لبنان کے معروف تجزیہ کار میکائیل عوض نے اس بات پر زور دیا ہے کہ امریکہ اپنی فوجی طاقت کے بل بوتے پر ایران کے خلاف مطلوبہ اہداف حاصل کرنے سے قاصر ہے اور یہی وجہ ہے کہ وہ ایران میں فتنہ انگیزی اور دنگا فساد پھیلانے کی کوشش میں مصروف ہے۔ اسلام ٹائمز۔ لبنان کے معروف تجزیہ کار میکائیل عوض نے شہید قاسم سلیمانی کی برسی کے موقع پر ایران کی خبررساں ایجنسی تسنیم نیوز سے بات چیت کرتے ہوئے کہا: "میرا نام میکائیل عوض ہے اور میں ایک محقق، مصنف اور سماجی اور سیاسی کارکن ہوں۔ شہید قاسم سلیمانی ہر لحاظ سے ایک عظیم شہید اور عالمی کمانڈر تھے، انہوں نے مسلمانوں کو طاقتور بنانے کے لیے دن رات ایک کر رکھی تھی اور اس سلسلے میں انتہائی موثر اور بنیادی کردار ادا کیا تھا۔ انہوں نے خطے میں اسلامی مزاحمتی تحریکیں چلانے کے لیے حد درجہ محنت اور جدوجہد کی جس کا واحد مقصد خطے کی اقوام کو آزاد اور خودمختار بنانا تھا۔ انہوں نے اس مقصد کے لیے اپنی تمام تر طاقت صرف کی اور نتیجتاً ہمارے خطے کو ایسے اینگلو سیکسن (امریکہ اور برطانیہ کے) تسلط سے نجات دلانے کی کوشش کی جس نے کئی سالوں سے اس خطے کو طاقت کے زور پر دبانے کی کوشش کی تھی۔ استعمار نے خطے کے ممالک اور قوموں پر خاندانی بادشاہتیں مسلط کر رکھی ہیں۔ ان ممالک کے حکمرانوں کا اپنی اقوام سے کوئی تعلق یا رشتہ نہیں ہے اور وہ صرف غاصب صیہونی رژیم کے مفادات کے تحفظ اور امت مسلمہ سے غداری کی طرف قدم اٹھاتے ہیں تاکہ اس منحوس رژیم کی خدمت کر کے اپنی بقا کے لیے استعماری طاقتوں کی رضامندی حاصل کر سکیں۔"
 
انہوں نے امریکی حکمرانوں کی جانب سے شہید قاسم سلیمانی کی ٹارگٹ کلنگ کی وجہ بیان کرتے ہوئے کہا: "اسلامی مزاحمتی بلاک کی تشکیل ایک منفرد تبدیلی اور واقعہ تھا جو صحیح معنی میں اسلامی مزاحمت کا محور و مرکز قرار پایا ہے۔ اگر شہید قاسم سلیمانی نہ ہوتے تو 2000ء کی فتح (جنوبی لبنان کی غاصب صیہونی رژیم کے قبضے سے آزادی)، 2006ء کی فتح (حزب اللہ لبنان اور اسرائیل میں 33 روزہ جنگ)، 2005ء میں غزہ کی فتح اور اب تک تمام معرکوں میں اسلامی مزاحمت کی فتوحات حاصل نہ ہو پاتیں۔ یہی وجہ ہے کہ امریکہ نے شہید قاسم سلیمانی کو قتل کیا جس کا ذمہ دار امریکی صدر ہے۔ اس دہشت گردانہ کارروائی نے تمام قوانین اور اقوام کے درمیان تعلقات کی خلاف ورزی کی۔ شہید قاسم سلیمانی ایک مضبوط فوجی کمانڈر تھے۔ جب ٹرمپ نے ان کے قتل کا حکم دیا تو وہ عراق میں سفارتی مشن لے رہے تھے۔ یہ دہشت گردانہ کارروائی اسلامی جمہوریہ ایران اور شہید قاسم سلیمانی کی شخصیت سے امریکہ کی نفرت کی گہرائی ظاہر کرتی ہے کیونکہ شہید قاسم سلیمانی نے خطے کی اقوام کو بیدار کیا جس کے نتیجے میں عرب اور اسلامی مزاحمت تشکیل پائی اور یہ مزاحمتی سوچ حتی لاطینی امریکہ تک پھیل گئی، وہ ایک بے مثال کمانڈر تھے۔"
 
لبنان کے معروف تجزیہ کار میکائیل عوض نے امریکہ اور اسرائیل کے حالیہ جارحانہ اقدامات کے مقابلے میں اسلامی مزاحمتی بلاک کے کردار کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا: "میں سمجھتا ہوں کہ ہم سب کا فرض یہ ہے کہ ہم شہید قاسم سلیمانی کی برسی کو زندہ رکھیں اور ان کی برسی کا احترام کریں، ان سے سبق سیکھیں اور اپنے بچوں کو بھی سکھائیں۔ ہمیں انتظار کی بجائے اقدام کرنے میں پہل کرنی چاہیے اور اسٹریٹجک صبر پر حملے کو ترجیح دینی چاہیے۔" انہوں نے جہاد فی سبیل اللہ کے فرض کو ترک کرنے کے خطرناک نتائج کے بارے میں خبردار کرتے ہوئے امام علی علیہ السلام کی ایک حدیث کا حوالہ دیا اور کہا: "ہمیں اس پر عمل کرنا چاہیے جو امام علی علیہ السلام نے فرمایا اور حکم دیا ہے، آپ علیہ السلام فرماتے ہیں: خبردار، میں نے تمھیں ان کے خلاف جہاد کے لیے رات دن، ڈھکے چھپے اور اعلانیہ طور پر بلایا اور تم سے کہا تھا: اس سے پہلے کہ وہ تم پر حملہ ور ہوں ان پر حملہ کر ڈالو کیونکہ اللہ کی قسم کسی بھی قوم پر ان کے گھروں میں حملہ نہیں ہوا سوائے اس کے ذلت آمیز شکست ان کا مقدر بن گئی۔"
 
میکائیل عوض نے زور دیتے ہوئے کہا: "ایران اور اسلامی مزاحمتی بلاک میں شامل دیگر گروہوں اور اقوام کو پہل کرنی چاہیے جیسا کہ شہید سید حسن نصر اللہ، خدا کی ہزاروں رحمتیں ان پر نازل ہوں، نے شہید قاسم سلیمانی کی شہادت کے موقع پر فرمایا تھا کہ ہم شہید قاسم سلیمانی کے قاتلوں سے انتقام لینے کے پابند ہیں اور اس قتل کا انتقام امریکہ کو شام اور عراق سے نکال باہر کرنے کی صورت میں سامنے آئے گا۔ شہید سید حسن نصراللہ نے اس بات پر زور دیا تھا کہ اگر ہم ایسا کرتے ہیں تو پھر فلسطین کی آزادی کے لیے شاید حتی جنگ کی ضرورت بھی نہ پڑے۔ لہذا ہمیں شہید قاسم سلیمانی اور شہید حسن نصراللہ کی وصیت پر عمل کرنا چاہیے۔" اس سوال کے جواب میں کہ ٹرمپ اور نیتن یاہو کے درمیان حالیہ ملاقات اور ایران کے اندرونی معاملات میں ان کی نئی مداخلت کو دیکھتے ہوئے آپ ان کی دھمکیوں کو 12 روزہ جنگ کے تجربے کی روشنی میں کس حد تک موثر سمجھتے ہیں؟ انہوں نے کہا: "انہوں (امریکہ، غاصب صیہونی رژیم اور ان کے اتحادیوں) نے اسلامی جمہوریہ ایران کے نظام کو گرانے کے لئے تمام تر وسائل بروئے کار لا رکھے ہیں۔ ان کا حتمی فیصلہ یہ ہے کہ کوئی بھی ملک یا گروہ ان کی پالیسیوں اور اہداف کے خلاف کھڑا نہ ہو پائے اور سب ان کے سامنے گھٹنے ٹیک دیں۔ امریکی ایلچی تھامس براک نے واضح طور پر کہا ہے کہ اس جنگ کا اصل مقصد اسلامی جمہوریہ ایران کا نظام سرنگون کرنا ہے۔"
 
انہوں نے مزید کہا: "یہاں تک کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی واضح طور پر کہ دیا ہے کہ یا تو ایران اس کا مطیع ہو جائے گا اور گھٹنے ٹیک دے گا یا پھر وہ ایرانی عوام کو تباہ کر دے گا۔ اس کے بعد امریکی مؤقف کے بارے میں ذرہ بھر ابہام یا شک باقی نہیں رہ جاتا۔ انہوں نے اپنے اصلی عزائم واضح کر دیے ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا وہ یہ کام کر پائیں گے؟ منطق کہتی ہے نہیں، وہ نہیں کر سکتے۔ کیونکہ اسلامی جمہوریہ ایران تخلیقی صلاحیتوں کا نمونہ ہے اور اس نے 12 روزہ مسلط کردہ جنگ کے بعد تیزی سے اپنے حالات پر قابو پایا اور دنیا کے سامنے قومی اتحاد کا بہترین مظاہرہ کیا۔ حتی ڈونلڈ ٹرمپ اس حقیقت کا اعتراف کرنے پر مجبور ہو گیا کہ اگر جنگ بند نہ ہوتی تو ایران اسرائیل کو نیست و نابود کر دیتا۔" میکائیل عوض نے کہا: "میں ذاتی طور پر اس بات کو خارج از امکان نہیں سمجھتا کہ وہ 12 روزہ جنگ جیسی نئی فوجی مہم جوئی انجام دوبارہ انجام دے سکتے ہیں لیکن یقیناً وہ گذشتہ جنگ کی طرح اس جنگ میں بھی شکست کھائیں گے۔ انہوں نے ایران میں اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد گذشتہ تقریباً پچاس سال کے دوران بارہا اپنے مذموم اہداف و مقاصد کے حصول کی کوشش کی آج تک اسلامی جمہوریہ ایران کو ختم کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔ آج بھی مجھے پورا یقین ہے کہ وہ اسلامی جمہوریہ ایران کو براہ راست جنگ کے ذریعے ختم نہیں کر سکتے لہذا انہوں نے ایران کے استحکام اور سلامتی کو نشانہ بنانے کے لیے اندرونی اور قومی تنازعات کو ہوا دینے، سرحدوں پر دہشت گرد عناصر کو بھرتی کرنے اور فسادات کو ہوا دینے جیسے ہتھکنڈے استعمال کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔"

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: اسلامی جمہوریہ ایران شہید قاسم سلیمانی کی اسلامی مزاحمتی میکائیل عوض نے میں اسلامی تجزیہ کار کرتے ہوئے ہوئے کہا انہوں نے ایران کے کی کوشش ہے اور اور اس کے لیے ہوں نے

پڑھیں:

جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل امیرالعظیم سپرد خاک، نصف صدی پر محیط سیاسی و تنظیمی خدمات کا باب بند

جماعت اسلامی پاکستان کے سیکریٹری جنرل اور پارٹی کی تنظیمی سیاست کی اہم ترین شخصیات میں شمار ہونے والے امیرالعظیم کو جمعرات کے روز لاہور میں سپرد خاک کر دیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: جماعت اسلامی پاکستان کے سیکریٹری جنرل امیر العظیم انتقال کر گئے

ان کی نماز جنازہ منصورہ میں جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمٰن نے پڑھائی، جس میں جماعت اسلامی کی مرکزی و صوبائی قیادت، کارکنوں، مختلف سیاسی و مذہبی شخصیات اور بڑی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی۔

نماز جنازہ سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمٰن نے امیرالعظیم کی جماعت اور ملک کے لیے خدمات کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے انہیں ایک بااصول، مدبر اور مخلص رہنما قرار دیا۔

طلبہ سیاست سے قومی قیادت تک کا سفر

3 اکتوبر 1958 کو لاہور کے علاقے اسلام پورہ (کرشن نگر) میں پیدا ہونے والے امیرالعظیم کا خاندان 1947 میں مشرقی پنجاب سے ہجرت کرکے پاکستان آیا تھا۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم لاہور میں حاصل کی، اسلامیہ کالج سول لائنز سے گریجویشن کیا اور بعد ازاں پنجاب یونیورسٹی سے ماسٹر آف بزنس ایڈمنسٹریشن (ایم بی اے) کی ڈگری حاصل کی۔

انہوں نے سنہ 1975 میں زمانۂ طالب علمی کے دوران سیاست اور جماعت اسلامی سے وابستگی اختیار کی جبکہ سنہ 1977 میں باقاعدہ جماعت اسلامی کے رکن بنے۔

مزید پڑھیے: خصوصی دعوت پر حافظ نعیم الرحمان کی وزیراعظم ملائیشیا انور ابراہیم سے ملاقات

ان کا سیاسی سفر جماعت اسلامی کی طلبہ تنظیم اسلامی جمعیت طلبہ سے شروع ہوا جہاں وہ پہلے لاہور کے ناظم منتخب ہوئے اور بعد میں ناظمِ اعلیٰ اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان کے منصب تک پہنچے۔ وہ پنجاب یونیورسٹی اسٹوڈنٹس یونین کے صدر بھی رہے اور سنہ 1980 کی دہائی میں طلبہ حقوق اور نمائندگی کی مختلف تحریکوں میں سرگرم کردار ادا کیا۔

جیل میں بھی تنظیمی ذمہ داریاں نبھاتے رہے

سنہ1983  میں وہ جماعت اسلامی پنجاب کے سیکریٹری جنرل منتخب ہوئے۔ فوجی دور میں سیاسی سرگرمیوں کے باعث انہیں قید کا سامنا بھی کرنا پڑا۔

لاہور-امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمٰن سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان امیرالعظیم رحمۃ اللہ علیہ کے شرکائے اجتماع جنازہ سے خطاب کر رہے ہیں۔
امیر جماعت نے کہا کہ امیرالعظیم نے تمام زندگی اقامت دین کی جدوجہد کی ، وہ بہترین اخلاق کے مالک اور انسانوں کے ہمدرد تھے، وہ… pic.twitter.com/wjshlf58z7

— Jamaat e Islami Pakistan (@JIPOfficial) July 23, 2026

جیل کے دوران بھی انہوں نے جماعتی سرگرمیاں جاری رکھیں اور 2 مرتبہ جماعت اسلامی کی جیل شاخ کے امیر منتخب ہوئے۔ اکتوبر 1988 میں رہائی کے بعد انہوں نے جماعت اسلامی میں مختلف اہم تنظیمی ذمہ داریاں سنبھالیں۔

جماعت اسلامی میں اہم مناصب

امیرالعظیم نے مختلف ادوار میں جماعت اسلامی لاہور کے امیر، مرکزی سیکریٹری اطلاعات و نشریات، لاہور کے سیکریٹری جنرل اور بعد ازاں جماعت اسلامی وسطی پنجاب کے امیر کے طور پر خدمات انجام دیں۔

اپریل 2019 میں انہیں جماعت اسلامی پاکستان کا سیکریٹری جنرل مقرر کیا گیا جہاں وہ اپنی وفات تک اس عہدے پر فائز رہے۔

تنظیمی سیاست کے معمار

اگرچہ امیرالعظیم نے انتخابی سیاست میں نمایاں کردار ادا کرنے کے بجائے تنظیمی میدان کو ترجیح دی تاہم انہیں جماعت اسلامی کے تنظیمی ڈھانچے کو مضبوط بنانے والی اہم شخصیات میں شمار کیا جاتا ہے۔

انہوں نے پارٹی میں ادارہ جاتی نظم، نظریاتی تربیت اور تنظیمی نظم و ضبط کو فروغ دینے میں نمایاں کردار ادا کیا اور کئی نسلوں کے کارکنوں اور رہنماؤں کی تربیت کی۔

فکری اور صحافتی خدمات

تنظیمی ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ امیرالعظیم جماعت اسلامی کے فکری اور ابلاغی شعبوں سے بھی وابستہ رہے۔ وہ جماعت کے جریدے چشم نو کے مدیر رہے جبکہ فیوچر وژن کمیونیکیشنز کے چیف ایگزیکٹو کے طور پر بھی خدمات انجام دیں۔

حافظ نعیم الرحمٰن کا اظہار افسوس

جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمٰن نے امیرالعظیم کے انتقال پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مرحوم ایک بااصول، صاحب بصیرت اور مخلص رہنما تھے جنہوں نے طویل علالت کے باوجود جماعت کی خدمت کا سلسلہ جاری رکھا۔

مزید پڑھیں: طارق رحمان کی امیر جماعت اسلامی سےملاقات، مثبت سیاسی تعلقات کو فروغ دینے پر زور

جماعت اسلامی نے اپنے بیان میں امیرالعظیم کو سادگی، دیانت داری، فکری گہرائی اور کارکنوں سے قریبی تعلق رکھنے والا رہنما قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کی وفات جماعت کے لیے ایک بڑا نقصان ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

امیرالعظیم انتقال امیرالعظیم کی تدفین جماعت اسلامی سیکریٹری جنرل جماعت اسلامی امیرالعظیم

متعلقہ مضامین

  • جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل امیرالعظیم سپرد خاک، نصف صدی پر محیط سیاسی و تنظیمی خدمات کا باب بند
  • اسرائیل کے اعتراض کے باوجود مقبوضہ مغربی کنارہ کا علاقہ اور لبنانی قلعے عالمی ورثے قرار
  • اسلامی اقدار اور جدید دور
  • مسجد اقصیٰ کی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش مسترد، 8 اسلامی ممالک کا اسرائیل کو فوری انتباہ
  • مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش
  • نئی امریکی ویزا پالیسی پاکستانی طلبہ کے لیے مشکلات کا سبب بن سکتی ہے
  • ایران سے جنگ نے ایک اور مشکل کھڑی کر دی، امریکا کے تیل کے ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے
  • پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی
  • جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل امیرالعظیم انتقال کرگئے
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران