ترکیہ؛ سالِ نو پر غزہ سے اظہارِ یکجہتی کیلیے لاکھوں شہری سڑکوں پر نکل آئے
اشاعت کی تاریخ: 1st, January 2026 GMT
نئے سال کے پہلے دن ترکیہ کے شہر استنبول میں غزہ کے فلسطینیوں کے ساتھ اظہارِ یکجہتی اور اسرائیلی جنگ کے خاتمے کے مطالبے کے لیے ہزاروں افراد سڑکوں پر نکل آئے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق فجر سے قبل استنبول کی بڑی مساجد، جن میں آیاصوفیہ گرینڈ مسجد، سلطان احمد، فاتح، سلیمانیہ اور امینونو نئی مسجد پر شہریوں کی بڑی تعداد جمع ہوئی۔
مسجدوں کے صحنوں میں لوگوں نے ترک اور فلسطینی پرچم لہرائے اور غزہ میں جاری جنگ کو نسل کشی قرار دیتے ہوئے اس کے فوری خاتمے کا مطالبہ کیا۔
یہ مارچ صبح سویرے نمازِ فجر کے بعد کیا گیا جس میں مرد، خواتین، نوجوان، سرکاری عہدیدار اور مختلف سماجی تنظیموں کے نمائندے شریک تھے۔
الجزیرہ کی ترکیہ سے نمائندہ سینم کوسی اوغلو کے مطابق لوگ نئے سال کے پہلے ہی دن فلسطینی عوام کے ساتھ اپنی حمایت کا اظہار کرنا چاہتے تھے۔
اس احتجاج میں فٹبال کلبز نے بھی اپنے مداحوں سے شرکت کی اپیل کی تھی جب کہ فلسطین کا مسئلہ ترکیہ میں حکمران جماعت اے کے پارٹی سے لے کر بڑی اپوزیشن جماعتوں تک تمام سیاسی حلقوں میں حمایت رکھتا ہے۔
شدید سرد موسم کے باوجود عوام کی بڑی تعداد شریک ہوئی۔ سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے خاص طور پر سلطان احمد اسکوائر کے اطراف جہاں شرکا کو گرم مشروبات بھی فراہم کیے گئے۔
نماز کے بعد مظاہرین نے گالاتا برج کی جانب مارچ کیا اس موقع پر وزرا، اعلیٰ سرکاری افسران اور ریاستی شخصیات بھی موجود تھیں۔ مرکزی پروگرام صبح 8:30 بجے مقامی وقت شروع ہوا۔
یہ احتجاج “ہم خاموش نہیں رہتے، ہم فلسطین کو نہیں بھولتے” کے عنوان سے منعقد ہوا، جس کا اہتمام ہیومینیٹیرین الائنس اور نیشنل ول پلیٹ فارم نے کیا۔ اس میں 400 سے زائد سول سوسائٹی تنظیموں نے شرکت کی۔
گالاتا برج پر فلسطینیوں کے لیے دعائیں کی گئیں اور روٹس کے نام سے ایک آرٹ انسٹالیشن بھی پیش کی گئی جس کا مقصد منتظمین کے بقول غزہ میں ثقافت اور فنونِ لطیفہ کو نشانہ بنائے جانے کی طرف توجہ دلانا تھا۔
اس کے علاوہ عالمی شہرت یافتہ فنکاروں اور موسیقاروں نے بھی پرفارمنس پیش کی۔
احتجاج کے دوران فلسطینی جدوجہد کی علامت، معروف کردار حنظلہ کا ایک بڑا بینر بھی آویزاں کیا گیا، جو اس مظاہرے کی نمایاں علامت بن کر سامنے آیا۔
یہ مارچ نہ صرف ترکیہ بلکہ دنیا بھر میں فلسطین کے حق میں جاری عوامی حمایت کا ایک مضبوط اظہار قرار دیا جا رہا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
کراچی کے سرکاری کالجز میں انٹرسال اول کیلیے داخلے شروع نہ ہوسکے، سوا لاکھ طلبا منتظر
محکمہ کالج ایجوکیشن سندھ واضح اعلان کے باوجود کراچی میں سرکاری کالجوں میں داخلہ شروع نہیں کرسکا ہے اور کم از کم سوا لاکھ طلبہ انٹر سال اول میں داخلوں کے منتظر ہیں۔
تفصیلات کے مطابق انٹر سال اول میں داخلہ یکم جون سے شروع ہونے تھے اس سلسلے میں 23 مئی کو قومی اخبارات میں اشتہارات جاری کیے گئے تھے جس کے مطابق تمام سرکاری کالجوں میں انٹر سال اول میں نویں جماعت کے نتائج کی بنیاد پر یکم جون سے داخلہ فارم کی رجسٹریشن شروع ہوجانی تھی جبکہ داخلہ فارم رجسٹریشن کی آخری تاریخ 15 جولائی مقرر کی گئی ہے۔
انٹر سال اول میں صرف کراچی کے سرکاری کالجوں میں سوا لاکھ کے قریب طلبہ داخلہ لیتے ہیں جن کے لیے سینٹرلائزڈ ایڈمیشن پالیسی کے تحت 6 مختلف فیکیلٹیز پری انجینئرنگ، پری میڈیکل، کمپیوٹر سائنس ، کامرس ، ہیومینیٹیز اور ہوم اکنامکس میں داخلے دیے جاتے ہیں۔
اس سلسلے میں جب میٹرک کا امتحان دینے والے داخلے کے خواہشمند طلبہ نے www.seccap.dgcs..gos.pk کے پورٹل پر داخلہ رجسٹریشن فارم تک پہنچنے کی کوشش کی تو معلوم ہوا کہ یہ پورٹل ہی بند ہے۔
ادھر "ایکسپریس" نے اس سلسلے میں ڈائریکٹر جنرل کالجز سندھ پروفیسر زاہد راجپر سے جب اس سلسلے میں رابطہ کیا تو ان کا کہنا تھا کہ تکنیکی وجوہات کی بنا پر پورٹل بند ہے ہماری ٹیکنیکل ٹیم کام کررہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پوری امید ہے کہ بدھ کی صبح تک پورٹل کھل جائے جس کے بعد طلبہ داخلے کے لیے اپلائی کرسکیں گے۔
ڈی جی کالجز کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس بار ہم نے تمام سرکاری کالجوں میں "ڈیس ایبل" کوٹہ مختص کیا ہے تاکہ ایسے طلبہ اس کوٹے کی بنیاد پر اپنے قرب و جوار کے کالجوں میں بھی اپلائی کرسکتے ہیں۔