ایران: جاری مظاہرے پُرتشدد رنگ اختیار کرگئے،تشدد سے پیرا ملٹری فورس کا ایک اہلکار جاں بحق
اشاعت کی تاریخ: 2nd, January 2026 GMT
ایران میں اتوار کے روز شروع ہونے والے مظاہرے پر تشدد رنگ اختیار کرچکے ہیں اور ایران کے سرکاری میڈیا کے مطابق مظاہروں کے دوران ایرانی سکیورٹی فورس کا ایک اہلکار جاں بحق ہوگیا۔
غیرملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق سرکاری ٹیلی ویژن نے صوبہ لورستان کے نائب گورنر سعید پورعلی کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ شہر کوہدشت سے تعلق رکھنے والے بسیج کے 21 سالہ اہلکار کو بدھ کی رات ہنگامہ آرائی کرنے والوں نے ہلاک کر دیا۔
یہ اتوار کو دارالحکومت تہران سے شروع ہونے والے مظاہروں کے بعد پہلی سرکاری طور پر تصدیق شدہ ہلاکت ہے۔
بسیج ایک رضاکار پیراملٹری فورس ہے جو ایران کے پاسدارانِ انقلاب سے منسلک ہے۔
سعید پورعلی کے مطابق کوہدشت میں مظاہروں کے دوران پتھراؤ کے واقعات میں 13 پولیس اہلکار اور بسیج کے ارکان زخمی بھی ہوئے۔
ایران میں جاری مظاہروں کا آغاز تہران میں دکانداروں کی جانب سے مہنگائی اور معاشی جمود کے خلاف ہڑتال سے ہوا تھا جس کے بعد یہ دیگر شہروں تک پھیل گئے، منگل کے روز کم از کم 10 جامعات کے طلبہ بھی احتجاج میں شامل ہو گئے تھے۔
ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے بھی گزشتہ روز حکومت سے معاشی حالات بہتر بنانے کے لیے اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔
ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا ’اسلامی نقطۂ نظر سے اگر ہم لوگوں کے روزگار اور معاشی مسائل حل نہیں کرتے تو ہم جہنم میں جائیں گے‘۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
پڑھیں:
معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
کراچی: ملک میں معاشی سرگرمیوں میں بہتری کے ساتھ کے الیکٹرک صنعتی صارفین کی جانب سے بجلی کے استعمال نے نئی بلند ترین سطح حاصل کر لی۔ مالی سال 2026 کے دوران کے الیکٹرک کے صنعتی فیڈرز پر بجلی کی مجموعی کھپت 6 ارب 8 کروڑ یونٹس (6.08 ارب یونٹس) ریکارڈ کی گئی، جو ادارے کی تاریخ میں کسی بھی مالی سال کے دوران سب سے زیادہ ہے۔
کے الیکٹرک کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق صنعتی بجلی کی طلب میں یہ نمایاں اضافہ ایسے وقت میں سامنے آیا جب پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کی شرح نمو 3.7 فیصد رہی۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ کراچی کی صنعتوں کو مسلسل، قابل اعتماد اور بلا تعطل بجلی کی فراہمی نے صنعتی پیداوار اور معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا۔
کے الیکٹرک کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سید محمد طہٰ نے کہا کہ صنعتی بجلی کے استعمال میں ریکارڈ اضافہ حکومت پاکستان، اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل (SIFC) اور کراچی کی صنعتی برادری کی مشترکہ کوششوں کا نتیجہ ہے۔ ان کے مطابق سرمایہ کاری کے بہتر ماحول، صنعتی سرگرمیوں میں تیزی اور کاروباری اعتماد میں اضافے نے اس کامیابی کو ممکن بنایا۔
انہوں نے کہا کہ کراچی ملک کی معاشی شہ رگ ہے اور کے الیکٹرک 2013 سے صنعتی فیڈرز کو لوڈشیڈنگ سے مستثنیٰ رکھے ہوئے ہے تاکہ صنعتوں کی پیداوار اور برآمدات متاثر نہ ہوں۔
بی تھری کیٹیگری میں سب سے زیادہ بجلی استعمال
اعلامیے کے مطابق سب سے زیادہ بجلی کا استعمال بی تھری (B3) کیٹیگری میں ریکارڈ کیا گیا، جس میں 501 سے 5 ہزار کلوواٹ تک بجلی استعمال کرنے والی صنعتیں شامل ہیں۔ اس زمرے میں سیمنٹ، اسٹیل، ٹیکسٹائل، کیمیکل اور دیگر بڑے صنعتی شعبے شامل ہیں۔
ماہانہ بنیاد پر جون 2026 میں صنعتی بجلی کی کھپت سب سے زیادہ رہی، جبکہ اپریل 2026 دوسرے نمبر پر رہا۔
گزشتہ سال کے مقابلے میں 20 فیصد سے زائد اضافہ
اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2025 میں صنعتی صارفین نے 5.04 ارب یونٹس بجلی استعمال کی تھی، جبکہ مالی سال 2026 میں یہ مقدار بڑھ کر 6.08 ارب یونٹس تک پہنچ گئی، جو 20 فیصد سے زائد سالانہ اضافہ ظاہر کرتی ہے۔
اس سے قبل مالی سال 2022 میں صنعتی بجلی کی کھپت 5.84 ارب یونٹس ریکارڈ کی گئی تھی، تاہم رواں مالی سال میں یہ ریکارڈ بھی ٹوٹ گیا۔
349 نئے صنعتی کنکشنز فراہم
کے الیکٹرک کے مطابق مالی سال 2026 کے دوران 349 نئے صنعتی کنکشنز جاری کیے گئے، جبکہ 273 صنعتی صارفین نے اپنے بجلی کے لوڈ میں اضافہ کیا، جس سے مجموعی طور پر 168 میگاواٹ اضافی طلب قومی گرڈ میں شامل ہوئی۔
اعلامیے میں کہا گیا کہ حکومت کی جانب سے صنعتوں کو کیپٹو پاور پلانٹس سے قومی گرڈ پر منتقل کرنے کی پالیسی، معاشی بحالی اور صنعتی پیداوار میں اضافے نے بھی بجلی کی طلب بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا۔
کمپنی کا مزید کہنا ہے کہ صنعتی فیڈرز کی ریکوری کی شرح تمام صارفین کے مختلف زمروں میں سب سے بہتر رہی، جو بروقت بلوں کی ادائیگی اور لوڈشیڈنگ سے استثنیٰ کے درمیان مضبوط تعلق کو ظاہر کرتی ہے۔
کے الیکٹرک نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ کراچی کی صنعتوں اور کاروباری سرگرمیوں کو قابل اعتماد اور بلا تعطل بجلی کی فراہمی آئندہ بھی اس کی اولین ترجیح رہے گی تاکہ ملکی معیشت کی ترقی میں اپنا کردار جاری رکھا جا سکے۔