Daily Mumtaz:
2026-07-24@13:26:35 GMT

اسٹیبلشمنٹ کیساتھ بات چیت کیلئے تیار ہوں، سہیل آفریدی

اشاعت کی تاریخ: 2nd, January 2026 GMT

اسٹیبلشمنٹ کیساتھ بات چیت کیلئے تیار ہوں، سہیل آفریدی

پشاور:(نیوزڈیسک)وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان نے اسٹیبلشمنٹ سے بات چیت کے حوالے سے مجھے نہیں کہا ہے تاہم صوبائی معاملات پر اسٹیبلشمنٹ سے بات چیت اور تعلقات بہتر کرنے کے لیے تیار ہوں۔

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے پشاور میں سینئر صحافیوں کے ساتھ فرداً، فرداً ملاقات کی اور غیررسمی گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ اسٹیبلشمنٹ سے بات چیت کے حوالے سے بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے مجھے نہیں کہا، بات چیت کا ٹاسک محمود اچکزئی اور علامہ ناصر عباس کے حوالے کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ صوبائی معاملات پر بات چیت اور تعلقات بہتر کرنے کے لیے تیار ہوں۔

ان کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی سے میری ملاقات نہیں کرائی جا رہی ہے، ملک میں آئین و قانون کی بالادستی ہونی چاہیے اور ڈرون حملے بند ہونے چاہئیں۔

سہیل آفریدی نے بتایا کہ حکومت اسٹیبلشمنٹ سمیت تمام اسٹیک ہولڈرز کو ایسی پالیسی بنانی چاہیے جو عوامی مفادات کے مطابق ہو۔

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے کہا کہ کوئی تقریب یا میٹنگ ہوئی تو فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ضرور ملوں گا۔

انہوں نے کہا کہ پشاور کو ترقی دیں گے تاہم لاہور جیسی نہیں جہاں جلسہ جلوس کرنے پر پابندی ہے، وفاق نے ضم اضلاع کے لیے اے آئی پی کے تحت 700 ارب روپے بقایاجات ابھی تک ادا نہیں کیے۔

ان کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت نے اے آئی پی کے تحت برسوں میں صرف 168 ارب روپے دیے ہیں، بجلی کے خالص منافع سمیت دیگر بقایاجات کی مد میں وفاقی حکومت نے ہمارے 4 ہزار ارب روپے سے زیادہ دینے ہیں۔

وزیراعلی نے کہا کہ بانی چیئرمین پی ٹی آئی کی رہائی کے لیے بات چیت کے حالات اور ماحول سازگار ہونا چاہیے، پی ٹی آئی کی قیادت کو بھی مضبوط سانس کے ساتھ میدان میں اترنا ہوگا، بانی پی ٹی آئی کی بہنوں کا باہر نکلنا جائز ہے، وہ اپنے بھائی کی رہائی کے لیے کوشاں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ لاہور کا دورہ عوام میں بیداری کی لہر پیدا کرنے کے لیے کیا، کراچی جانے کا بھی مقصد یہی ہے کہ عوام بانی پی ٹی آئی کی رہائی کے لیے متحرک ہوں، بانی پی ٹی آئی صرف خیبرپختونخوا نہیں بلکہ پورے ملک کے لیڈر ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ کرپشن کے حوالے سے میری حکومت کی زیروٹالرنس پالیسی ہے، میری حکومت کے اصول شفافیت، میرٹ، ترقی اور کرپشن کا خاتمہ ہیں، ضم اضلاع کے لیے 1000 ارب میں سے اب بھی 700ارب سے زائد مرکز کے ذمہ بقایا ہیں۔

سہیل آفریدی نے کہا کہ مرکز سے ملنے والا پیسہ ترتیب سے ضم اضلاع میں خرچ کیا جائے گا، ترقی کا عمل شروع ہونے سے ضم اضلاع میں عسکریت پسندی کا خاتمہ ہوجائے گا، امن وامان کی صورت حال میری حکومت کے لیے اصل چینلج ہے جس پر قابو پانے کے لیے کوشاں ہیں۔

صوبائی حکومت کی ترجیحات سے آگاہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ خود بھی کام کرتا ہوں اور اپنی ٹیم سے بھی کام درکار ہے، ہم نے عوام کو تبدیلی برپا کرکے دکھانی ہے۔

تیراہ سمیت جہاں سے نقل مکانی ہوگی معاوضہ صوبائی حکومت ادا کرے گی، وزیراعلیٰ

انہوں نے بتایا کہ تیراہ سمیت جہاں سے بھی لوگ نقل مکانی کرتے ہیں، معاوضوں کی ادائیگی صوبائی حکومت ہی کرے گی تاہم آج بھی بانی پی ٹی آئی کی پالیسی پر کھڑے اور آپریشنز کے مخالف ہیں، ہم نے صوبائی اسمبلی میں گرینڈ جرگہ بھی اسی مقصد کے لیے بلایا جس نے آپریشنز کی مخالفت کی۔

صحافیوں کو مخاطب کرکے انہوں نے کہا کہ صحافی سنی سنائی بات رپورٹ کرنے سے پہلے رابطہ کرلیا کریں، پھر پروپیگنڈہ کیا جاتا ہے کہ خیبرپختونخوا میں اسکولوں اور اسپتالوں میں سہولیات نہیں، وفاق اگر ہمارے بقایاجات دے تو صورت حال بہتر ہو جائے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ مخالفین ضم اضلاع کے 75 سال کی محرومیاں بھی ہمارے کھاتے میں ڈالتے ہیں، اپنے صوبے میں بجلی کے مسئلے کے مستقل حل کی کوشش کر رہے ہیں، ٹرانسمیشن لائن اور پیسکو کے ذمہ واجب الادا رقوم کا بھی جائزہ لے رہے ہیں اور اس بات کا بھی جائزہ لے رہے ہیں کہ وفاق کے ذمے بجلی کے خالص منافع کے مسئلے کا حل کیسے نکالا جائے۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ یہ بھی ممکن ہے کہ ہم پیسکو کو ہی صوبائی حکومت کے زیرانتظام لانے کے لیے کوئی قدم اٹھالیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے کہا کہ سہیل ا فریدی نے بانی پی ٹی ا ئی صوبائی حکومت پی ٹی ا ئی کی کے حوالے ضم اضلاع بات چیت کے لیے

پڑھیں:

پیٹرول مہنگا، کیا دفتروں کے لیے ہفتہ دوبارہ 3 یا 4 روز پر مشتمل ہوسکتا ہے؟

پیٹرول کی قیمتوں میں ہر روز اضافہ ہوتا جا رہا ہے اور قیمت 327 روپے فی لیٹر سے تجاوز کر گئی ہے۔

اس اضافے کے بعد سرکاری و نجی شعبے کے ملازمین کی جانب سے حکومت سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ ایندھن کی بڑھتی لاگت کو مدنظر رکھتے ہوئے ہفتے میں دفتری حاضری کم کی جائے اور 2 روز گھر سے کام یعنی ورک فرام ہوم کی اجازت دی جائے۔

تاہم، اس وقت وفاقی حکومت کی جانب سے ہفتے میں صرف 3 دفتری دن یا 2 دن لازمی ورک فرام ہوم کرنے کی کوئی سرکاری تجویز یا منظوری سامنے نہیں آئی۔

یہ بھی پڑھیں:

البتہ حکومت ماضی کی طرح توانائی کی بچت اور کفایت شعاری کے مختلف اقدامات پر غور کر رہی ہے، لیکن موجودہ سرکاری معلومات کے مطابق 3 روزہ آفس ورک کے کسی فیصلے کے زیر غور ہونے کی تصدیق نہیں ہوئی۔

وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے وی نیوز کو بتایا کہ حکومت نے ماضی میں ایندھن بچانے کے لیے محدود مدت کے لیے دفتری اوقات اور ورکنگ ڈیز میں تبدیلیاں کی تھیں۔

’فی الحال حکومت نے دوبارہ ہفتے میں 3 یا 4  ورکنگ ڈیز نافذ کرنے کا کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا ہے، نہ ہی ایسی کوئی تجویز زیر غور ہے۔‘

مزید پڑھیں:

گریڈ 18 کے سرکاری افسر محمد جہانزیب بٹ سمجھتے ہیں کہ اگر ہفتے میں 3 دن دفتر اور 2 دن گھر سے کام کرنے کی اجازت دی جائے تو ان کے پیٹرول کی مد میں اخراجات میں نمایاں کمی آئے گی۔

’میرا زیادہ تر کام لیپ ٹاپ، آن لائن رابطے اور ٹیلی فون کے ذریعے مؤثر انداز میں انجام دیا جا سکتا ہے، جس سے کارکردگی بھی متاثر نہیں ہوگی۔‘

انہوں نے کہا کہ پیٹرول کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کے باعث میرے ماہانہ سفری اخراجات بہت بڑھ گئے ہیں، جبکہ آمدنی میں کوئی اضافہ نہیں ہوا، جس سے گھریلو بجٹ سنبھالنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔

مزید پڑھیں:

’اگر ہفتے میں 2  دن گھر سے کام کرنے کی اجازت مل جائے تو نہ صرف میرے سفری اخراجات کم ہوں گے بلکہ میں اپنی ذمہ داریاں بھی مؤثر انداز میں، بغیر کسی رکاوٹ کے، انجام دیتا رہوں گا۔‘

ٹیلی کام سیکٹر سے منسلک شہزاد خان نے وی نیوز کو بتایا کہ اب دنیا میں بیشتر نوکریاں ایسی ہیں جو لیپ ٹاپ اور انٹرنیٹ کی مدد سے باآسانی کی جا سکتی ہیں۔

گزشتہ 3 ماہ سے ہماری کمپنی نے جمعہ کے روز ورک فرام ہوم کی اجازت دے رکھی ہے لیکن کسی کے کام کا حرج نہیں ہوا۔

’مہنگائی کے اس دور اور پیٹرول کی بڑھتی قیمتوں کے باعث اگر ملازمین کو ہفتے میں 2 دن گھر سے کام کرنے کی اجازت دے دی جائے تو اس سے لوگوں کو بہت سہولت ہوگی۔‘

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

آمدنی انٹرنیٹ ایندھن پیٹرول کمپنی گھریلو بجٹ لیپ ٹاپ ملازمین مہنگائی نوکریاں ورک فرام ہوم ورکنگ ڈیز

متعلقہ مضامین

  • پی ڈی ایم اے کا دورہ : انتظامیہ ہنگامی حالات سے نمٹنے کیلئے پوری طرح تیار ہے، خواجہ سلمان رفیق
  • آبنائے ہرمز اور باب المندب کا متبادل تیار کرنے میں دہائیاں لگیں گی، عرب ماہر
  • وفاقی آئینی عدالت، سہیل آفریدی کیخلاف درخواستیں سماعت کیلئے مقرر
  • پیٹرول مہنگا، کیا دفتروں کے لیے ہفتہ دوبارہ 3 یا 4 روز پر مشتمل ہوسکتا ہے؟
  • سندھ حکومت پولیس فورس کو جدید خطوط پر استوار کرنے کیلئے پرعزم ہے، وزیراعلیٰ سندھ
  • حکومت کا چینی شہریوں کیلئے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
  • حکومت کاچینی شہریوں کیلئے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
  • پنجاب میں پہلی مرتبہ سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ کا آغاز
  • 24 جولائی کیلئے بھی ڈیزل اور پیٹرول کی قیمت میں اضافہ کردیا گیا
  • سرکاری دفاتر میں حاضری اور وقت کی پابندی سے متعلق نئی ہدایات جاری