data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

بھارت میں آزادیِ اظہارِ رائے اور صحافتی آزادی کے دعوے ایک بار پھر سوالات کی زد میں آ گئے ہیں، جہاں مودی حکومت کے آمرانہ طرزِ حکمرانی کے باعث صحافیوں کی زندگیاں شدید خطرات سے دوچار ہو چکی ہیں۔

میڈیا ذرائع کے مطابق نام نہاد دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کہلانے والے بھارت میں ذرائع ابلاغ پر قدغنیں، صحافیوں پر تشدد، گرفتاریاں اور جبری گمشدگیاں ایک معمول بنتی جا رہی ہیں، جس نے ملک کے جمہوری تشخص کو بری طرح متاثر کیا ہے۔

بھارتی جریدے دی وائر کی تازہ رپورٹ میں مودی حکومت کے اوچھے ہتھکنڈوں کو بے نقاب کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ سال 2025 کے دوران 14 ہزار 800 سے زائد صحافیوں اور میڈیا سے وابستہ افراد کو مختلف نوعیت کے تشدد کا سامنا کرنا پڑا۔ رپورٹ کے مطابق آزادیِ اظہارِ رائے کے جرم میں 8 صحافیوں اور ایک سوشل میڈیا انفلوئنسر کو قتل کر دیا گیا جب کہ کم از کم 117 افراد کو جیلوں میں ڈال دیا گیا۔ یہ اعداد و شمار اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ بھارت میں سچ بولنا کس قدر خطرناک ہو چکا ہے۔

دی وائر کے انکشافات کے مطابق آزادیِ اظہار کے خلاف سب سے زیادہ خلاف ورزیاں مودی کی آبائی ریاست گجرات میں ریکارڈ ہوئیں، جہاں 108 سے زائد واقعات سامنے آئے۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ قانونی کارروائی کی آڑ میں 208 صحافیوں اور کارکنوں کو بلیک میل کیا گیا تاکہ وہ حکومتی پالیسیوں پر تنقید سے باز رہیں۔ ناقدین کے مطابق یہ تمام اقدامات ایک منظم حکمتِ عملی کا حصہ ہیں جس کا مقصد آزاد آوازوں کو دبانا ہے۔

رپورٹ میں مودی حکومت کی جانب سے ذرائع ابلاغ اور سوشل میڈیا پر سخت پابندیوں کا بھی پردہ فاش کیا گیا ہے۔ بدترین حکومتی پالیسیوں پر تنقید کرنے والوں کے خلاف کارروائیاں تیز کر دی گئی ہیں اور 8 ہزار سے زائد ایکس اکاؤنٹس بند کرنے کے احکامات جاری کیے جا چکے ہیں۔

اس سے قبل 2023 میں گجرات فسادات پر ایک دستاویزی فلم نشر کرنے پر بی بی سی کے دفتر پر انکم ٹیکس کے نام پر چھاپا مارا جانا بھی عالمی سطح پر شدید تنقید کا باعث بنا تھا۔ مبصرین کے مطابق یہ کارروائی آزاد صحافت کو دبانے کی واضح مثال تھی۔

واضح رہے کہ بھارت میں گودی میڈیا کے ذریعے حکومتی بیانیے کو فروغ دیا جاتا ہے جب کہ جو صحافی یا ادارے مودی کی جابرانہ پالیسیوں کو بے نقاب کرنے کی کوشش کرتے ہیں، انہیں جبر، تشدد اور قانونی کارروائیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: بھارت میں کے مطابق

پڑھیں:

سٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں 3 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کا اضافہ

سٹیٹ بینک کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق سٹیٹ بینک کے پاس موجود ذخائر 17 ارب 25 کروڑ 80 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئے جبکہ ملک کے مجموعی زرمبادلہ ذخائر 60 لاکھ ڈالر کم ہو کر 22 ارب 66 کروڑ ڈالر کی سطح پر آ گئے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ گزشتہ ہفتے کے دوران زرمبادلہ کے ذخائر میں 3 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ سٹیٹ بینک کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق سٹیٹ بینک کے پاس موجود ذخائر 17 ارب 25 کروڑ 80 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئے جبکہ ملک کے مجموعی زرمبادلہ ذخائر 60 لاکھ ڈالر کم ہو کر 22 ارب 66 کروڑ ڈالر کی سطح پر آ گئے ہیں۔ مرکزی بینک کے مطابق کمرشل بینکوں کے زرمبادلہ ذخائر میں 3 کروڑ 80 لاکھ ڈالر کی کمی ہوئی، جس کے بعد ان کے ذخائر 5 ارب 41 کروڑ ڈالر رہ گئے۔

متعلقہ مضامین

  • سٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں 3 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کا اضافہ
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • کیا فواد خان نے بھی سرجری کروالی؟ نئی تصاویر پر سوشل میڈیا پر بحث
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • ایلون مسک نے ’اوڈیسی‘ کا اے آئی ورژن اسی سال پیش کرنے کا اعلان کردیا
  • یو اے ای ویزا آن ارائیول کی نئی شرائط اور فیس جاری
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی
  • ولیکا اسپتال میں ایچ آئی وی کا ایک اور کیس رپورٹ، 18 ماہ کے بچے میں بیماری کی تصدیق