data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

لوئردیر(جسارت نیوز)نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان لیاقت بلوچ نے جماعت اسلامی لوئر دیر کے ماہانہ تربیتی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان تعلقات میں بہتری وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ خطے میں پائیدار امن، معاشی استحکام اور باہمی اعتماد کے لیے دونوں ممالک کو دانشمندی، تحمل اور حکمت عملی سے آگے بڑھنا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ افغان مہاجرین ہمارے دینی، اخلاقی اور انسانی بھائی ہیں۔ مہاجرین کے ساتھ سختی، بے حسی اور زبردستی کے اقدامات مسائل کو حل نہیں بلکہ مزید پیچیدہ کرتے ہیں۔ ریاست کو چاہیے کہ مہاجرین کے ساتھ نرم رویہ اپنایا جائے، انہیں باعزت واپسی کے لیے مناسب وقت اور سہولت دی جائے۔ افغان حکومت بھی جذباتی ردِعمل کے بجائے حکمت، سنجیدگی اور زمینی حقائق کو سامنے رکھے۔لیاقت بلوچ نے کہا کہ پاک افغان تعلقات خراب ہونے کا نقصان صرف حکومتوں کو نہیں بلکہ دونوں ممالک کے عوام کو اٹھانا پڑتا ہے۔ تجارت، تعلیم، روزگار اور امن سب اس کشیدگی کی نذر ہو رہے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ سرحدی مسائل، سیکورٹی خدشات اور سفارتی اختلافات بات چیت کے ذریعے حل کیے جائیں۔انہوں نے تحریک انصاف پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ تحریک انصاف کو احتجاجی سیاست اور غیر سنجیدگی ترک کر کے قومی معاملات میں بالغ نظری کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ ملک اس وقت سنگین معاشی، سیاسی اورسیکورٹی بحرانوں میں گھرا ہوا ہے، ایسے میں ضد، انا اور سوشل میڈیا کا غلط استعمال ملک کے لیے نقصان دہ ہے۔نائب امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں گزشتہ 13 سال سے تحریک انصاف کی حکومت مسلط ہے، لیکن صوبہ آج بھی بدترین بدانتظامی، کرپشن اور ادارہ جاتی زوال کا شکار ہے۔ صحت، تعلیم، بلدیات، پولیس اور پٹوار کا نظام زبوں حالی کی تصویر پیش کر رہا ہے۔ اصلاحات صرف نعروں تک محدود ہیں، عملی طور پر کوئی نمایاں بہتری نظر نہیں آتی۔ انہوں نے واضح کیا کہ صوبے کے بہت سے مسائل کا تعلق نہ تو اسٹیبلشمنٹ سے ہے اور نہ ہی وفاق سے، بلکہ یہ صوبائی حکومت کی نااہلی، غلط ترجیحات اور ناقص حکمرانی کا نتیجہ ہیں۔ اگر نیت ہوتی تو کئی مسائل آج بھی صوبائی سطح پر حل کیے جا سکتے تھے، لیکن بدقسمتی سے حکومت نے سنجیدہ طرزِ حکمرانی کے بجائے الزام تراشی کو اپنا شعار بنایا ہوا ہے۔لیاقت بلوچ نے کہا کہ جماعت اسلامی واحد سیاسی جماعت ہے جو اصول، دیانت اور عوامی خدمت کی سیاست پر یقین رکھتی ہے۔ ہم اقتدار کے لیے نہیں بلکہ نظام کی اصلاح، کرپشن کے خاتمے اور عوام کو ان کا حق دلانے کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔آخر میں انہوں نے کارکنان کو تلقین کی کہ وہ دعوت، تربیت اور خدمت کے میدان میں مزید فعال کردار ادا کریں اور عوام میں جماعت اسلامی کا پیغام امید، دیانت اور تبدیلی کے طور پر لے کر جائیں۔

جسارت نیوز.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: جماعت اسلامی لیاقت بلوچ نے کہا کہ انہوں نے کے لیے

پڑھیں:

‏‏سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو

راولپنڈی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) ‏علیمہ خان کا سہیل آفریدی کو مشورہ، کہا سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کا کہنا ہے کہ جب بھی حکومت کو لگتا ہے عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کیلئے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میڈیا ہم سے سوال کرنے کے بجائے حکومت سے جواب طلب کرے کہ عمران خان کو گزشتہ 7 ماہ سے غیر قانونی قیدِ تنہائی میں کیوں رکھا گیا ہے؟ صحافی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے جا کر اس قیدِ تنہائی کی وجہ پوچھیں، ہمارا خاندان کسی قسم کا سیاسی این آر او یا ریلیف نہیں مانگ رہا، قیدِ تنہائی کا خاتمہ عمران خان کا بنیادی اور قانونی حق ہے۔

(جاری ہے)

علیمہ خان نے الزام لگایا کہ گزشتہ 8 مہینوں سے عمران خان کو ذہنی و جسمانی ٹارچر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، ملک میں کوئی قانون نہیں چل رہا، اگر حکومت ہمیں جیل میں ڈالنا چاہتی ہے تو شوق سے ڈال دے، لیکن عمران خان کی آنکھوں کے علاج اور معائنے کے لیے انہیں فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے اور وہاں کے ماہر ڈاکٹرز سے ان کا طبی معائنہ کروایا جائے۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ سابق آرمی چیف کیوں عمران خان سے ملنے جائیں گے؟ وہ تو عمران خان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ ہی نہیں سکتے، پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بھی واضح کر دیا ہے کہ یہ تمام باتیں بالکل جھوٹ ہیں، جب بھی حکومت کو لگتا ہے کہ عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کے لیے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، جبکہ حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔

عمران خان کی ہمشیرہ نے کہا کہ جب آپ لوگوں کے ووٹ چوری کریں گے اور عوام سمجھ جائیں گے کہ ان کے ووٹ کی کوئی حیثیت نہیں رہی، تو پھر ان کا شدید ردعمل آئے گا، حکومت کبھی لاٹھی سے تو کبھی گولی سے عوام کو مارتی ہے، ووٹ چوری سے پی ٹی آئی کا نہیں بلکہ اس عام شہری کا حق مارا جاتا ہے جس کا وہ ووٹ ہوتا ہے، گلگت بلتستان میں بھی وہی کچھ دہرایا جا رہا ہے جو عام انتخابات 2024ء میں کیا گیا تھا، وہاں پی ٹی آئی کو انتخابی مہم تک چلانے کی اجازت نہیں دی جا رہی، یاد رکھیں ظلم ہمیشہ وہی کرتا ہے جو اندر سے خود شدید خوفزدہ ہوتا ہے۔

علیمہ خان نے کہا کہ ہم پی ٹی آئی کی قیادت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ آ کر یہاں بیٹھیں، جب قیادت آئے گی تو تمام ایم این ایز، ایم پی ایز، سینیٹرز اور تنظیم کے سینئر رہنما یہاں موجود ہوں گے، اگر پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت اس فائنل کال پر بھی باہر نہیں نکلتی، تو پھر میڈیا اور عوام کا حق ہے کہ وہ ان رہنماؤں سے سوال کریں کہ وہ اپنے عظیم لیڈر کے لیے باہر کیوں نہیں آ رہے۔

متعلقہ مضامین

  • امام خمینی، فکر، قیادت اور انقلاب کا استعارہ
  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • گلگت میں ن لیگ کے ترقیاتی کاموں کا کوئی جماعت مقابلہ نہیں کرسکتی، احسن اقبال
  • وسائل پر قبضے کی جنگ: افغان طالبان میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے
  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
  • ‏‏سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو
  • صدر زرداری کی اٹلی کے صدر ور عوام کو یومِ جمہوریہ پر مبارکباد
  • قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی