Express News:
2026-07-24@03:20:34 GMT

نیا سال،نئی امیدیں

اشاعت کی تاریخ: 2nd, January 2026 GMT

دنیا بھر میں ہر نئے سال کی آمد پر جشن منایا جاتا ہے۔ مہذب، باوقار، دوربیں اور باشعور جمہوری معاشروں میں جہاں نئے سال کو پورے جوش و جذبے کے ساتھ خوش آمدید کہا جاتا ہے، وہیں گزشتہ سال کے واقعات و حالات پر نظرثانی کر کے کارکردگی اور کارگزاریوں کا جائزہ لیا جاتا ہے اور آیندہ سال کے لیے ماضی کے تجربات کی روشنی میں بہتر سے بہتر مستقبل کی منصوبہ بندی کی جاتی ہے۔ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کی آگے بڑھنے کی بنیادی وجہ یہی ہے کہ وہ ماضی کی غلطیوں و کوتاہیوں سے سبق حاصل کر کے مستقبل میں انھیں دہرانے سے گریز کرتے اور روشن مستقبل کی تعبیر کرنے کے لیے آئین، قانون، انصاف اور جمہوری اقدارکی پاس داری کو یقینی بناتے ہیں۔

2025 کا سال اپنے دامن میں بہت سے تلخ و شیریں واقعات کو سمیٹے گزرگیا اور نئے سال 2026 کا سورج تازہ امنگوں، نئی امیدوں اور روشن مستقبل کی نوید لیے طلوع ہو چکا ہے۔ اب یہ ہماری ذمے داری ہے کہ ہم 2025کے حوادث سے سبق حاصل کرکے 2026 کو ایک ایسا کامیاب اور مثالی سال بنانے کی منصوبہ بندی کریں، جو ملک کو سیاسی، معاشی، سماجی، دفاعی اور دیگر قابل ذکر شعبہ ہائے زندگی میں ماضی کے مقابلے میں وکٹری اسٹینڈ پرکھڑا کرنے کے قابل بنا سکے، جہاں عوام حکومتی کارکردگی سے مطمئن ہوں، عام آدمی کی زندگی میں نمایاں تبدیلی آئے، غربت، مہنگائی، بے روزگاری کا خاتمہ ہو، ملک میں ایسا معاشی استحکام آئے کہ اربوں ڈالر کے قرضوں کے بوجھ سے نجات مل سکے۔

 آئی ایم ایف کی کڑی شرائط اور مالی معاونت سے جان چھوٹ جائے، ملک میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان جاری رسہ کشی، محاذ آرائی اور ٹکراؤ کی فضا ختم اور افہام و تفہیم، صبر وتحمل اور تدبر و بصیرت سے سیاسی درجہ حرارت کو نارمل کیا جاسکے۔ پاکستان نے 2025 میں بھارت کو عبرت ناک شکست دے کر دفاعی محاذ پر جو غیر معمولی کامیابی حاصل کی ہے اور دانش مندانہ سفارت کاری سے بیرونی دنیا میں پاکستان کا امیج بہتر بنا کر امریکا و دیگر ممالک میں پاکستان کا جو وقار بحال کیا ہے اسے مزید بہتر بنایا جاسکے۔

بجا کہ پاکستان نے 2025 میں بھارت کو ذلت آمیز شکست سے دوچار کر کے اپنی جنگی مہارت اور عسکری صلاحیت کا لوہا دنیا بھر سے منوا لیا اور ثابت کر دیا کہ اپنے سے چار گنا بڑے دشمن کا مقابلہ کرنے میں پاک فوج کا کوئی ثانی نہیں ہے۔ دنیا ہماری پاک فوج کی صلاحیتوں کی معترف ہو چکی ہے۔ عوام بھی اپنی فوج پر فخر کرتے ہیں اور یقین رکھتے ہیں جس طرح بھارت کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کیا جلد دہشت گردوں کے خلاف بھی پاک فوج کو کامیابی نصیب ہوگی اور وطن عزیز کو دہشت گردی کے عفریت سے نجات مل جائے گی۔ یہاں یہ بات بھی طے ہے کہ معاشی استحکام کے بغیر سیاسی استحکام نہیں آ سکتا بعینہ معاشی و سیاسی استحکام کے بغیر دفاعی استحکام بھی تادیر پائیدار نہیں رہ سکتا۔ روس جیسی بڑی عسکری قوت نے 9 سال تک افغانستان میں جنگ لڑی لیکن معاشی دباؤ برداشت نہ کر سکی اور اسے عبرت ناک شکست سے دوچار ہونا پڑا۔

آپ 2025 میں ملک کے سیاسی و معاشی حالات کا جائزہ لیں تو یہ کہنا پڑتا ہے کہ حکومت اپوزیشن محاذ آرائی کے باعث سیاسی استحکام کا خواب تشنہ تعبیر رہا۔ اپوزیشن کی بڑی جماعت پی ٹی آئی کو دباؤ میں رکھنے کے لیے سیاسی، آئینی اور قانونی حربوں کا استعمال کیا گیا۔ اکتوبر 24ء میں 26 ویں ترمیم کے ذریعے حکومت نے عدلیہ کو جس طرح تقسیم کیا، 2025ء میں 27 ویں ترمیم کے ذریعے عدلیہ و پارلیمنٹ میں بھی اپنی گرفت مضبوط کرلی۔

طاقت ور شخصیات کو استثنیٰ مل گیا ہے جس سے بلاتفریق احتساب پر سوالیہ نشان لگ گیا ہے اور سیاسی محاذ آرائی کو مزید کمک مل گئی ہے۔ پی پی پی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے بے نظیر بھٹو شہید کی برسی پر بالکل درست کہا کہ معاشی بحران سے نکلنے کے لیے سیاسی بحران کا خاتمہ ضروری ہے اور یہ کام صدر زرداری کر سکتے ہیں، بے نظیر بھٹو کا آخری پیغام بھی مفاہمت ہی تھا۔ گویا حکومت کے اہم اتحادی اس امر سے بخوبی آگاہ ہیں کہ ملک میں 2025 کا سال سیاسی و معاشی بحران میں گزرا ہے۔ ملک کے دانشور حلقے مبصرین و تجزیہ نگار بھی حکومت کو باور کروا رہے ہیں کہ معاشی صورت حال ناگفتہ بہ ہے۔ قرضوں کا بوجھ بڑھ رہا ہے، برآمدات میں کمی اور درآمدات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ بیرونی سرمایہ کاری کا گراف نیچے آ رہا ہے۔

معروف ملٹی نیشنل کمپنیاں ملک چھوڑ کر جا رہی ہیں جس سے ملک کی معیشت دباؤ کا شکار ہے لیکن حکومت معاشی ترقی و استحکام کے شادیانے بجا رہی ہے۔ پی آئی اے جیسے منافع بخش ادارے کو پہلے خسارے کی دلدل میں اتارا، اب آئی ایم ایف کے دباؤ پر اس کی نج کاری کر کے خوشیاں منائی جا رہی ہیں۔ اسٹیل ملز کو تباہ کر کے مکمل طور پر بند کیا اور کوئی پرسان حلال نہیں، کیا معیشت ایسے مستحکم ہوتی ہے؟ 2025 میں عوام مہنگائی و غربت کے ہاتھوں یرغمال بنے رہے۔ آٹا، چینی جیسی عام استعمال کی اشیا کی قیمتیں حکومتی کنٹرول سے باہر ہو گئیں۔ غربت کا گراف اوپر چلا گیا، دفاع کے علاوہ ہر شعبے پر مایوسی غالب رہی۔ سوال یہ ہے کہ کیا حکومت 2025 کی مایوسیوں کو 2026 کی امیدوں میں بدل سکتی ہے؟

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: ہے اور کے لیے

پڑھیں:

آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق

آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کے انتخابات سے قبل اہم سیاسی پیشرفت سامنے آئی ہے جہاں استحکام پاکستان پارٹی (آئی پی پی) اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس نے انتخابی اتحاد اور مختلف حلقوں میں سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے اصولی فارمولے پر اتفاق کر لیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: آزاد کشمیر میں انتخابی عمل سبوتاژ کرنے کی کوششیں ناکام بنائیں گے، چیف الیکشن کمشنر کا واضح پیغام

یہ اتفاق رائے استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر کے صدر اور سابق وزیراعظم سردار تنویر الیاس خان اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے صدر و سابق وزیراعظم سردار عتیق احمد خان کے درمیان ملاقات کے دوران ہوا۔

ملاقات میں آزاد کشمیر کی مجموعی سیاسی صورتحال، آئندہ قانون ساز اسمبلی کے انتخابات اور دونوں جماعتوں کے درمیان انتخابی تعاون پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

دونوں رہنماؤں نے مختلف انتخابی حلقوں میں سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے اصولی فارمولے کی منظوری دے دی جبکہ انتخابات کے بعد بھی مشترکہ حکمت عملی کے تحت آگے بڑھنے پر اتفاق کیا گیا۔

مزید پڑھیے: تنویر الیاس کے قافلے پر حملہ، وزیراعظم آزاد کشمیر فیصل ممتاز راٹھور کی شدید مذمت

ملاقات میں فیصلہ کیا گیا کہ دونوں جماعتوں کی مشترکہ رابطہ کمیٹی جلد مختلف حلقوں میں امیدواروں کی حمایت اور سیٹ ایڈجسٹمنٹ سے متعلق حتمی اعلان کرے گی۔

سیاسی مبصرین کے مطابق اس اتحاد کو آزاد کشمیر کے انتخابات میں ایک اہم پیشرفت قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ دونوں جماعتیں مشترکہ حکمت عملی کے ذریعے انتخابی میدان میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کی کوشش کر رہی ہیں۔

مزید پڑھیں: آزاد کشمیر میں آئندہ حکومت استحکام پاکستان پارٹی کی ہوگی، تنویر الیاس کا دعویٰ

ملاقات کے موقع پر سابق معاون خصوصی سردار امتیاز شاہین، مسلم کانفرنس یوتھ ونگ کے چیئرمین سردار عثمان عتیق، کھائیگلہ پونچھ سے مسلم کانفرنس کے نامزد امیدوار ڈاکٹر عرفان اشرف، سابق امیدوار اسمبلی سردار منظور ایڈووکیٹ، سابق ڈی جی ہیلتھ سردار محمود خان، پولیٹیکل ایڈوائزر سردار افتخار رشید، ممبر میونسپل کارپوریشن باغ سردار شجاع منگول ایڈووکیٹ، سابق پولیٹیکل سیکرٹری سردار شبریز صابر، پیر عبدالقادر، سردار عفان عتیق، راجہ عبدالجبار اور اسٹاف آفیسر سردار حفیظ خان بھی موجود تھے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے صدر و سابق وزیراعظم سردار عتیق احمد خان استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر تنویر الیاس اور سرادر عتیق احمد کی ملاقات سابق وزیراعظم سردار تنویر الیاس خان

متعلقہ مضامین

  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق
  • فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
  • معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
  • پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی
  • پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہوئے ہے، اسحاق ڈار