سوئٹزرلینڈ آتشزدگی، ہلاکتوں کی تعداد 47 ہوگئی، وزیراعظم شہباز شریف کا اظہارِ افسوس
اشاعت کی تاریخ: 2nd, January 2026 GMT
جنیوا(ویب ڈیسک) سوئٹزرلینڈ کے مشہور اسکی ریزورٹ کرانس مونٹانا میں نئے سال کی تقریب کے دوران ایک بار میں ہونے والے دھماکے اور آگ لگنے سے تقریباً 47 افراد ہلاک اور 100 زائد زخمی ہو گئے، وزیراعظم شہباز شریف نے اظہارِ افسوس کیا ہے۔
نائٹ کلب میں سالِ نو کی تقریب جاری تھی اور ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ عملہ جلتی ہوئی شیمپین بوتلیں اٹھا کر لے جا رہا تھا، جو لکڑی کی نیچی چھت سے بار بار ٹکرا رہی تھیں، تقریباً ڈیڑھ بجے رات اچانک آگ بھڑک اٹھی اور چند ہی لمحوں میں پورا تہہ خانہ لپیٹ میں آگیا، وہاں موجود درجنوں افراد ایک ہی سیڑھی والے باہر جانے کے راستے کی طرف بھاگے جس سے بدحواسی مزید بڑھ گئی۔
حکام کے مطابق آگ لگنے کے واقعے میں کم از کم 115 افراد زخمی بھی ہوئے جن میں سے کئی کی حالت تشویشناک ہے، آگ لگنے کی تحقیقات جاری ہیں تاہم اب تک شواہد کے مطابق یہ واقعہ دہشت گردی یا کسی مجرمانہ کارروائی کا نتیجہ نہیں لگتا بلکہ بظاہر ایک حادثہ ہے۔
اطالوی حکام نے بتایا کہ 16 اطالوی شہری تاحال لاپتا ہیں جبکہ 15 زخمی ہسپتال میں زیر علاج ہیں، فرانس کے وزارت خارجہ کے مطابق کم از کم 8 فرانسیسی شہریوں سے بھی رابطہ تاحال بحال نہیں ہو سکا، فرانس کے فٹبال کلب ایف سی میتز نے تصدیق کی کہ اس کا 19 سالہ کھلاڑی تاہیریس ڈوس سانتوس اس واقعہ میں بری طرح جھلس گیا اور اسے جرمنی کے ایک ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے جہاں اس کا علاج جاری ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ جاں بحق افراد کی شناخت میں وقت لگے گا کیونکہ کئی لاشیں شدید حد تک جل گئی ہیں اور ڈی این اے اور دانتوں کے ریکارڈ کی مدد سے شناخت کی جا رہی ہے۔ سوئٹرزلینڈ کے برن سینٹرز میں گنجائش ختم ہونے پر کئی شدید زخمیوں کو ہمسایہ ملکوں کے ہسپتال میں منتقل کرنا پڑا۔
آتشزدگی کے بعد علاقہ سوگوار ہے، سینکڑوں افراد متاثرہ نائٹ کلب کے قریب جمع ہوئے، پھول رکھے اور لاپتا رشتہ داروں کے بارے میں خبریں ملنے کا انتظار کرتے رہے، سوئس صدر گائے پارمَلین نے اسے ملک کی بدترین سانحات میں سے ایک قرار دیا اور کہا کہ زیادہ تر متاثرین نئے سال کا جشن منانے آئے نوجوان تھے، برطانوی بادشاہ چارلس نے بھی افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اسے دل دہلا دینے والا واقعہ قرار دیا۔
وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے بار آتشزدگی کے واقعہ میں ہونے والے جانی نقصان پر اظہار افسوس کیا اور کہا کہ مشکل وقت میں سوئس حکومت اور سوئٹزرلینڈ کے عوام کے ساتھ کھڑے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) اخبار کے مطابق جلی ہوئی گاڑی امینڈولارا نامی گاؤں کے قریب ایک پٹرول پمپ پر ملی، جو کالابریا کے وسیع زرعی علاقے میں واقع ہے۔
اخبار کے مطابق پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور اس کے اندر آتش گیر مائع پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور دونوں مشتبہ افراد موقع سے فرار ہو گئے۔
فائر بریگیڈ نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے چار لاشیں برآمد کیں۔
مقامی پولیس چیف نے اس اطالوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ یقینی طور پر قتل کا واقعہ ہے، اب ہمیں صرف اس کی تفصیلات معلوم کرنا ہیں۔
(جاری ہے)
‘‘
اخبار نے مزید لکھا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران اس علاقے میں پاکستانیوں کی گاڑیوں اور منی وینز کے نذر آتش کیے جانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق علاقے میں تارکین وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان زرعی کام کی تقسیم، رہائشی دستاویزات (ریذیڈنسی پیپرز)، اور رہائش کے مسائل پر کشیدگی پائی جاتی ہے، جسے ممکنہ طور پر اس واقعے کے پس منظر سے جوڑا جا رہا ہے۔
اطالوی حکام اس واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اکٹھے چار افراد کے اس قتل کے محرکات اور اس کے ذمہ دار افراد کے اس جرم میں کردار کی مکمل طور پر وضاحت ہو سکے۔
ادارت: مقبول ملک