سولر انرجی منصوبے میں اربوں روپے کی کرپشن کا انکشاف تشویشناک ہے
اشاعت کی تاریخ: 3rd, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (اسٹاف رپورٹر) مجلس وحدت مسلمین سندھ کے رہنما علامہ حیات عباس نجفی کا کہنا تھا کہ سندھ سولر انرجی منصوبے میں اربوں روپے کی کرپشن اور بے ضابطگیوں کا انکشاف انتہائی تشویشناک اور قابلِ مذمت ہے۔ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اقتصادی امور اگرسندھ بھر میں جاری ترقیاتی منصوبوں کا جائزہ لے تو مزید حقائق سامنے آجائیں گے۔ حکومتِ سندھ محض نمائشی منصوبوں اور افتتاحی تقاریب پر اکتفا کر رہی ہے۔ پورے صوبے میں حکمران جماعت کی بے دریغ لوٹ مار جاری ہے۔ شہر بھر میں ٹوٹی سڑکوں‘ ناقص پانی و سیوریج نظام، غیر محفوظ بس اسٹاپس اور غیر یقینی ٹرانسپورٹ کا نظام ہے۔ ڈبل ڈیکر بسوں کے روٹ سے متعلق ابہام خود حکومتی نااہلی کا ثبوت ہے۔ چند ڈبل ڈیکر بسیں چلا کر ٹرانسپورٹ کے سنگین بحران کو حل نہیں کیا جا سکتا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود
فائل فوٹوسندھ کی تمام جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدی ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ صوبائی جیلوں میں 14 ہزار قیدیوں کی گنجائش ہے لیکن 27 ہزار قیدی موجود ہیں۔
دستاویز کے مطابق کراچی کی سینٹرل جیل میں بھی قیدیوں کی تعداد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جہاں گنجائش 2400 قیدیوں کی ہے مگر 8 ہزار قیدی رہ رہے ہیں۔
اسی طرح ملیر جیل کی گنجائش 2200 قیدیوں کی ہے لیکن وہاں ساڑھے 5 ہزار قیدی موجود ہیں۔
جیو نیوز کو حاصل دستاویز کے مطابق صوبہ سندھ میں 23 جیلیں ہیں، جو نہ صرف بھری ہوئی ہیں بلکہ اب اوور پاپولیٹڈ ہوگئی ہیں۔
حیدرآباد سینٹرل جیل میں قیدیوں کی گنجائش ڈیڑھ ہزار کی ہے، جہاں 3 ہزار افراد قید کاٹ رہے ہیں۔
لاڑکانہ سینٹرل جیل ساڑھے 6 سو افراد کے لیے بنائی گئی لیکن یہاں 1 ہزار افراد قید ہیں، ٹھٹھہ کی جیل ڈھائی سو افراد کے لیے ڈیزائن کی گئی لیکن قیدی ساڑھے 9 سو ہیں۔
صوبے میں خواتین کی 3 جیلیں کراچی، حیدرآباد اور سکھر میں قائم ہیں، جہاں موجود خواتین قیدیوں کی تعداد 438 تک پہنچ چکی ہے جبکہ ان میں سے صرف 68 خواتین سزا یافتہ ہیں۔
صوبے بھر کی جیلوں میں 27 ہزار قیدیوں میں سب سے زیادہ 22 ہزار 600 ایسے قیدی ہیں، جن کے کیسز عدالتوں میں زیر سماعت ہیں جبکہ سزا یافتہ قیدیوں کی تعداد محض ساڑھے 3 ہزار ہے۔
جیلوں میں سزائے موت کے 459 افراد بھی اپنی زندگی کے دن گن رہے ہیں۔