ایران میں مظاہرے پر تشدد رنگ اختیار کرگئے‘2مظاہرین ‘اہلکار جاں بحق
اشاعت کی تاریخ: 2nd, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
تہران (مانیٹرنگ ڈیسک ) ایران کے جنوب مغربی شہر لورڈگان میں ہنگامی کے خلاف حکومت مخالف احتجاج پْرتشدد مظاہرے میں تبدیل ہوگیا جس میں3ہلاکتیں بھی ہوئیں۔عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق سیکورٹی فورسز کے ساتھ مظاہرین کی جھڑپوں میں کم از کم 2 مظاہرین مارے گئے۔وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ مظاہرین نے گورنر آفس، مسجد، ٹاؤن ہال اور بینکوں پر پتھراؤ کیا جنہیں پولیس نے آنسو گیس شیلنگ اور ہوائی فائرنگ سے منتشر کرنے کی کوشش کی۔خیال رہے کہ یہ پہلی بار ہے کہ ہوشربا مہنگائی کے خلاف احتجاج میں عام شہریوں کی موت ہوئی ہو جب کہ 10 سے زاید شدید زخمی بھی ہیں۔زخمیوں میں سے دو حالت نازک ہونے کے باعث ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے جب کہ 50 سے زاید مظاہرین کو حراست میں بھی لیا گیا۔علاوہ ازیں لورستان کے صوبے میں بسیج (Basij) نامی رضا کار فورس کا ایک 21 سالہ رکن بھی ہلاک ہوا۔یاد رہے کہ عوامی احتجاج اتوار کو دارالحکومت تہران سے شروع ہوا تھا جہاں دکانداروں نے بڑھتی ہوئی قیمتوں اور شدید مہنگائی کے خلاف ہڑتال اور مظاہرے کیے۔ایران کی کرنسی اس سال کئی گنا کمزور ہوگئی ہے، جس کی وجہ سے خوراک، ادویات اور توانائی کی قیمتیں آسمان کو چھونے لگیں۔یہ مظاہرے اب ملک کے مختلف شہروں میں پھیل چکے ہیں اور زیادہ تر ان کا محور معاشی مشکلات، بے روزگاری، کم ہوتی خریداری قوت اور حکومت کے معاشی فیصلوں کے خلاف عوامی ناراضی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کے خلاف
پڑھیں:
مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔