اسلام ٹائمز: عالمی یومِ مزاحمت ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ شہید قاسم سلیمانی جیسے قائدین کی قربانیاں رائیگاں نہیں جاتیں۔ انکی جدوجہد آنیوالی نسلوں کیلئے ایک فکری ورثہ ہے، جو انہیں ظلم کیخلاف کھڑا ہونے، مظلوموں کا ساتھ دینے اور عالمی انصاف کے قیام کیلئے جدوجہد پر آمادہ کرتا ہے۔ آخر میں یہ کہنا بجا ہے کہ شہید قاسم سلیمانی اور عالمی یومِ مزاحمت ایک دوسرے سے جدا نہیں۔ یہ دن ہمیں اس عہد کی تجدید کا موقع فراہم کرتا ہے کہ ہم دنیا کے ہر مظلوم کیساتھ کھڑے ہونگے اور ہر اُس نظام کیخلاف آواز بلند کرینگے، جو جبر، استحصال اور ناانصافی پر قائم ہو۔ تحریر: ڈاکٹر صابر ابو مریم
سیکرٹری جنرل فلسطین فائونڈیشن پاکستان
یہ مورخہ تین جنوری سنہ 2020ء کی بات ہے کہ جب امریکی حکومت نے ہمیشہ کی طرح دنیا کے خود مختار ممالک کی خود مختاری اور سالمیت کے خلاف اپنے ناپاک عزائم کو آگے بڑھایا۔ اس مرتبہ عراق کی خود مختاری پر شب خون مارا گیا اور ساتھ ساتھ ایران کے ایک فوجی جرنیل قاسم سلیمانی کو بغداد ایئرپورٹ پر اس وقت میزائلوں سے نشانہ بنایا، جب وہ سرکاری دورے پر تھے۔ ان کے ہمراہ عراق کی مزاحمتی فورسز کے کمانڈر ابو مہدی المہندس بھی شہید ہوئے۔ امریکی حکومت اور خاص طور پر اس وقت کے صدر ٹرمپ نے اس واقعہ کو ہمیشہ کی طرح امریکہ کی کامیابی قرار دینا شروع کیا، جیسا کہ امریکیوں نے ہیروشیما اور ناگا ساکی میں ایٹم بم گرانے کے بعد ہزاروں بے گناہ انسانوں کا قتل کیا تھا، اسی طرح افغانستان میں بیس سال تک معصوم انسانوں کا قتل عام کیا، پھر عراق میں یہ قتل عام جاری رہا، اس سے قبل ویتنام اور نہ جانے کتنی ہی اور ایسی داستانیں ہیں، جہاں امریکی حکومت نے ہزاروں بے گناہ انسانوں کا قتل عام کیا اور اس قتل عام کو ہمیشہ امریکہ کی کامیابی قرار دیا۔
یہ سب باتیں دلیل ہیں کہ امریکہ ہی ہے کہ جو ہمیشہ دنیا بھر میں دہشت گردی کو پروان چڑھاتا ہے اور انسانی حقوق سمیت انسانیت کی دھجیاں اڑاتا ہے۔ حال ہی میں امریکی صدر ٹرمپ نے فخریہ انداز میں اقرار کیا کہ امریکہ نے اسرائیل کو 21 ارب ڈالر کا اسلحہ دیا تھا، جو نیتن یاہو نے بہترین استعمال کیا، یعنی فلسطینیوں کی نسل کشی کی۔ اسی طرح یہی ٹرمپ ماضی میں اعتراف کرچکا ہے کہ امریکہ نے داعش کی مدد کی اور شام و عراق میں معصوم انسانوں کا قتل عام کرنے کے لئے سات ٹریلین ڈالر داعش کو دیئے۔ خلاصہ یہ ہے کہ امریکہ دہشت گردی کی جڑ ہے۔ امریکہ نے اگرچہ جنرل قاسم سلیمانی اور ان کے ساتھیوں کو قتل کر دیا، لیکن آج اس قتل کو چھ سال مکمل ہو رہے ہیں، لیکن سوال یہی اٹھ رہا ہے کہ کیا واقعی امریکہ نے اپنے متعین کردہ اہداف کو جنرل قاسم سلیمانی کے قتل سے حاصل کیا ہے؟ یا پھر ایسا تو نہیں کہ زندہ قاسم سلیمانی سے زیادہ شہید قاسم سلیمانی امریکہ اور ان کے حواریوں کے ناپاک عزائم کی تکمیل کی راہ میں آج بھی رکاوٹ ہے۔
اس بات کا واضح سا جواب تو یہی ہے کہ نظریہ کبھی نہیں مرتا، بلکہ جسم مرتے ہیں، نظریہ زندہ رہتا ہے۔ قاسم سلیمانی دیکھنے میں تو ایک انسان تھا، لیکن حقیقت میں وہ ایک نظریہ تھا۔ ایسا نظریہ جو آج بھی دنیا بھر کے جوانوں کے اذہان اور دل پر نقش ہو رہا ہے۔ آج شہید قاسم سلیمانی کی شہادت کو چھ برس کا عرصہ بیت چکا ہے، لیکن پوری دنیا میں حریت پسند 03 جنوری کے دن کو اب "عالمی یوم مزاحمت" کے عنوان سے مناتے ہیں۔ یہ دن صرف ایران اور عراق میں ہی نہیں منایا جاتا بلکہ دنیا بھر کے مسلمان و عرب ممالک سمیت فلسطین اور خاص طور پر امریکی و یورپی ممالک کے نوجوان بھی مناتے ہیں۔ یہی قاسم سلیمانی کی کامیابی ہے کہ وہ قتل ہونے کے بعد بھی دنیا بھر کے لوگوں کے دل میں زندہ ہے اور دل پر راج کرتا ہے، جبکہ امریکی صدر ٹرمپ آج بھی دنیا بھر میں منفور اور تحقیر کا سزاوار ہے۔
03 جنوری عالمی یوم مزاحمت کے عنوان سے منایا جانے والا دن دراصل دنیا بھر کی اُن اقوام اور تحریکوں کی جدوجہد کی یاد دہانی ہے، جو ظلم، استعمار اور جبر کے خلاف حق، آزادی اور خود مختاری کے لیے برسرِ پیکار ہیں۔ خاص طور پر مظلوم فلسطینی قوم۔ قاسم سلیمانی وہ واحد شخصیت ہے کہ جس نے فلسطینیوں کے ہاتھوں کو مسلح کیا۔ فلسطین کے جوانوں کو جنگی تجربات اور ٹیکنالوجی منتقل کی، تاکہ وہ اپنا دفاع کرسکیں اور آج پوری دنیا نے دیکھا کہ کس طرح فلسطینیوں نے اپنا دفاع کیا اور دنیا کی بڑی طاقتوں کو اپنے سامنے سرنگوں کیا ہے۔ یہ سب کچھ قاسم سلیمانی کے اس خلوص اور جدوجہد کا صلہ ہے، جو انہوں نے فلسطین کے لئے انجام دیا۔ اس دن کو منانے کا مقصد یہ نہیں ہے کہ صرف مزاحمت کی تاریخ کو زندہ رکھا جائے، بلکہ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ دنیا بھر میں اُن شخصیات کو بھی خراجِ عقیدت پیش کیا جائے کہ جنہوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر مظلوم اقوام کو حوصلہ اور سمت عطا کی۔
انہی عظیم شخصیات میں ایک نمایاں نام شہید قاسم سلیمانی کا ہے۔ ان کے راستے پر چلنے والے آج بھی فلسطین و قدس کی خاطر فلسطین، غزہ، لبنان، یمن، عراق و ایران اور دیگر ممالک میں قربانیاں دے رہے ہیں۔ آج کا دن ان تمام شہداء کو سلام عقیدت پیش کرنے کا دن ہے۔ عالمی یومِ مزاحمت کے تناظر میں شہید قاسم سلیمانی کی شخصیت ہمیں یہ پیغام دیتی ہے کہ مزاحمت صرف ہتھیار اٹھانے کا نام نہیں بلکہ یہ عزم، استقلال، قربانی اور حق پر ثابت قدمی کا راستہ ہے۔ انہوں نے ثابت کیا کہ اگر نیت خالص اور مقصد عادلانہ ہو تو بڑی سے بڑی طاقت بھی عوامی ارادے کو شکست نہیں دے سکتی۔ شہید قاسم سلیمانی صرف ایک عسکری کمانڈر نہیں تھے بلکہ وہ ایک فکری، نظریاتی اور عملی مزاحمت کی علامت تھے۔ انہوں نے مشرقِ وسطیٰ میں استعماری طاقتوں اور صہیونی منصوبوں کے خلاف مزاحمتی محاذ کو منظم کیا اور مظلوم اقوام خصوصاً فلسطین، لبنان، عراق اور شام کے عوام کی حمایت کو اپنی زندگی کا مقصد بنایا۔ ان کی قیادت میں مزاحمت ایک محدود جغرافیے سے نکل کر ایک علاقائی اور فکری تحریک کی شکل اختیار کر گئی۔ یہی شکل آج بھی فلسطین، لبنان، یمن، عراق اور دنیا کے دیگر ممالک میں کسی نہ کسی طرح زندہ و بیدار نظر آتی ہے۔
خلاصہ یہ ہے کہ شہید قاسم سلیمانی کی شہادت بذاتِ خود عالمی مزاحمت کی تاریخ کا ایک فیصلہ کن موڑ ہے۔ ان کی شہادت نے مزاحمتی تحریکوں کو کمزور کرنے کے بجائے مزید مضبوط کیا اور دنیا بھر میں یہ شعور اجاگر کیا کہ ظلم کے خلاف جدوجہد افراد کی موت سے ختم نہیں ہوتی بلکہ نظریات زندہ رہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی ان کا نام مزاحمت، غیرت اور استقلال کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ عالمی یومِ مزاحمت ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ شہید قاسم سلیمانی جیسے قائدین کی قربانیاں رائیگاں نہیں جاتیں۔ ان کی جدوجہد آنے والی نسلوں کے لیے ایک فکری ورثہ ہے، جو انہیں ظلم کے خلاف کھڑا ہونے، مظلوموں کا ساتھ دینے اور عالمی انصاف کے قیام کے لیے جدوجہد پر آمادہ کرتا ہے۔ آخر میں یہ کہنا بجا ہے کہ شہید قاسم سلیمانی اور عالمی یومِ مزاحمت ایک دوسرے سے جدا نہیں۔ یہ دن ہمیں اس عہد کی تجدید کا موقع فراہم کرتا ہے کہ ہم دنیا کے ہر مظلوم کے ساتھ کھڑے ہوں گے اور ہر اُس نظام کے خلاف آواز بلند کریں گے، جو جبر، استحصال اور ناانصافی پر قائم ہو۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ہے کہ شہید قاسم سلیمانی قاسم سلیمانی کی دنیا بھر میں کہ امریکہ عالمی یوم اور عالمی امریکہ نے کیا اور کرتا ہے دنیا کے قتل عام کے خلاف ا ج بھی کا قتل میں یہ
پڑھیں:
جنگ امن اور معیشت کی کہانی
پاکستان کو اگر ترقی کے تناظر میں آگے بڑھنا ہے تواسے معاشی ترقی کو بنیاد بنانا ہوگا۔سیاست بھی عام آدمی یا محروم طبقات کے مفادات یا ان کو معاشی طور پر مستحکم کرنے سے جڑی ہونی چاہیے۔یہ عمل اس وقت تک ممکن نہیں جب تک اول ہم داخلی ،علاقائی اور خارجی محاذ پر موجود تنازعات سے باہر نہیں نکلیں گے۔
دوئم ہمیں اپنے داخلی نظام میں شفافیت، جوابدہی،احتساب ،درست ترجیحات کا تعین ،وسائل کی منصفانہ تقسیم اور ادارہ جاتی عمل کو مضبوط کرنے اور ان کو آئین اور قانون کی حکمرانی کے تابع کرنے سے جوڑنا ہوگا۔امن ہماری بنیادی ضرورت ہے اور اہم بات یہ ہے کہ اس نظام میں وہ لوگ جو مختلف سیاسی ،سماجی اور معاشی یا قانونی انصاف کی محرومی کا شکار ہیں ان کونظرانداز کرکے ہم معاشی ترقی کے اہداف حاصل نہیں کرسکیں گے۔ لوگوںکے ذہن میں موجود سیاسی اور معاشی نظام نے اس کے مسائل کو اور زیادہ گھمبیر بنادیا ہے۔
علاقائی سیاست میں جو نئی تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں ہمیں اس کے لیے جہاں اپنی علاقائی سطح کی پالیسیوں پر نئی فکر اور سوچ کو اختیار کرنا ہے وہیں اسی کی بنیاد پر اپنی داخلی سیاست کے خدوخال یا دائرہ کار میں بھی بنیادی نوعیت کی تبدیلیوں کی ضرورت ہے ۔بالخصوص جب ہمیں ایک ہی وقت میں بھارت اور افغانستان سے جنگ یا کشیدگی کا سامنا ہے یا ان دونوں ممالک کی بنیاد پر پاکستان مخالف گٹھ جوڑ یا ان کی پاکستان مخالف پراکسی کی موجودگی میں ہم اپنی داخلی اور علاقائی سیاست کو کیسے مضبوط کرسکیں گے ،اہم سوال بنتا ہے ۔
کیونکہ اب جو ہم نئی تبدیلیاں علاقائی یا خلیجی ممالک کی سطح پر دیکھ رہے ہیں اور جس انداز سے یو اے ای سمیت دیگر خلیجی ممالک کی پالیسیوں میں تبدیلیاں پیدا ہورہی ہیں اس میں ہمیں بھی ایک نئے فریم ورک کی ضرورت ہے ۔اسی طرح چین،روس،امریکا کی سطح پر جو حالات بن رہے ہیں ان میں ہمارے تعلقات کی نوعیت یاسیاسی و معاشی روابط کی بنیاد کیا ہوگی ۔بنیادی سوال انسانی ترقی کا ہے ۔لیکن کیا انسانی ترقی کے اس ماڈل میں ہم صرف اسلحہ اور جنگوں پر وسائل خرچ کرکے یا اپنے دفاع کو مضبوط کرکے انسانی ترقی کو نئی جہت دے سکیں گے اس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے ۔اس میں کوئی شک نہیں کہ کسی بھی ریاست کا دفاع اس کی بنیادی ضرورت بنتا ہے اور بالخصوص موجودہ حالات میں دفاع کا مضبوط ہونا اہم ہے ۔لیکن اسی تناظر میں ایک متوازن پالیسی دفاع اور انسانی ترقی کی بنیاد پر قائم ہونی چاہیے اور یہ ہی تعلق بنیادی طور پر ریاست،حکومت اور شہریوں کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنانے اس کی ساکھ کو قائم کرنے میں مدد دے گا۔
بدقسمتی سے ہمیں علاقائی تعلقات کی بحالی میں جو تعاون بھارت اور افغانستان سے درکار ہے، اس میں کافی چیلنجز کا سامنا ہے اور ایسے لگتا ہے کہ ان دونوں ممالک کی ترجیحات میںپاکستان سے تعلقات کو بہتر بنانا ایجنڈے کا حصہ نہیں ۔اگرچہ پچھلے دنوں سے کچھ آوازیں ہمیں بھارت کی جانب سے سننے کو ملی ہیں جہاں کچھ بڑے انفرادی لوگوں نے مودی حکومت کو کہا ہے کہ وہ جنگ کے ماحول سے نکل کر پاکستان سے تعلقات کی بہتری میں بات چیت کے راستے کھولیں ۔لیکن کیا نریندر مودی کی حکومت اس معاملے میں کوئی بڑی پیش رفت دکھاتی ہے، اس پر کچھ کہنا قبل ازوقت ہوگا ۔لیکن ایک بات طے ہے کہ بھارت اور افغانستان سے پاکستان سے تعلقات کی بہتری محض ان ملکوں تک ہی محدود نہیں ہوگی بلکہ مجموعی طور پر علاقائی سیاست میں سیاسی اور معاشی استحکام دیکھنے کو ملے گا۔پا کستان،بھارت اور افغانستان کو تعلقات کی بہتری کے لیے موجودہ کشیدہ حالات کے خاتمہ میں غیر معمولی اقدامات اور اپنے قد سے اوپر اٹھ کر کچھ ایسا کرکے دکھانا ہوگا جو ان ممالک کو ایک دوسرے کے قریب لاسکے ۔لیکن یہ عمل کسی سیاسی تنہائی میں نہیں ہوگا اس میں بڑی طاقتوں جن میں امریکا،چین اور روس کو ایک موثر سطح کا کردار ثالثی کا ادا کرنا ہوگا ۔
کیونکہ پاکستان ،بھارت اور افغانستان کے درمیان جو بھی تعلقات کی بہتری کا فریم ورک بنے گا وہ ان بڑے ممالک کی حمایت اور نگرانی کے ممکن نہیں ہے۔بالخصوص دہشت گردی جو پاکستان، بھارت اور افغانستان کا مشترکہ مسئلہ ہے اس کے لیے عملی طور پر ان ممالک کے درمیان اس سے نمٹنے کے لیے مشترکہ میکنزئم درکار ہے اور یہ عمل عالمی حمایت کے بغیر ممکن نہیں ۔کیونکہ محض الزام تراشی کی بنیاد پر مسائل کا علاج تلاش نہیں کیا جاسکے گا اور نہ ہی ان مسائل کا حل مزید جنگ یا تنازعات کو آگے بڑھانے سے ممکن ہوسکے گا لیکن کیا ہم اپنی اس حکمت عملی نظرثانی کے لیے تیار ہیں اس کا جواب بھی تلاش کرنا ہوگا۔یہ بات طے ہے کہ پاکستان سمیت کوئی بھی ملک اسٹیٹس کو کی بنیاد پر علاقائی تعلقات کی بہتری میں کوئی بڑی مثبت تبدیلیاں پیدا نہیں کرسکے گا اور نہ ہی معاملات بہتری کی طرف جاسکیں گے۔
لیکن سوال یہ ہی بنتا ہے کہ بلی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے گا اور کون معاملات کی درستگی کو ممکن بنانے میں پہل کرے گا یا ایسا کیا قدم اٹھائے گا جوعملا دوسروں کو ترغیب دے کہ وہ بھی امن کا راستہ بات چیت کی مدد سے طے کرے ۔مگر یہ جو اعتماد سازی یا بداعتمادی کا بحران ہے اس نے مجموعی طور پر علاقائی سیاست کو ایک بڑے بحران کی طرف دکھیل دیا ہے اور ایسے لگتا ہے کہ ہم اپنی حقیقی منزل سے کافی دور ہیں۔ان دوریوں کو ختم کرنا علاقائی سیاست اور ان میںشامل ممالک کی مشترکہ حکمت عملی کا حصہ ہونا چاہیے۔
جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے تو ایک طرف اسے علاقائی سیاست کا چیلنج ہے تو دوسری طرف حالات کی بہتری کے لیے اسے اپنے داخلی سطح کے معاملات کو درست کرنے پر بھی توجہ دینی ہوگی کیونکہ یہ ممکن نہیں کہ ہم اپنے داخلی معاملات کو درست کیے بغیر علاقائی سیاست میں بہت کچھ حاصل کرسکیں گے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ موجودہ ایک برس میں ہم نے عالمی اور علاقائی سفارت کاری کی سطح پر اپنی صلاحیتوں کو خوب منوایا ہے اور اس کی ہر سطح پر پزیرائی بھی کی جارہی ہے۔لیکن اس کے باوجود ہم اپنے داخلی معاملات کی درستگی میں کچھ کمزوریوں کے پہلو ہم کو دیکھنے کو ملتے ہیں۔ہم جہاںعالمی ثالثی میں اپنا کردار ادار کررہے ہیں وہیںہماری داخلی سیاست کی تقسیم کے تناظر میں جو سیاسی کشیدگی اور سیاسی دشمنی یا سیاسی ڈیڈ لاک اسے بھی ختم کرنا ریاست اور حکمرانوں کی ذمے داری کے زمرے میں آتا ہے ۔یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ ہماری سیاسی تقسیم نے ہمیں مجموعی طور پر نہ صرف تقسیم کردیا ہے بلکہ اس کے نتیجے میں کشیدگی بھی بڑھ رہی ہے ۔اسی طرح قومی سیکیورٹی یا دہشت گردی سے جڑے مسائل بھی اہم ہیں اور موجودہ دہشت گردی کے داخلی واقعات نے ہمارے لیے سنجیدہ سوالات اٹھائے ہیں ۔
بلوچستان اور خیبر پختونخواہ میں مسلسل دہشت گردی جاری رہنا یا وہاں تسلسل کے ساتھ دہشت گردی کے واقعات کا ہونا، ہماری داخلی کمزوریوں کی نشاندہی کرتا ہے ۔گورننس سے جڑے معاملا ت کا حل تلاش نہ کرنا بھی ہماری مسلسل ناکامی کی نشاندہی کرتا ہے ۔18ویں ترمیم کے باوجود وفاق اور صوبوں کے درمیان گورننس سے مسائل کا حل تلاش نہ کرنا اور اس کا عام فرد پر براہ راست اثر انداز ہونالوگوں میںنظام کے بارے میں ایک بڑے ردعمل کی سیاست پیدا کررہا ہے۔یہ جو ہمارے ملک میں سرمائے کی کمی یا سرمایہ کاری کے نہ ہونے کا داخلی اور خارجی بحران ہے اس کی چند بڑی وجوہات میں ایک وجہ گورننس یا ادارہ جاتی نظام کی ناکامی سے جڑا ہوا بھی پہلو ہے۔
اگر ہم نے داخلی معاملات کو درست نہ کرنے کی سیاسی روش کو برقرار رکھا اور پرانے خیالات کے ساتھ ہی نظام کو چلانا ہے تو یہ نظام جدید تقاضوں کے مطابق نہیں چل سکے گا۔اہم نقطہ یہ ہے کہ پاکستان کے پالیسی سازوں کی عملا ترجیحات میں ہمیں مسلسل کمزوری کے پہلو دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ان امور کی نشاندہی مسلسل عالمی مالیاتی ادارے اور تھنک ٹینک بھی پیش کررہے ہیں کہ ہم اپنی داخلی درستگی کے لیے وہ کچھ نہیں کررہے جو ہمیں کرنا چاہیے۔سوال یہ ہی ہے کہ کیا ہم اپنی ترجیحات کو تبدیل کرسکیں گے یا ان تبدیلیوں کے تناظر میں ملک کی سطح پر کوئی بڑے دباؤ کی سیاست کو پیدا کیا جاسکے گا۔کیونکہ بدقسمتی سے جہاں حکمرانی کا نظام کمزور ہوا ہے وہیں دباو ڈالنے والی سیاست اور اس سے جڑے فریق بھی کمزور ہوئے ہیں،یہ بڑا المیہ بھی ہے۔