ایران میں مہنگائی کیخلاف احتجاج شدت اختیار کرگیا، 2 ہلاکتیں؛ متعدد زخمی
اشاعت کی تاریخ: 1st, January 2026 GMT
ایران کے جنوب مغربی شہر لورڈگان میں ہنگامی کے خلاف حکومت مخالف احتجاج پُرتشدد مظاہرے میں تبدیل ہوگیا جس میں ہلاکتیں بھی ہوئیں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق سیکیورٹی فورسز کے ساتھ مظاہرین کی جھڑپوں میں کم از کم 2 مظاہرین مارے گئے۔
وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ مظاہرین نے گورنر آفس، مسجد، ٹاؤن ہال اور بینکوں پر پتھراؤ کیا جنھیں پولیس نے آنسو گیس شیلنگ اور ہوائی فائرنگ سے منشتر کرنے کی کوشش کی۔
خیال رہے کہ یہ پہلی بار ہے کہ ہوشربا مہنگائی کے خلاف احتجاج میں عام شہریوں کی موت ہوئی ہو جب کہ 10 سے زائد شدید زخمی بھی ہیں۔
زخمیوں میں سے دو حالت نازک ہونے کے باعث ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے جب کہ 50 سے زائد مظاہرین کو حراست میں بھی لیا گیا۔
علاوہ ازیں لورستان کے صوبے میں بسیج (Basij) نامی رضا کار فورس کا ایک 21 سالہ رکن بھی ہلاک ہوا۔
یاد رہے کہ عوامی احتجاج اتوار کو دارالحکومت تہران سے شروع ہوا تھا جہاں دکانداروں نے بڑھتی ہوئی قیمتوں اور شدید مہنگائی کے خلاف ہڑتال اور مظاہرے کیے۔
ایران کی کرنسی اس سال کئی گنا کمزور ہوگئی ہے، جس کی وجہ سے خوراک، ادویات اور توانائی کی قیمتیں آسمان کو چھونے لگیں۔
یہ مظاہرے اب ملک کے مختلف شہروں میں پھیل چکے ہیں اور زیادہ تر ان کا محور معاشی مشکلات، بے روزگاری، کم ہوتی خریداری قوت اور حکومت کے معاشی فیصلوں کے خلاف عوامی ناراضگی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کے خلاف
پڑھیں:
نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
بی جے پی کے لیڈر نے کہا کہ ان کی جماعت جموں و کشمیر بھر سے عوامی آراء اور شکایات جمع کر رہی ہے اور عوامی مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھایا جائیگا۔ اسلام ٹائمز۔ بھارت میں برسراقتدار مخلوط حکومت کی اتحادی جماعت بی جے پی کے لیڈر اور راجیہ سبھا کے رکنِ پارلیمان انجینیئر غلام علی کھٹانہ نے الزام عائد کیا کہ جموں و کشمیر میں نیشنل کانفرنس کی قیادت والی حکومت عوامی مسائل کے حل میں ہر محاذ پر ناکام ثابت ہوئی ہے، جس کے باعث عوام میں بے چینی اور ناراضگی بڑھ رہی ہے۔ ضلع رامبن کے سب ڈویژن بنیہال میں منعقدہ ایک عوامی دربار سے خطاب کرتے ہوئے جس میں مقامی باشندوں اور سرکاری افسران نے شرکت کی، غلام علی کھٹانہ نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ دو برسوں کے دوران تعلیم، صحت، پینے کے صاف پانی اور بجلی کے شعبوں کی حالت مزید خراب ہوئی ہے۔ انہوں نے وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت پر عوام سے دور ہونے کا الزام عائد کرتے ہوئے زیادہ جوابدہی کا مطالبہ کیا۔
بی جے پی کے لیڈر نے کہا کہ ان کی جماعت جموں و کشمیر بھر سے عوامی آراء اور شکایات جمع کر رہی ہے اور عوامی مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھایا جائے گا۔ انہوں نے مرکز کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر کی انتظامیہ کی کارکردگی پر وائٹ پیپر جاری کرنے کا مطالبہ بھی کیا اور گوجر-بکروال برادریوں اور بے گھر کشمیری پنڈتوں کے لئے مزید حفاظتی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔ عوامی ملاقات کے دوران مختلف عوامی مسائل اور ترقیاتی امور پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا، جس میں مقامی حکام، بی جے پی رہنماؤں اور علاقے کے باشندوں نے شرکت کی۔