ترکیہ کے شہر استنبول میں ہزاروں افراد نے نئے سال کے آغاز پر غزہ کی حمایت میں مارچ کیا۔

مظاہرین صبح سویرے استنبول کی مشہور مساجد میں جمع ہوئے جن میں حاجیہ صوفیہ گرانڈ مسجد، سلطان احمد، فاتح، سلیمانیہ، اور امینو نوو مسجد شامل ہیں۔ مظاہرین نے غزہ میں نسل کشی کے خاتمے کا مطالبہ کیا اور مساجد کے صحنوں میں ترکی اور فلسطینی پرچم لہرا کر یکجہتی کا اظہار کیا۔

یہ بھی پڑھیے: ’غزہ جل رہا تھا تو خاموشی، اب احتجاج کیوں؟‘، سوشل میڈیا صارفین کا ٹی ایل پی پر اعتراض

انہوں نے مزید بتایا کہ فٹ بال کلب بھی اپنے شائقین سے مظاہروں میں شرکت کی اپیل کر رہے ہیں۔

واضح رہے کہ گزشتہ سال بھی ایک ایسا ہی مظاہرہ ہوا تھا جس کا انتظام صدر رجب طیب اردوان کے بیٹے بلال اردوان نے کیا تھا۔

سرد موسم کے باوجود مظاہرین کی بڑی تعداد مظاہرے کے لیے موجود تھی۔ حکام نے سلطان احمد اسکوائر کے ارد گرد سخت حفاظتی اقدامات کیے، اور شرکا کے لیے گرم مشروبات بھی فراہم کیے گئے۔

نماز فجر کے بعد مظاہرین گالاتا برج کی جانب مارچ کیا، جس میں وزراء، سینیئر حکومتی عہدیدار اور ریاستی شخصیات بھی شریک ہوئے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

احتجاج استنبول غزہ فلسطین.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: استنبول فلسطین

پڑھیں:

مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی

مستونگ میں فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اوران کے گن مین شہید جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے.وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیر داخلہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا۔ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پرنامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے۔ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی۔واقعے کے بعد لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظام انصاف پر دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی. واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا، جبکہ ججز، وکلاء اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اور ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔

دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور حملہ آوروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی۔

متعلقہ مضامین

  • کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
  • خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 22 افراد جاں بحق
  • گلگت بلتستان میں موسلادھار بارشوں سے سیلابی تباہی، شاہراہیں اور پل بہہ گئے، ہزاروں افراد محصور : انتباہ جاری
  • دبئی کا بڑا اعلان؛ دوستوں اور رشتہ داروں کو سیاحت پر بلائیں، ہزاروں درہم انعام پائیں
  • بارشوں سے پنجاب میں اب تک 21 شہری جاں بحق اور 154 زخمی ہوئے، پی ڈی ایم اے
  • مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • مقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ
  • مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
  • مستونگ میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے سیشن جج عبد الحکیم کاکڑ جاں بحق