دھرندھر فلم میں گبول خاندان یا نبیل گبول کو نہیں بلکہ الطاف حسین کو دکھایا گیا، ترجمان سندھ حکومت
اشاعت کی تاریخ: 2nd, January 2026 GMT
سندھ حکومت کے ترجمان اور معروف سیاست دان کے صاحبزادے سردار نادر گبول نے کہا ہے کہ لوگ سمجھ رہے ہیں دھرندھر فلم میں جو سیاست دان دکھایا گیا وہ میرے والد نہیں بلکہ الطاف حسین ہیں۔
ایکسپریس نیوز کے پروگرام پاور کاسٹ میں بیورو چیف فیصل حسین کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے دھرندھر فلم میں میرے خاندان کا نہیں بلکہ جمالی خاندان کا ذکر ہے اور میں اُس خاندان کے رکن قومی اسمبلی جمالی سے کہوں گا کہ بھارت کے خلاف مقدمہ کریں۔
ترجمان سندھ نے دعویٰ کیا کہ بلاول کے بیان اور بے نقاب کرنے کے بعد مودی کا متھا گھوما اور پھر اُس نے فلمساز کو بلاکر دھرندھر فلم بنانے کو کہا، اس کے ذریعے بھارت نے بلاول سے بدلہ لینے کی کوشش کی۔
نادر گبول نے کہا کہ دھرندھر فلم میں جس شخص کو دکھایا گیا بھارتی سمجھ رہے ہیں کہ وہ الطاف حسین ہیں، جن کا چشمہ اور انداز بھی ملتا جلتا ہے۔
ترجمان سندھ حکومت نے کہا کہ میرے والد آدھے سے زیادہ کراچی کے مالک ہیں جس کا سرکاری ثبوت بھی موجود ہے۔
انہوں نے کہا کہ میرے دادا اور پردادا کے چرچے 100 سالوں سے ہیں، کراچی میں جس وقت گنتی کے خاندان تھے اُس وقت سے اُن کا نام اور بڑا مقام ہے، انہوں نے اس شہر کیلیے اپنا کردار ادا کیا، سول اسپتال، سرکاری عمارات اور کراچی کے بڑے اسپتالوں میں میرے دادا اور پردادا کے نام درج ہیں کیونکہ انہوں نے حصہ لیا اور کچھ کی مکمل تعمیرات بھی کروائیں۔
مزید پڑھیںدھرندھر فلم کیخلاف مقدمہ اندراج کی درخواست صرف توجہ حاصل کرنے کیلیے تھی، عدالت
افتخار احمد کا دھرندھر گانے پر رقص، ’چاچا ڈکیت‘ کا لقب مل گیا
نئے سال دھرندھر کا سنسرشدہ ورژن دیکھنے کو ملے گا؛ حیران کن تبدیلی
نادر گبول نے کہا کہ میرے پر دادا دو بار کراچی شہر کے میئر بھی رہ چکے ہیں جبکہ جس وقت ایوب خان صدر تھے اُس وقت میرے دادا اُن کے ایڈوائزر بھی تھے، ایوب خان نے دادا سے درخواست کی اور کہا تھا کہ آپ کراچی کا بڑا نام ہے اور اُس وقت شہر دارالحکومت تھا۔
ترجمان سندھ حکومت نے کہا کہ ایئرپورٹ کی زمین میری فیملی کی تھی اور میرے دادا نے حکومت سے معاہدہ بھی کیا تھا، جس کے بعد ابتدا میں کچھ رقم حکومت کی طرف سے ملی بھی تھی اور ہم اب بھی بقیہ رقم کے حصول کیلیے کوشش کررہے ہیں۔
نادر گبول نے کہا کہ قائد اعظم کے مزار اطراف کا پورا علاقہ، خداداد کالونی وہ میرے دادا کے دادا کے نام پر ہے، کورنگی میں ساڑھے 300 ایکڑ زمین میرے پردادا کی ہے، جس پر اللہ بخش گبول گوٹھ قائم ہے جہاں گبول قوم کے لوگ آج بھی رہتے ہیں اور کاشتکاری بھی کرتے ہیں۔
ترجمان سندھ حکومت نے دعویٰ کیا کہ گزری، لی مارکیٹ کے اطراف، گڈاپ جبکہ سپرہائی وے پر قائم ایک نجی ہاؤسنگ اسکیم پوری کی پوری ہمارے قبیلے کی زمین پر تعمیر کی گئی ہے، جس کے کچھ پیسے ادا کیے گئے ہیں۔
نادر گبول نے کہا کہ 1926 کا میرے پاس سرکاری فرمان موجود ہے، جس میں کورٹ کے کیس کا حوالہ لکھا گیا اور درج تھا کہ خداداد گبول پر مزید اراضی یا زمین خریدنے کی جوپابندی ہے اُسے ختم کیا جاتا ہے، اُس فرمان پر ڈیوڈ نامی کلیکٹر کے دستخط بھی موجود ہیں۔
انہوں نے کہا کہ 70 فیصد کراچی کی ملکیت کا صرف دعویٰ نہیں بلکہ ہمارے پاس دستاویزات بھی موجود ہیں، اُس وقت کراچی میں گزری، صدر، لیاری، کیماڑی کے علاقے ہوتے تھے اور اُس کی 70 فیصد زمین ہماری تھی۔
انہوں نے کہا کہ امریکا سے واپس اس لیے آیا کہ لیاری میں مرنا اور میوہ شاہ قبرستان میں دفن ہونا ہے، مستقبل میں ہم لیاری کی خدمت کیلیے کوشاں ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: نادر گبول نے کہا کہ ترجمان سندھ حکومت دھرندھر فلم میں نہیں بلکہ انہوں نے دادا کے
پڑھیں:
دعا ہے فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں، بلاول بھٹو زرداری
گلگت:پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ دعا ہے کہ فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں، امن کی کوششوں کا کامیاب ہونا ضروری ہے۔
گلگت بلتستان میں انتخابی جلسے سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ ایران میں اسکول پر میزائل مار کر بچوں کو شہید کیا گیا اس جنگ میں ایران کے ساتھ ساتھ دنیا بھر کے عوام جنگ کا بوجھ اٹھا رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ملک بھر میں کوئی سیاست دان نہیں جس نے میری طرح ملک بھر کے دورے کیے ہوں، میں گلگت بلتستان کی ہر تحصیل میں پہنچا ہوں، گزشتہ الیکشن میں خوشی کا ماحول تھا اس الیکشن میں سوگ کا ماحول ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ بی آئی ایس پی ملک کا واحد پروگرام ہے جو ہر غریب کے گھر تک پہنچتا ہے، اس پروگرام کے خلاف سیاسی جماعتوں کی سازشیں ناکام ہوں گی۔
بلاول کا کہنا تھا کہ مشرف دور میں دیگر ممالک کےلیے فوجی بیسز بنے ہمارے دور میں نہیں، پاکستان کو ایٹم بم ذوالفقار علی بھٹو اور میزائل پروگرام بے نظیر نے دیا، ہم چاہتے ہیں پاکستان دفاعی و معاشی لحاظ سے مضبوط ہو، یہ کیسی معاشی پالیسی ہے کہ امیر، امیرتر ہوجائے اور غریب غریب تر ہوجائے، یہ تمام کام صرف ایک جماعت کراسکتی ہے اور وہ پیپلز پارٹی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ آپ نے ہر چیز کو اسلام آباد سے چلانا چاہا ہے، آپ پہلے گلگت بلتستان کو اس کا حق ملکیت دلادیں، یہ ماننا پڑے گا کہ کسی بھی پروجیکٹ میں مقامی لوگوں کو ملکیت دینی ہوگی جس طرح سندھ میں ہے جہاں تھر سے کوئلہ نکلا وہاں کے مقامی لوگوں کو بجلی دی گئی انہیں پروجیکٹس میں نوکریاں دی گئیں، انہیں شیئر کی بھی آفر کی گئی مگر انہوں ںے پیسہ لیا شیئر نہیں، تھرکول سے فائدہ سندھ کو نہیں پورے پاکستان کو ہورہا ہے مگر سب سے پہلے فائدہ مقامی لوگوں کو ہوا یہی پیپلز پارٹی چاہتی ہے۔
بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ میں صوبوں سے نہیں عالمی دنیا سے مقابلہ کرتا ہوں، سندھ میں جو ہاؤسنگ کا منصوبہ ہے یہ دنیا کا سب سے بڑا زلزلہ ہے، قبل ازیں یہ نیپال میں ریکارڈ تھا جہاں زلزلے کے بعد گھر بنے اور اب یہ ریکارڈ سندھ کے پاس ہے جہاں سیلاب کے بعد بیس لاکھ پکے گھر بنائے جارہے ہیں جو سیلاب آنے کے باوجود تباہ نہیں ہوں گے، یہ مکانات خواتین کے نام پر ہوں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ مجھے امید ہے کہ سات جون کو انتخابات میں یہاں کے عوام تیر کے نشان پر مہر لگائیں کہ تاکہ میں یہاں کے مقامیوں کو ان کا حق ملکیت دوں اور گلگت بلتستان میں اسپتالوں کا جال بچھادوں جہاں مفت علاج ہوسکے۔