شادی کا مطالبہ، 45 سالہ شخص کا بجلی کے کھمبے پر انوکھا احتجاج
اشاعت کی تاریخ: 1st, January 2026 GMT
مطالبات بینرز پر لکھے جاتے ہیں اور کبھی نعروں میں گونجتے ہیں مگر سندھ کے شہر بھٹ شاہ میں ایک شخص نے اپنے مطالبے کے لیے ایسا راستہ اختیار کیا جس نے دیکھنے والوں کو حیران کر دیا۔
شادی کی خواہش لیے 45 سالہ شخص بجلی کے کھمبے پر چڑھ گیا اور یوں اس کا احتجاج پورے شہر کی توجہ کا مرکز بن گیا۔
سندھ کے شہر بِھٹ شاہ میں انوکھا اور دلچسپ واقعہ، 45 سالہ شخص اپنی شادی کروانے کا مطالبہ لے کر بجلی کے کھمبے پر چڑھ گیا اور تاریں پکڑ کر بیٹھ گیا۔۔!! pic.
— Khurram Iqbal (@khurram143) January 1, 2026
سوشل میڈیا صارفین اس پر دلچسپ تبصرے کرتے نظر آئے، کسی نے لکھا کہ 2026 کا پہلا انوکھا احتجاج سامنے آ گیا ہے تو کوئی یہ کہتا نظر آیا کہ شادی کے کچھ دن بعد بھی یہ شخص یہیں بیٹھا ہوگا۔ کئی صارفین کہتے نظر آئے کہ یہ شخص 45 سال کا نہیں بلکہ 65 سال کا لگ رہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
انوکھا احتجاج سندھ ویڈیو وائرل
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: انوکھا احتجاج ویڈیو وائرل
پڑھیں:
بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی
سربراہ پاکستان سنی تحریک نے کہا کہ وقت کا تقاضا ہے کہ عوام کو مہنگائی، بے روزگاری اور بنیادی سہولیات کے بحران سے نجات دلانے کے لیے فوری، سنجیدہ اور مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ عوام کا اعتماد بحال ہو اور ملک معاشی استحکام کی جانب گامزن ہو سکے۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان سنی تحریک کے سربراہ محمد شاداب رضا نقشبندی نے کہا ہے کہ گیس، بجلی اور پانی کی مسلسل قلت، بڑھتی ہوئی مہنگائی اور حکومتی معاشی پالیسیاں عوام کے لیے شدید پریشانی کا باعث بن چکی ہیں، حکمران طبقہ تاجروں، کسانوں، مزدوروں اور عام شہریوں کو معاشی ریلیف اور سہولیات فرام کرنے میں بے بس ہے۔ ان کیالات کا اظہار انہوں نے مرکز اہلسنت سے جاری ایک بیان میں کیا۔ محمد شاداب رضا نقشبندی نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بار بار ہونے والے اضافے نے نہ صرف شہریوں کی مشکلات میں اضافہ کیا ہے بلکہ معیشت کو بھی عدم استحکام سے دوچار کر دیا ہے، بازاروں میں سناٹے تاجر بھی پریشان حال ہیں، حکمرانوں کے پاس تاحال ایسی عوام دوست معاشی پالیسی دکھائی نہیں دے رہی جو مہنگائی پر قابو پا سکے اور عام آدمی کو حقیقی سہولت فراہم کرے۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو چاہیئے کہ دعووں اور اعلانات کے بجائے عملی اقدامات کرے، عوام کی بنیادی ضروریات کی فراہمی کو یقینی بنائے اور معاشی استحکام کے لیے بڑے، مؤثر اور دیرپا فیصلے کرے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت اور آئین کا بنیادی مقصد عوام کو باعزت، محفوظ اور خوشحال زندگی فراہم کرنا ہے، حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ شہریوں کو معیاری تعلیم، بہترین طبی سہولیات، روزگار کے مواقع، معاشی استحکام اور بنیادی ضروریات کی فراہمی یقینی بنائے، عوام کو مہنگائی، بے روزگاری اور غربت سے نجات دلانے کے لیے مؤثر اور عوام دوست پالیسیاں اختیار کی جائیں، حقیقی جمہوریت اسی وقت مضبوط ہوتی ہے جب آئین کی بالادستی، قانون کی مساوی حکمرانی اور عوامی فلاح و بہبود کو اولین ترجیح دی جائے۔