شدید سردی اور دھند کی لپیٹ، ملک بھر کی موٹر ویز متاثر، کچھ بند
اشاعت کی تاریخ: 2nd, January 2026 GMT
جمعہ کے روز ملک کے بیشتر علاقوں میں موسم سرد اور خشک رہنے کا امکان ہے، جبکہ پہاڑی علاقوں میں صبح اور رات کے اوقات میں شدید سردی کی پیش گوئی کی گئی ہے۔
پنجاب، خیبرپختونخوا، اور بالائی سندھ کے میدانی علاقوں میں صبح اور رات کے اوقات میں درمیانی سے شدید دھند کی توقع ہے، جس کے باعث ملک کی اہم موٹر ویز بھی بند کر دی گئی ہیں۔
دُھند کے دنوں میں فوگ لائٹس کا استعمال یقینی بنائیں! pic.
— National Highways & Motorway Police (NHMP) (@NHMPofficial) January 1, 2026
پشاور سے رشکئی تک اور صوابی سے برہان تک موٹر وے ایم ون دھند کے باعث بند ہے۔ اسی طرح ایم ٹو لاہور سے کوٹ مومن، ایم فور عبدالحکیم سے ملتان، ایم فائیو ملتان سے ظاہر پیر اور لاہور-سیالکوٹ موٹر وے ایم 11 بھی دھند کی شدت کی وجہ سے بند کر دی گئی ہے۔
مزید پڑھیں: بارشیں اور برف باری، محکمہ موسمیات نے خشک موسم سے تنگ شہریوں کو خوشخبری سنا دی
محکمہ موسمیات کے مطابق، شمالی علاقوں جیسے مری، گلیات، پشاور، مردان، صوابی، بنوں اور ڈی آئی خان میں صبح اور رات کے اوقات میں شدید سردی کی توقع ہے۔
بارش میں ڈرائیونگ اور احتیاطی تدابیر! pic.twitter.com/lYCr6TbRZs
— National Highways & Motorway Police (NHMP) (@NHMPofficial) January 1, 2026
پنجاب کے بیشتر اضلاع میں دھند کے باعث شہریوں کو آمد و رفت میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ سکھر، شکارپور، شہید بینظیرآباد، کشمور اور موہنجو داڑو میں بھی دھند کی وجہ سے دھندلا موسم متوقع ہے۔
مزید پڑھیں: بارشیں اور برف باری، محکمہ موسمیات نے پیش گوئی کردی
گلگت بلتستان اور کشمیر میں مطلع جزوی ابرآلود اور شدید سردی برقرار رہنے کی پیش گوئی کی گئی ہے، جس سے شمالی علاقوں میں رہائشیوں کے لیے ٹھنڈ کا اثر مزید شدید ہو جائے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بارش بارش اور برفباری پشاور سے رشکئی پنجاب، خیبرپختونخوا، محکمہ موسمیات
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بارش اور برفباری پشاور سے رشکئی پنجاب خیبرپختونخوا محکمہ موسمیات محکمہ موسمیات علاقوں میں دھند کی
پڑھیں:
وفاقی بجٹ میں سابق قبائلی علاقوں کے لیے ٹیکس استثنیٰ ختم کیے جانے کا امکان
اسلام آباد:نئے مالی سال 2026-27ء کے وفاقی بجٹ میں سابق قبائلی علاقوں کے لیے ٹیکس استثنیٰ ختم کیے جانے کا امکان ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے حکومت نے فاٹا اور پاٹا کو حاصل مختلف ٹیکس رعایتوں میں مزید توسیع نہ دینے کا اصولی فیصلہ کیا ہے جس کے تحت 30 جون 2026ء کے بعد انکم ٹیکس اور ود ہولڈنگ ٹیکس استثنیٰ ختم ہو سکتا ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان آئندہ مالی سال کے بجٹ کے حوالے سے جاری مذاکرات میں آئی ایم ایف نے ٹیکس کی چھوٹ اور رعایتوں میں مزید کمی کا مطالبہ کیا ہے۔ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں ٹیکس کی چھوٹ اور رعایتیں مزید کم کرنے سے تقریباً 40 ارب روپے حاصل ہونے کا امکان ہے۔
وفاقی حکومت نے 30 جون 2026ء کے بعد ٹیکس چھوٹ میں مزید توسیع نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے اور آئندہ مالی سال کے بجٹ میں مختلف ٹیکس استثنیٰ ختم کر کے محصولات اکٹھے کرنے کا منصوبہ تیار کیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق سابق فاٹا اور پاٹا کے لیے انکم ٹیکس استثنیٰ 30 جون 2026ء کو ختم ہو جائے گا جبکہ یکم جولائی 2026ء کے بعد فاٹا اور پاٹا کے رہائشی افراد اور کمپنیوں پر عام ٹیکس قوانین لاگو ہونے کا امکان ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ فاٹا اور پاٹا میں سیلز ٹیکس بھی مرحلہ وار بڑھائے جانے کا امکان ہے اس سلسلے میں سابق فاٹا اور پاٹا کی صنعتوں پر سیلز ٹیکس 10 فیصد سے بڑھا کر 12 فی صد کیے جانے کی تجویز زیر غور ہے جبکہ سابق قبائلی علاقوں میں درآمدی صنعتی خام مال پر بھی 12 فی صد سیلز ٹیکس عائد ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق فاٹا اور پاٹا کے لیے ود ہولڈنگ ٹیکس استثنیٰ بھی یکم جولائی 2026ء کو ختم ہونے کا امکان ہے۔
الیکٹرک گاڑیوں کے سی کے ڈی کٹس پر سیلز ٹیکس چھوٹ یکم جولائی 2026ء سے ختم ہونے کا امکان ہے جبکہ مقامی طور پر تیار یا اسمبل کی جانے والی الیکٹرک گاڑیوں پر ایک فی صد سیلز ٹیکس 30 جون 2026ء تک نافذ رہے گا۔ اسی طرح ہائبرڈ الیکٹرک گاڑیوں پر رعایتی سیلز ٹیکس کی مدت بھی 30 جون 2026ء کو ختم ہو جائے گی اور اس میں مزید رعایت دیے جانے کا امکان نہیں ہے۔
ذرائع کے مطابق قبائلی علاقوں میں بجلی کی فراہمی پر سیلز ٹیکس استثنیٰ 30 جون 2026 تک برقرار رہے گا جبکہ مقامی طور پر تیار کردہ سائلوز پر سیلز ٹیکس چھوٹ بھی 30 جون 2026 کو ختم ہو جائے گی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ یکم جولائی سے پٹرولیم مصنوعات پر کلائمٹ سپورٹ لیوی دگنی کیے جانے کا امکان ہے اس کے تحت پٹرولیم مصنوعات پر کلائمٹ سپورٹ لیوی 2.5 روپے فی لیٹر سے بڑھا کر 5 روپے فی لیٹر وصول کی جا سکتی ہے آئندہ مالی سال کے دوران کلائمٹ سپورٹ لیوی کی مد میں 90 ارب روپے سے زائد وصول ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔