حکومتی دعوے اور زمینی حقائق!
اشاعت کی تاریخ: 1st, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260102-03-2
وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان نے دو سال کے دوران بہترین معاشی ترقی کی ہے، اقتصادی اصلاحات ملک کے بہتر مستقبل کا پتا دے رہی ہیں۔ ہم کاغذی نہیں، عملی اقدامات کر رہے ہیں۔ ’’اقتصادی گورننس اصلاحات‘‘ کی تقریب رونمائی سے ویڈیو لنک خطاب کرتے ہوئے معاشی میدان میں اپنی حکومت کی کارکردگی کا دفاع کیا اور معاشی بہتری کے لیے اصلاحات کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے کہا کہ مشکل فیصلوںکے مثبت نتائج سامنے آرہے ہیں وزیر اعظم نے حکومت کی معاشی کامیابیوں کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ جب اقتدار سنبھالا تو ہمیں شدید چیلنجز کا شکار معیشت ورثے میں ملی، چیلنجز کے باوجود ہم نے ملک کو دوبارہ درست سمت میں ڈال دیا ہے، مشکل فیصلوں کے نتائج سامنے آ رہے ہیں۔ کرنٹ اکائونٹ خسارہ 3.
کس کی یہ مجال ہے کہ وہ وزیر اعظم اور ان کے وزیر خزانہ کے شاندار معاشی کارکردگی اور مہنگائی کے ملکی تاریخ کی کم ترین سطح پر ہونے کے دعوئوں کی تردید یا انہیں تسلیم کرنے سے انکار کی جرأت کرے مگر کیا کیا جائے ان زمینی حقائق کا جو ان دعوئوں کی تائید کرنے سے انکاری ہیں اور ان حکومتی اداروں کو بھی کون سمجھائے جو حکومتی وزرائے کرام کی تقاریر سنے اور پڑھے بغیر ہی اعداد و شمار اور رپورٹیں جاری کر دیتے ہیں۔ جس روز وزیر اعظم اپنی معاشی اصلاحات کے مثبت نتائج اور حکومت کی شاندار معاشی کارکردگی اور ان کے وزیر خزانہ مہنگائی کے ملکی تاریخ کی کم ترین سطح پر ہونے کی خوش خبریاں قوم کو سنا رہے تھے، عین اسی روز یعنی 2025ء کے آخری دن وزارت خزانہ نے ماہانہ اکنامک اپ ڈیٹ آئوٹ لک رپورٹ جاری کر دی، جس کے مطابق رواں مالی سال 2025-26ء کے پہلے پانچ ماہ میں کرنٹ اکائونٹ خسارہ کم ہو کر 81 کروڑ 20 لاکھ ڈالر رہا جب کہ رواں ماہ مہنگائی کی شرح بڑھ کر 6.5 فی صد تک جا چکی ہے، جولائی سے نومبر سرمایہ کاری 25.3 فی صد کمی سے 93 کروڑ ڈالر تک محدود ہے، پہلے 5 ماہ میں برآمدات 3.2 فی صد کمی سے 12.8 ارب ڈالر رہی، ترسیلات زر 9.3 فی صد اضافے سے 16.14 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، درآمدات میں 11.1 فی صد اضافہ، حجم 25.6 ارب ڈالر ریکارڈ کیا گیا۔ اس رپورٹ کی روشنی میں ہر شخص دیکھ سکتا ہے کہ وزیر اعظم اور وزیر خزانہ کے دعوئے کس حد تک درست ہیں وہ معاشی بہتری، سرمایا کاری کے لیے سازگار فضا اور کم ترین سطح پر مہنگائی کے دعویدار ہیں مگر ان کی اپنی ہی وزارت خزانہ کی اس رپورٹ میں حقائق کو بے نقاب کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ مہنگائی کی شرح میں کمی نہیں بلکہ اضافہ ہوا ہے۔ درآمدات میں اضافہ جب کہ برآمدات میں کمی ہوئی ہے اسی طرح ملک میں سرمایا کاری میں بھی اضافہ نہیں بلکہ 25.3 فی صد یعنی ایک چوتھائی سے بھی زائد کمی واقع ہوئی ہے۔ ہاں البتہ ترسیلات زر میں ضرور اضافہ ہوا ہے جس میں یقینا حکومت سے کہیں زیادہ بیرون ملک پاکستانیوں کی محنت و کاوش کو دخل ہے۔ اب آئیے ذرا اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کی طرف جس سے عام آدمی براہ راست متاثر ہوتا ہے گزشتہ ایک سال میں کون سی چیز کتنی مہنگی اور کون سی، چیز سستی ہوئی، ادارہ شماریات کی سرکاری رپورٹ میں تفصیلات سامنے آ گئیں۔ ادارہ شماریات کی دستاویزات کے مطابق ایک سال قبل ملک میں چینی کی اوسط فی کلو قیمت 137 روپے 33 پیسے تھی جواب 159 روپے 74 پیسے ہو چکی ہے تاہم سال 2025ء میں ملک میں چینی کی زیادہ سے زیادہ فی کلو قیمت 229 روپے تک پہنچی۔ ایک سال قبل ملک میں آٹے کے 20 کلو تھیلے کی اوسط قیمت 1794 روپے 93 پیسے تھی اور سال 2025ء کے اختتام پر آٹے کے 20 کلو تھیلے کی اوسط قیمت بڑھ کر 2199 روپے 85 پیسے پر پہنچ گئی۔ ایک سال قبل زندہ برائلر چکن کی فی کلو قیمت 409 روپے، 22 پیسے تھی اور اب چکن کی فی کلو قیمت بڑھ کر 424 روپے 89 پیسے ہو گئی ہے۔ ادارہ شماریات کی رپورٹ کے مطابق ایک سال میں بیف 13.01، گڑ 12.46 اور کیلے 11.24 فی صد مہنگے ہوئے، اسی طرح ایک سال میں پسی ہوئی مرچ 10.31 اور انڈے 9.71 فی صد مہنگے ہوئے جب کہ پائوڈر دودھ 9.51 فی صد مہنگا ہوا، ایک سال میں گیس چارجز میں 29.85 اور جلانے والی لکڑی کی قیمت میں 11.02 فی صد کا اضافہ ہوا۔ ایک سال کے دوران مٹن، تازہ دودھ، دہی، گھی کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوا۔ ادارہ شماریات کی دستاویزات کے مطابق ایک سال میں آلو 49.79 فی صد سستے ہوئے جب کہ لہسن 38.17 فی صد اور دال چنا کی قیمت میں 29.66 فی صد کی کمی ہوئی، اسی طرح پیاز 29.23 اور چائے کی پتی 17.79 فی صد سستی ہوئی۔ اہم ترین حکومتی ذمے داران کے دعوئوں اور سرکار ہی کے اداروں کے فراہم کردہ ان اعداد و شمار کی روشنی میں اس کے علاوہ کیا عرض کیا جا سکتا ہے کہ اس قدر اہم مناصب پر بیٹھ کر اس قدر غیر ذمے دارانہ طرزِ عمل ان کے شایان شان نہیں۔ خدارا وہ اپنے مناصب کی عزت اور وقار ہی کا خیال کریں اور زمینی حقائق کے منافی بلند بانگ دعوئوں کے ذریعے انہیں خاک میں نہ ملائیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ادارہ شماریات کی فی کلو قیمت ایک سال میں مہنگائی کے اضافہ ہوا کرتے ہوئے ارب ڈالر حکومت کی کے مطابق کی قیمت ملک میں بڑھ کر اور ان کے لیے
پڑھیں:
پنجاب حکومت کے اقدامات دھرے کے دھرے رہ گئے‘بارشوں نے تباہی مچادی
لاہور(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔23 جولائی ۔2026 ) پنجاب حکومت کے اقدامات دھرے کے دھرے رہ گئے‘حکومتی دعوﺅں کے برعکس حالیہ بارشوں میں پنجاب میں اب تک 21 شہری جاں بحق اور 154 زخمی ہوئے، بارشوں میں چھتیں گرنے سے 15 افراد جاں بحق ہوئے‘کرنٹ لگنے سے 3 اور آسمانی بجلی گرنے سے 2 افرادجاں بحق ہوئے‘ بارش کے پانی میں ڈوبنے سے ایک شخص جاں بحق ہوا جبکہ 38 مکانات متاثر ہوئے.(جاری ہے)
پراونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) پنجاب نے مون سون بارشوں کے باعث نقصانات سے متعلق رپورٹ جاری کی ہے ترجمان پی ڈی ایم اے پنجاب کے مطابق مون سون بارشوں کے باعث پنجاب میں اب تک 21 شہری جاں بحق اور 154 زخمی ہوئے، بارشوں میں چھتیں گرنے سے 15 افراد جاں بحق ہوئے ڈی جی پی ڈی ایم اے نے کہا کہ جاں بحق افراد کے خاندانوں کو 10 سے 50 لاکھ روپے تک امداد فراہم کی جا رہی ہے. ادھرمحکمہ موسمیات نے ملک بھر میں موسلا دھار بارش کی پیش گوئی کر تے ہوئے نشیبی علاقے زیر آب اور لینڈ سلائیڈنگ کے خدشات ظاہر کیئے ہیں رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پورے ملک میں تیز ہواﺅں اور گرج چمک کے ساتھ بیشتر مقامات پر وقفے وقفے سے بارش کا امکان ہے. صوبائی دارلحکومت لاہور میں آج ہونے والی بارش سے واپڈا ٹاﺅن‘ جوہر ٹاﺅن‘ گلبرگ اور ڈیفنس ‘ او پی ایف سوسائٹی‘ ایل ڈی اے ایونیو‘ فیصل ٹاﺅن‘ماڈل ٹاﺅن‘علامہ اقبال ٹاﺅن‘مسلم ٹاﺅن‘گارڈن ٹاﺅن‘سبزہ زار‘ملتان روڈسمیت شہر بھر میں تیزبارش سے شہر کی مرکزی شاہرائیں ندیوں کا منظرپیش کرتی رہیں جبکہ شہر کے نشیبی علاقوں میں پانی گھر میں داخل ہوگیا. شمالی لاہوراور اندرون شہر میں بھی بارش کی پانی کی وجہ سے معمولات زندگی شدید متاثرہوئے . محکمہ موسمیات کے مطابق آئندہ چند گھنٹوں کے دوران بھی مزید بارش کا امکان ہے محکمہ موسمیات کے مطابق شام کے وقت درجہ حرات 28ڈگری ریکارڈ کیا گیا جبکہ شہر میں 11 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چل رہی ہیں تاہم ہوا میں نمی کا تناسب 95 فیصد تک پہنچ چکا ہے، جس کے باعث موسم مرطوب مگر خوشگوار محسوس کیا جا رہا ہے.