فاشسٹ مودی سرکار کا جبر عروج پر، صحافت سچ بولنے کی سزا بن گئی
اشاعت کی تاریخ: 2nd, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
بھارت میں آزادیِ اظہارِ رائے اور صحافتی آزادی کے دعوے ایک بار پھر سوالات کی زد میں آ گئے ہیں، جہاں مودی حکومت کے آمرانہ طرزِ حکمرانی کے باعث صحافیوں کی زندگیاں شدید خطرات سے دوچار ہو چکی ہیں۔
میڈیا ذرائع کے مطابق نام نہاد دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کہلانے والے بھارت میں ذرائع ابلاغ پر قدغنیں، صحافیوں پر تشدد، گرفتاریاں اور جبری گمشدگیاں ایک معمول بنتی جا رہی ہیں، جس نے ملک کے جمہوری تشخص کو بری طرح متاثر کیا ہے۔
بھارتی جریدے دی وائر کی تازہ رپورٹ میں مودی حکومت کے اوچھے ہتھکنڈوں کو بے نقاب کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ سال 2025 کے دوران 14 ہزار 800 سے زائد صحافیوں اور میڈیا سے وابستہ افراد کو مختلف نوعیت کے تشدد کا سامنا کرنا پڑا۔ رپورٹ کے مطابق آزادیِ اظہارِ رائے کے جرم میں 8 صحافیوں اور ایک سوشل میڈیا انفلوئنسر کو قتل کر دیا گیا جب کہ کم از کم 117 افراد کو جیلوں میں ڈال دیا گیا۔ یہ اعداد و شمار اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ بھارت میں سچ بولنا کس قدر خطرناک ہو چکا ہے۔
دی وائر کے انکشافات کے مطابق آزادیِ اظہار کے خلاف سب سے زیادہ خلاف ورزیاں مودی کی آبائی ریاست گجرات میں ریکارڈ ہوئیں، جہاں 108 سے زائد واقعات سامنے آئے۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ قانونی کارروائی کی آڑ میں 208 صحافیوں اور کارکنوں کو بلیک میل کیا گیا تاکہ وہ حکومتی پالیسیوں پر تنقید سے باز رہیں۔ ناقدین کے مطابق یہ تمام اقدامات ایک منظم حکمتِ عملی کا حصہ ہیں جس کا مقصد آزاد آوازوں کو دبانا ہے۔
رپورٹ میں مودی حکومت کی جانب سے ذرائع ابلاغ اور سوشل میڈیا پر سخت پابندیوں کا بھی پردہ فاش کیا گیا ہے۔ بدترین حکومتی پالیسیوں پر تنقید کرنے والوں کے خلاف کارروائیاں تیز کر دی گئی ہیں اور 8 ہزار سے زائد ایکس اکاؤنٹس بند کرنے کے احکامات جاری کیے جا چکے ہیں۔
اس سے قبل 2023 میں گجرات فسادات پر ایک دستاویزی فلم نشر کرنے پر بی بی سی کے دفتر پر انکم ٹیکس کے نام پر چھاپا مارا جانا بھی عالمی سطح پر شدید تنقید کا باعث بنا تھا۔ مبصرین کے مطابق یہ کارروائی آزاد صحافت کو دبانے کی واضح مثال تھی۔
واضح رہے کہ بھارت میں گودی میڈیا کے ذریعے حکومتی بیانیے کو فروغ دیا جاتا ہے جب کہ جو صحافی یا ادارے مودی کی جابرانہ پالیسیوں کو بے نقاب کرنے کی کوشش کرتے ہیں، انہیں جبر، تشدد اور قانونی کارروائیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
ایلون مسک نے ’اوڈیسی‘ کا اے آئی ورژن اسی سال پیش کرنے کا اعلان کردیا
ارب پتی ٹیکنالوجی کاروباری شخصیت ایلون مسک نے اعلان کیا ہے کہ ان کا مصنوعی ذہانت پر مبنی پلیٹ فارم گروک امیجن (Grok Imagine) رواں سال کے اختتام سے پہلے قدیم یونانی رزمیہ شاہکار اوڈیسی پر مبنی ایک مکمل فلم تیار کرے گا۔ مسک کا کہنا ہے کہ یہ فلم شاعر ہومر کی اصل تخلیق کے مطابق ہوگی اور تاریخی اعتبار سے بھی زیادہ درست انداز میں پیش کی جائے گی۔
ایلون مسک نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنی پوسٹ میں دعویٰ کیا کہ اے آئی کے ذریعے بنائی جانے والی یہ فلم ہومر کے اصل فن اور کہانی کی حقیقی روح کی عکاسی کرے گی۔ انہوں نے اس اعلان کے ساتھ تقریباً تین منٹ طویل ایک اے آئی ویڈیو بھی شیئر کی، جس میں اوڈیسیئس اور کلیپسو کے درمیان ایک منظر دکھایا گیا ہے۔
Before this year ends, Grok Imagine will make a full-length movie of The Odyssey that is historically accurate and true to the art of Homer https://t.co/bVHzUmY9WN
— Elon Musk (@elonmusk) July 22, 2026اس سے قبل بھی ایلون مسک نے ایک صارف کی اس تجویز کی حمایت کی تھی کہ ہدایت کار میل گبسن تقریباً 100 ملین ڈالر کی لاگت سے اوڈیسی پر ایسی فلم بنائیں جس میں تاریخی طور پر درست جہاز، ہتھیار، زرہیں، کردار اور ہومر کی اصل نظم کے مکالمے شامل ہوں۔ اس تجویز پر مسک نے مختصر جواب دیتے ہوئے کہا تھا، ’میں تیار ہوں۔‘
دوسری جانب ایلون مسک حالیہ دنوں میں برطانوی نژاد امریکی فلم ساز کرسٹوفر نولن کی فلم اوڈیسی پر بھی سخت تنقید کرتے رہے ہیں۔ ان کا الزام ہے کہ نولن نے ایوارڈز حاصل کرنے کی غرض سے اصل داستان میں تبدیلیاں کیں۔ انہوں نے فلم کی کاسٹنگ پر بھی اعتراض اٹھایا، خاص طور پر اداکارہ لوپیٹا نیونگو کو ہیلن آف ٹرائے کے کردار میں لینے کے فیصلے کو تنقید کا نشانہ بنایا، جبکہ ایک موقع پر نولن کو ’نسل پرستانہ رویہ رکھنے والا‘ فلم ساز بھی قرار دیا۔
تاہم ایلون مسک کی تنقید کے باوجود کرسٹوفر نولن کی اوڈیسی نے باکس آفس پر شاندار آغاز کیا ہے۔ باکس آفس رپورٹس کے مطابق فلم نے ریلیز کے پہلے ہفتے میں دنیا بھر سے 264.06 ملین ڈالر سے زائد کا بزنس کیا، جس کے بعد اسے رواں برس کی نمایاں کامیاب فلموں میں شمار کیا جا رہا ہے۔