ٹرمپ سے اختلافات ختم؟ ایلون مسک کا بڑا اقدام سامنے آگیا
اشاعت کی تاریخ: 2nd, January 2026 GMT
امریکا کے ارب پتی بزنس مین اور ٹیسلا کے چیف ایگزیکٹو ایلون مسک نے 2026ء کے وسط مدتی انتخابات سے قبل ریپبلکن پارٹی کی مالی تعاون کرنے کا اعلان کردیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ اعلان ایک ایسے پس منظر میں سامنے آیا ہے جب گزشتہ برس ایلون مسک اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان شدید سیاسی اختلافات دیکھنے میں آئے تھے۔
ایلون مسک کی مجموعی دولت 726.
صدر ٹرمپ نے بھی ’’حقِ نمک‘‘ ادا کرتے ہوئے ایک اہم وزارت ایلون مسک کے حوالے کردی تھی لیکن جلد ہی دونوں کے درمیان اختلافات پیدا ہوگئے۔
یہ اختلافات گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ اتنے زیادہ ہوگئے کہ بالآخر ایلون مسک کو وزارت چھوڑنا پڑی۔ ٹرمپ نےعوامی اجتماعات میں اپنے پرانے دوست کو تنقید کا نشانہ بھی بنایا تھا۔
جس کے بعد یہ خدشہ پیدا ہوگیا تھا کہ جب رواں برس نومبر میں ہونے والے مڈٹرم الیکشن میں ٹرمپ کو اپنی پالیسیوں کی توثیق کے لیے دوبارہ انتخابی مرحلے سے گزرنا ہوگا تو ایلون مسک ’بدلہ‘ نہ لیں۔
America is toast if the radical left wins.
They will open the floodgates to illegal immigration and fraud.
Won’t be America anymore. https://t.co/9lppGuSyAV
جس کے باعث اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ نے بھی ایلون مسک کو شیشے میں اتارنے کے لیے بیک ٹو ڈور روابط بڑھانے کی کوشش کی تھی اور ممکن تھا کہ ایلون مسک ٹرمپ کی مخالفت پر آمادہ ہوجاتے۔
تاہم ایلون مسک نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر ایک پیغام جاری کرکے سب کو نہ صرف حیران کردیا بلکہ افواہوں نے بھی دم توڑ دیا،
انھوں نے کہا کہ اگر ’’ریڈیکل لیفٹ‘‘ دوبارہ اقتدار میں آئی تو امریکا کو شدید نقصان پہنچے گا جس سے غیر قانونی تارکین وطن کی آمد ہوگی ملک اپنی شناخت کھو بیٹھے گا اور دھوکہ دہی عام ہوجائے گی۔
ایلون مسک کا یہ تازہ بیان واضح طور پر ٹرمپ کی جماعت ریپبلکن کے قومی بیانیے کے قریب تر سمجھا جا رہا ہے اور باخبر ذرائع نے بھی دعویٰ کیا ہے کہ ایلون مسک اب ٹرمپ کے دوبارہ قریب آرہے ہیں۔
نائب صدر جے ڈی وینس نے پس پردہ کئی ماہ تک دونوں شخصیات کے درمیان تعلقات بہتر بنانے کی کوششیں کیں جن کے نتیجے میں یہ قربت ممکن ہوئی۔
دوسری جانب ٹرمپ کی اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے لیے پریشانیاں بڑھتی جارہی ہیں وہ پُر امید تھے کہ حال ہی میں ریپبلکن پارٹی کو بدعنوان قرار دینے والے ایلون مسک مڈٹرم میں ڈیوکریٹس کے قریب آجائیں گے۔
قبل ازیں جولائی 2025ء میں ایلون مسک نے دو جماعتی سیاسی نظام کو توڑنے کے لیے ’’امریکا پارٹی‘‘ کے نام سے ایک نئی سیاسی جماعت بنانے کی کوشش بھی کی تھی جو کامیاب نہ ہوسکی۔
یہ بھی یاد رہے کہ ایلون مسک نے 2024ء کے صدارتی انتخابات میں تقریباً 290 ملین ڈالر کے عطیات دیے تھے، جن سے ریپبلکن امیدواروں کو خاطر خواہ کامیابی ملی۔
موجودہ حالات میں ان کی تازہ حمایت کو ٹرمپ کے امیگریشن اور حکومتی اخراجات سے متعلق ایجنڈے کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
یوں ایلون مسک اور ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان ماضی کے شدید اختلافات کے باوجود، موجودہ سیاسی منظرنامے میں دونوں کے مفادات ایک بار پھر ایک دوسرے کے قریب آتے دکھائی دے رہے ہیں، جو 2026ء کے مڈٹرم انتخابات پر نمایاں اثر ڈال سکتے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ایلون مسک کے درمیان کے لیے نے بھی
پڑھیں:
مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی
سوشل میڈیا پر یہ دعویٰ وائرل ہورہا تھا کہ پنجاب کے سیاحتی مقام مری میں 31 مئی تک غیر شادی شدہ مردوں (بیچلرز) کے داخلے پر سرکاری پابندی عائد کردی گئی ہے، تاہم فیکٹ چیک کے بعد یہ واضح ہوا ہے کہ یہ دعویٰ گمراہ کن ہے اور مکمل طور پر درست نہیں۔
فیس بک سمیت مختلف پلیٹ فارمز پر شیئر کی جانے والی پوسٹس میں کہا جا رہا تھا کہ عید سے قبل مری میں دفعہ 144 نافذ کرتے ہوئے بیچلرز کے داخلے پر پابندی لگا دی گئی ہے اور صرف فیملیز کو ہی شہر میں جانے کی اجازت ہوگی۔ ان دعوؤں میں یہ تاثر دیا گیا کہ مبینہ پابندی پورے مری شہر پر لاگو ہے۔
حقیقت اس کے برعکس ہے۔ حکام کے مطابق مری میں غیر شادی شدہ مردوں کے داخلے پر کوئی مکمل پابندی عائد نہیں کی گئی۔ صرف مخصوص ہدایت کے تحت مال روڈ پر ایک تبدیلی کی گئی ہے، جہاں اکیلے آنے والے مردوں یا بیچلرز گروپس کو داخلے کی اجازت نہیں ہوگی، جبکہ فیملیز بدستور وہاں جا سکتی ہیں۔
ضلع مری کے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) کامران صغیر کے مطابق 31 مئی تک دفعہ 144 نافذ تھی، جس کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا۔ ان کے مطابق مری شہر میں بیچلرز کے داخلے پر کوئی پابندی نہیں، البتہ مال روڈ پر صرف فیملیز کو جانے کی اجازت دی گئی ہے تاکہ سیاحتی نظم و ضبط بہتر بنایا جا سکے۔
انہوں نے مزید وضاحت کی کہ ’’مال روڈ کے اوپر اکیلے مردوں کو اجازت نہیں، صرف فیملیز جا سکتی ہیں، پورا مری بند نہیں ہے، بیچلرز کی انٹری پر مکمل پابندی نہیں ہے۔‘‘
ڈپٹی کمشنر مری کے سرکاری فیس بک اکاؤنٹ سے بھی 20 مئی کو جاری نوٹیفکیشن شیئر کیا گیا تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ پولیس کی سفارش پر مال روڈ پر صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ سیاحوں کو بہتر سہولت فراہم کی جا سکے۔
یہ دعویٰ کہ مری میں بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد ہے، غلط ثابت ہوا۔ حقیقت یہ ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود ہے، جبکہ مری شہر بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے۔