پاکستان کی پہلی تھیلیسیمیا موبائل وین کا افتتاح کردیا گیا: مصطفی کمال
اشاعت کی تاریخ: 2nd, January 2026 GMT
کراچی(این این آئی) ملک کی پہلی تھیلیسیمیا موبائل وین کا افتتاح کر دیا گیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر صحت مصطفی کمال نے کہا کہ پاکستان میں تھلیسیمیا کا بڑھتا رجحان تشویشناک ہے، حکومت اور قوم کی غفلت کے سبب تھلیسیمیا کے مریض آرہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ نکاح سے قبل صرف لڑکے کا ٹیسٹ لازم قرار دے دیا جائے، دو مائنر جب شادی کرتے ہیں تو تھلیسمیا میجر بچہ پیدا ہوتا ہے، یہ سب کو معلوم ہے لیکن ٹیسٹ کوئی نہیں کرواتا۔مصطفی کمال نے کہا کہ مجھے چند دن قبل علم ہوا کہ اعضا کی پیوندکاری کیلئے ایک الگ ادارہ ہے، اس میں بون میرو کو بھی شامل کردیا ہے، تھلیسیمیا کے مرض کا علاج خون کی منتقلی اور بون میرو ٹرانسپلانٹ ہے اور 50 ہزار میں سے کوئی ایک شخص بون میرو میچ کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم نے بون میرو ٹرانسپلانٹ سے قبل اجازت کو ختم کیا، ہماری کوشش ہے کہ تھلیسیمیا کا ٹیسٹ نکاح سے قبل لازم قرار دیا جائے۔وفاقی وزیر نے پولیو کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں پولیو ویکسین سمیت دیگر چیزوں کے لیے پولیس لے کر جانی پڑتی ہے، ویکسین کو یہودیوں کا ایجنٹ اور بیرونی سازش قرار دے دیا جاتا ہے، آج تھلیسیمیا کے بچوں کے ذمہ دار صرف ان کے والدین ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: نے کہا کہ
پڑھیں:
اٹلی میں 4 پاکستانیوں کو وین میں بند کرکے جلاکر قتل کردیا گیا، پاکستانی ہی قاتل نکلے، 2 ملزم گرفتار
روم ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) اٹلی کے جنوبی علاقے میں 4 پاکستانی کھیت مزدوروں کو ایک منی وین کے اندر مبینہ طور پر زندہ جلا کر قتل کر دیا گیا، اطالوی پولیس نے اس وحشیانہ قتل کے الزام میں 2 پاکستانی شہریوں کو گرفتار کرلیا۔ اطالوی اخبار کوریئر ڈیلا سیرا (Corriere della Sera) کے حوالے سے رپورٹ کیا گیا ہے کہ اٹلی کے جنوبی علاقے کلابریا میں ایک پیٹرول پمپ کے قریب ایک جلی ہوئی منی وین سے چار پاکستانی کارکناں کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں، اطالوی پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے ان مقتولین کے قتل کے شبہے میں 2 پاکستانی باشندوں کو حراست میں لے لیا، اطالوی پولیس نے گرفتار دونوں پاکستانی ملزمان کو ریمانڈ پر لے کر ان سے تفتیش شروع کر دی تاکہ اس گینگ اور دیگر سہولت کاروں کا پتہ لگایا جا سکے۔(جاری ہے)
بتایا گیا ہے کہ یہ ہولناک واقعہ کلابریا کے ایک وسیع زرعی علاقے میں واقع گاؤں امینڈولارا کے قریب ایک پیٹرول اسٹیشن پر پیش آیا، پیٹرول پمپ پر لگے سی سی ٹی وی کیمروں کی تصاویر نے اس سفاکیت کو بے نقاب کیا، قانون نافذ کرنے والے اداروں نے فوٹیج میں دیکھا کہ دو افراد نے باہر سے منی وین کے دروازوں کو بلاک کر دیا تاکہ اندر موجود لوگ باہر نہ نکل سکیں۔ معلوم ہوا ہے کہ دروازے بند کرنے کے بعد ان افراد نے گاڑی کے اندر کوئی آتش گیر مائع پٹرول یا کیمیکل پھینکا، مائع پھینکتے ہی گاڑی میں خوفناک آگ بھڑک اٹھی اور دونوں ملزمان موقع سے فرار ہو گئے، فائر فائٹرز نے موقع پر پہنچ کر جب آگ پر قابو پایا تو گاڑی کے اندر سے چاروں پاکستانیوں کی جھلسی ہوئی لاشیں برآمد ہوئیں، مقامی پولیس چیف انتونیو بوریلی نے تصدیق کی کہ یہ یقینی طور پر قتل کا معاملہ ہے، ہمیں بس اب اس کی مزید تفصیلات اور تانے بانے معلوم کرنے ہیں۔ بتایا جارہا ہے کہ یہ علاقہ گزشتہ چند ماہ سے تارکینِ وطن کے درمیان شدید کشیدگی کا مرکز بنا ہوا تھا، اس زرعی علاقے میں غیر ملکیوں اور خاص طور پر پاکستانیوں کے درمیان کھیتوں میں کام کی تقسیم، رہائشی کاغذات اور رہائش گاہوں کے مسائل پر شدید اختلافات چل رہے ہیں، حالیہ مہینوں میں اسی علاقے کے اندر پاکستانیوں کو لے جانے والی کاروں اور منی وینز کو آگ لگانے کے 14 واقعات پہلے بھی رپورٹ ہو چکے ہیں، جن کا انجام اب اس ہولناک ڈبل مرڈر کی صورت میں سامنے آیا۔