپتے رہے تھے، والد کے ساتھ جانے کے بجائے حضورؐ کا دامن تھام لیتے ہیں۔ یمامہ کے سردار ثمامہ بن اثالؓ گرفتار ہو کر آتے ہیں۔ حضورؐ کے حکم سے انہیں عمدہ کھانا مہیا کیا جاتا ہے۔ حضورؐ ان سے پوچھتے ہیں۔ ثمامہ! تمہارا کیا خیال ہے؟ کہتے ہیں: مجھے قتل کریں گے تو ایک ایسے شخص کو قتل کریں گے جس کا خون کچھ قیمت رکھتا ہے اور احسان فرمائیں گے تو ایسے شخص پر جو احسان ماننے والا ہے اور (فدیہ میں) مال لینا چاہتے ہیں تو وہ بھی حاضر کر سکتا ہوں۔ تین دن آپؐ ان سے یہی بات پوچھتے ہیں اور وہ یہی جواب دیتے ہیں۔ آخر انہیں رہا کرنے کا حکم صادر فرما دیتے ہیں۔ ثمامہ رہا ہو کر جاتے ہیں اور نہا دھو کر واپس آجاتے ہیں۔ کلمہ پڑھ کر مسلمان ہو جاتے ہیں۔ اور عرض کرتے ہیں آج سے پہلے کوئی شخص میری نظر میں آپ سے بڑھ کر اور آپ کے دین سے زیادہ کوئی دین مبغوض نہ تھا، مگر اب آپ کی ذات اور آپ کے دین سے بڑھ کر مجھے کوئی اور محبوب نہیں ہے۔ فتح مکہ کے موقع پر آپؐ نے اپنے خون کے پیاسوں کو جس طرح معاف کیا اس نے پورے عرب کے دل مسخر کر لیے اور یَدْخُلُوْنَ فِیْ دِیْنِ اللّٰہِ اَفْوَاجًا کا سماں بندھ گیا۔ دو سال کے اندر اندر پورا عرب آپؐ کے آگے دل و جان سے ہتھیار ڈال چکا تھا۔

حضورؐ کی داعیانہ زندگی کا ایک اور پہلو اللہ پر توکّل اور اس سے گہری لَو اور خشیت تھا۔ عائشہؓ فرماتی ہیں کہ رسولؐ کا ایک ایک لمحہ یادِ الٰہی میں کٹتا تھا۔ سفر ہوتا یا حضر۔ گھر میں ہوتے یا مسجد میں، دستر خوان پر ہوتے یا میدانِ جنگ میں، ہر حالت میں دل و جان ذکر الٰہی میں مصروف رہتے۔ اُٹھتے بیٹھتے، کھاتے پیتے، سوتے جاگتے زبان پر تسبیح و تہلیل جاری رہتی۔ رات کا بڑا حصہ شب بیداری میں گزرتا اور اس ذوق و شوق سے تہجد کی نماز پڑھتے کہ پوری پوری رات اللہ کی حضوری میں کھڑے کھڑے گزر جاتی۔ پائے مبارک پر ورم آجاتا۔ جنگ کے میدان میں بھی یہی کیفیت ہوتی۔ خشیتِ الٰہی سے اکثر رقت طاری ہو جاتی اور آنکھوں سے آنسو جاری ہو جاتے۔ اللہ پر توکل کا یہ عالم تھا کہ حالات چاہے کیسے ہی ناموافق ہوتے، فضا کیسی ہی ناسازگار ہوتی اور اسباب و وسائل کتنے ہی بے مایہ ہوتے، دعوت کے کام میں ذرا بھی حائل نہ ہوتے اور نہ دل پر مایوسی کے بادل چھاتے۔ سخت سے سخت مصائب و شدائد میں بھی آپ کا دل مطمئن اور اللہ کے توکل سے بہرہ ور رہتا۔ دعوت کے ان ایام کی بات ہے جب کفار ہر قسم کے حربے آزمانے پر تلے ہوئے تھے۔ ابو طالب آپؐ کو طلب کرتے ہیں اور سمجھاتے ہیں: جانِ پدر! اس کام سے ہاتھ اُٹھاؤ۔ آپؐ فرماتے ہیں: عمِّ محترم! میری تنہائی کا خیال نہ کیجیے، حق زیادہ دیر تک بے کس و تنہا نہیں رہے گا۔ ایک دن عرب اور عجم اس کے ساتھ ہوں گے۔ ایک اور موقع پر کسی اور شخص کے جواب میں فرمایا: خدا مجھے تنہا نہیں چھوڑے گا۔

آباد شاہ پوری گلزار.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: دعوت اور تحریک جاتے ہیں رکھتا ہے کردار کی اور دعوت کے اندر ہیں اور ہوتی ہے کے ساتھ دعوت کے کے داعی اور اس ہیں جن کی طرف کے لیے ہے اور

پڑھیں:

وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم

سٹی 42:وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری  وفد کی ملاقات،وزیر اعظم  نے کہا بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے  پاک چین  دوستی مزید مستحکم ہو گی ۔

وزیراعظم محمد شہباز شریف سے چینی کمپنی فیمسنFAMSUN کے چیف ایگزیکٹو افسر جیک چین Jack Chen کی قیادت میں وفد کی ملاقات ہوئی ۔ وزیراعظم نے وفد کو پاکستان آمد پر خوش آمدید کہا

وزیر اعظم نے کہا پاکستان اور چین مثالی دوست ہیں، جن کے درمیان معاشی شراکت داری اور دوستانہ تعلقات وقت کے ساتھ مزید مضبوط ہو رہے ہیں۔دونوں ممالک کے درمیان بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے یہ دوستی مزید مستحکم ہو گی ۔وزیر اعظم نے چینی کمپنی کا پاکستان میں اجناس کے  سٹوریج کے مراکز کو اسٹیٹ آف آرٹ مراکز میں تبدیل کرنے کے منصوبے کا خیر مقدم کیا۔ 

پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی

 اس منصوبے سے  ملک میں  زراعت کے سیکٹر میں جدید ترین ٹیکنالوجی آئے گی اور تجارتی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔ پاکستان کی افرادی قوت کی ہنر مندی اور  تربیت کو ان منصوبوں  کا حصہ بنایا جائے۔

 جیک چین نے پاکستان میں پرتپاک میزبانی پر وزیراعظم اور حکومت پاکستان کا شکریہ ادا کیافیمسن کے چیف ایگزیکٹو  نے وزیراعظم سے انکے حالیہ دورہء چین کے دوران اپنی  ہونے والی ملاقات کا بھی ذکر کیا، جس کے نتیجے میں وہ پاکستان کا دورہ کررہے ہیں اور غذائی تحفظ کے حوالے سے قابل عمل منصوبے  پر بات چیت کی جارہی ہے۔

جعلی امیدواروں کی شامت، پی پی ایس سی امتحانات میں بائیو میٹرک نظام نافذ

جناب جیک چین نے کہا کہ فیمسن پاکستان میں غذائی تحفظ کے حوالے سے بہتر سٹوریج مراکز، ٹیکنالوجی ٹرانسفر اور تربیت فراہم کرنے میں دلچسپی رکھتی ہے۔بریفنگ میں بتایا کہ فیمسن پاکستان میں گرین سائلوز کے قیام کے حوالےسے ڈیمانسٹریشن سینٹر قائم کرے گی سٹوریج سینٹرز کو جدید گرین سائلوز میں بدلا جائے گا ۔فیمسن اور گرین پاکستان انیشئیٹو کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہو چکے ہیں

ملاقات میں وفاقی وزیر قومی غذائی تحفظ رانا تنویر حسین، وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان، وزیر مملکت برائے خزانہ و ریلوے بلال اظہر کیانی، معاون خصوصی ہارون اختر  اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران بھی موجود تھے۔فیمسن زراعت، جانوروں کی خوراک اور فوڈ پراسیسنگ کے حوالے سے چین کی بڑی  کمپنیوں میں شمار ہوتی ہے۔ 

بارشی پانی کی نکاسی نہ ہونے سے گاڑیاں اور موٹرسائیکلیں بند، شہری شدید مشکلات کا شکار

متعلقہ مضامین

  • مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم