Jasarat News:
2026-07-24@02:10:06 GMT

جنّت اور اس کی نعمتیں

اشاعت کی تاریخ: 2nd, January 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

یوں تو جنت اور اہل جنت کے متعلق قرآن مجید میں بہت کچھ بیان فرمایا گیا ہے۔ لیکن ایک بات کئی جگہ قرآن مجید میں ایسی کہی گئی ہے کہ جنت کے متعلق کچھ اندازہ کرنے کے لیے بس وہی کافی ہے۔ فرمایا گیا ہے کہ انسان کے دل اور اس کی طبیعت میں جو بھی خواہشیں اور جو بھی اُمنگیں اور آرزوئیں ہیں اور ہو سکتی ہیں جنت میں ان سب کے پورا ہونے کا پورا سامان ہے اور وہ سب پوری کی جائیں گی۔ ارشاد ہے: ’’وہاں جو کچھ تم چاہو گے تمھیں ملے گا اور ہر چیز جس کی تم تمنا کرو گے وہ تمھاری ہوگی‘‘ (حم السجدہ: 31)۔ دوسری جگہ ارشاد ہے کہ جنت میں تمھارے لیے وہ سب کچھ ہے جس کو تمھارے جی چاہتے ہیں اور تمھاری آنکھوں کو جس کے دیکھنے سے لذت اور سرور حاصل ہوتا ہے (الزخرف: 71)۔

سوچیے اس کے بعد باقی کیا رہا؟ ہمارا جی عیش وراحت والی اور لذت ومسرت والی ایسی زندگی کو چاہتا ہے جو کبھی ختم نہ ہو، جنت میں وہ موجود ہے۔ ہمارا جی اچھے مکانات کو چاہتا ہے جن سے نکلنے کا کبھی اندیشہ نہ ہو، جنت میں وہ بھی موجود ہیں۔ ہمارا جی اچھے کھانوں اور اچھے لذیذ میووں اور پینے والی اچھی خوش ذائقہ خوش رنگ چیزوں کو چاہتا ہے، جنت میں وہ بھی موجود ہیں بلکہ ان کی نہریں بہہ رہی ہیں۔ ہمارا جی اچھی حسین اور سلیقہ شعار اور خدا کو یاد کرنے والی بیویوں کو چاہتا ہے، جنت میں وہ بھی موجود ہیں۔
یہ تو عام انسانوں کی خواہش کی چند چیزوں کا ذکر ہے اور جنت میں بلاشبہہ یہ سب چیزیں بھر پور موجود ہیں ۔ لیکن اس سے آگے اللہ تعالیٰ کی رضا، اللہ تعالیٰ کی وہ معرفت جس کا اس دنیا میں امکان نہیں، اور پھر سب سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ کی ملاقات اور اس کا دیدار۔۔۔ یہ جنت کی وہ نعمتیں اور لذّتیں ہیں جن کی چاہت سے اللہ کے خاص بندوں کے سینے بھرے ہوئے ہیں اور اللہ تعالیٰ یقینا اپنے ان چاہنے والوں کی اس چاہت کو بھی وہاں پورا کرے گا۔

اس کے بعد اس سلسلے میں رسولؐ کی ایک حدیث بھی سن لیجیے۔ ارشاد فرماتے ہیں: اللہ تعالیٰ نے اپنے نیک اور فرماں بردار بندوں کے لیے جنت میں جو نعمتیں اور لذت وراحت کے جو سامان تیار کیے ہیں وہ ایسے اچھوتے اور البیلے ہیں کہ کسی آنکھ والے کی آنکھ نے ان کی جھلک تک نہیں دیکھی، اور کسی کے کان میں ان کی بھنک تک نہیں پڑی، اور کسی کے دل میں ان کا خیال اور خطرہ بھی نہیں گزرا ہے۔
ایک حدیث رسولؐ کی اس سلسلے میں اور سن لیجیے، جس میں آپؐ نے جنت کے عیش اور دوزخ کے عذاب کی شدت کو ایک خاص عنوان سے سمجھانا چاہا۔
آپؐ نے فرمایا: آخرت میں اللہ تعالیٰ ایک ایسے شخص کو طلب فرمائے گا، جس نے دنیا میں خدا سے بے تعلق اور بے خوف ہو کر اور اس کے احکام سے بے پروا ہو کر کفر اور شرارت کی زندگی گزاری ہوگی اور دنیا میں ایسے عیش وآرام سے رہا ہوگا کہ کبھی کسی تکلیف کا اس نے منہ بھی نہ دیکھا ہو گا۔ پھر فرشتوں کو حکم ہو گا کہ اس کو دوزخ کی ہوا کھلا لائو۔ فرشتے حکم کی تعمیل کریں گے اور اس کو دوزخ کی ذرا آنچ دکھا کر نکال لائیں گے۔ اسی سے اس کا یہ حال ہو جائے گا کہ سر سے پائوں تک بس تکلیف اور بے چینی ہو گی، چیخے گا اور تڑپے گا۔ پوچھا جائے گا کیا حال ہے؟ بے چارہ اپنی تکلیف اور اپنے دکھ کا حال بیان کرے گا۔ پھر پوچھا جائے گا کچھ یاد ہے کہ اس سے پہلی زندگی میں، یعنی دنیا میں تُو کیسے عیش وآرام سے رہا تھا۔ وہ بندہ غالباً قسم کھا کر کہے گا کہ خداوندا میں نے عیش وآرام کی کبھی صورت بھی نہیں دیکھی، میں تو بس اس تکلیف ہی کو جانتا ہوں جس میں اس وقت مبتلا ہوں۔ گویا دوزخ کی آگ کی صرف ہوا لگ جانے سے آدمی اس دنیا کی پوری زندگی کے عیش وراحت کو بالکل بھول جائے گا۔۔۔!

حضوؐر فرماتے ہیں کہ پھر ایک ایسے نیک بندے کو بلایا جائے گا جو دنیا کی زندگی میں ہمیشہ تکلیف اور پریشانی ہی میں رہا تھا اور فرشتوں کو حکم ہوگا کہ جائو ہمارے اس بندے کو ذرا جنت کی ہوا کھلا لائو۔ فرشتے اس حکم کی بھی تعمیل کریں گے اور اس کو جنت کی فضا میں سے گزار کر لے آئیں گے۔ بس جنت کی ہوا لگنے اور اس کی فضا میں سے صرف گزر جانے سے اس بندے کو ایسا چین وسکون اور ایسا عیش و سُرور حاصل ہوگا کہ پہلی زندگی کی ساری عمر کی تکلیف بھول جائے گا، اور جب اللہ تعالیٰ اس سے دریافت فرمائے گا کہ بندے کچھ یاد ہے کہ پہلی زندگی کیسی تکلیف سے گزری تھی، تو وہ عرض کرے گا کہ میرے پیارےپروردگار! مجھے تو کسی تکلیف کی صورت دیکھنا بھی یاد نہیں۔
رسولؐ کے اس پورے بیان کا حاصل یہی ہے کہ آخرت کی تکلیفیں اور وہاں کا عذاب اتنا سخت ہے کہ اس کا ایک لمحہ اس دنیا کے عمر بھر کے عیش کو بھلا دے گا۔ اور اسی طرح وہاں کا عیش وآرام اور وہاں کی لذتیں ایسی ہیں کہ انھیں صرف دیکھ کر بندہ ساری عمر کی تکلیفیں بھول جائے گا۔

مولانا محمد منظور نعمانیؒ گلزار

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کو چاہتا ہے اللہ تعالی جنت میں وہ عیش وا رام موجود ہیں دنیا میں جائے گا ہے کہ ا اور اس جنت کی

پڑھیں:

لاہور میں موسلا دھار بارش، سڑکیں زیر آب، معمولات زندگی متاثر

لاہور میں مون سون کی شدید بارشوں نے معمولات زندگی متاثر کر دیے، کئی علاقوں میں سڑکیں، چوراہے اور انڈر پاسز پانی میں ڈوب گئے جبکہ ٹریفک کی روانی شدید متاثر ہوئی۔ محکمہ موسمیات کے مطابق گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران شہر میں 343 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی، جس کے باعث متعدد نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہوگیا۔

لاہور کے مختلف علاقوں میں بارش کا پانی جمع ہونے سے شہریوں کو آمدورفت میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ بعض سڑکوں اور گلیوں میں 3  سے 4 فٹ تک پانی کھڑا رہا، جبکہ کئی مقامات پر گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں۔

یہ بھی پڑھیں: لاہور میں بارش کے بعد کئی علاقے زیر آب، ’اب آفس جانےکے لیے کشتی کی ضرورت ہوگی‘

ڈیفنس کے فیز ون سے فیز فائیو تک مختلف مقامات پر پانی جمع ہونے سے ٹریفک متاثر ہوئی، جبکہ غازی انڈر پاس اور مسجد چوک انڈر پاس کو پانی بھرنے کے باعث بند کرنا پڑا اور ٹریفک کو متبادل راستوں پر منتقل کیا گیا۔

حربنس پورہ، مال روڈ، کوپر روڈ، لکشمی چوک اور چوبرجی چوک سمیت متعدد علاقوں میں بھی پانی جمع ہونے کی اطلاعات ملیں، جہاں واسا کی ٹیمیں نکاسی آب میں مصروف رہیں۔

شدید بارش کے باعث شہر کی کئی سڑکوں پر گڑھے بھی پڑ گئے۔ کینال روڈ، جوہر ٹاؤن مین بلیوارڈ اور بھیکے والا موڑ سمیت مختلف مقامات پر سڑکیں متاثر ہوئیں، جس کے بعد ٹریفک پولیس نے متاثرہ علاقوں کو بند کرکے متبادل راستے فراہم کیے۔

یہ بھی پڑھیں: مون سون سیزن: لاہور سے ایک گھنٹے میں بارش کا پانی نکالنا ہدف ہے، ڈی ایم ڈی واسا

صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق پنجاب میں حالیہ مون سون بارشوں کے دوران مختلف حادثات میں اب تک 21 افراد جاں بحق اور 154 زخمی ہو چکے ہیں۔ جاں بحق ہونے والوں میں 15 افراد مکانات گرنے، 2 آسمانی بجلی گرنے، 3 کرنٹ لگنے جبکہ ایک شخص ڈوبنے سے جاں بحق ہوا۔

واسا لاہور کے مطابق شہر میں ہنگامی بنیادوں پر نکاسی آب کا عمل جاری ہے، تمام ڈسپوزل اسٹیشن مکمل استعداد کے ساتھ کام کر رہے ہیں جبکہ متاثرہ مقامات پر اضافی مشینری اور عملہ تعینات کیا گیا ہے۔

ضلعی انتظامیہ اور واسا نے شہریوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کرنے، نشیبی علاقوں اور بجلی کے کھمبوں سے دور رہنے کی ہدایت کی ہے۔ شہریوں نے تاہم ہر سال بارشوں کے دوران پانی جمع ہونے کے مسئلے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے نکاسی آب کے نظام کو بہتر بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

we news بارش پانی زیر آب لاہور

متعلقہ مضامین

  • شہدا ء کا مقام اور فضیلت
  • اداکار شان بیگ اور روما مائیکل رشتۂ ازدواج میں منسلک، مداحوں کو خوشخبری سنا دی
  • لاہور میں موسلا دھار بارش، سڑکیں زیر آب، معمولات زندگی متاثر