2026 ورلڈ کپ سے پہلے ہی سعودی عرب فٹ بال کی دنیا کی سپر پاور بن گیا
اشاعت کی تاریخ: 3rd, January 2026 GMT
فیفا کے صدر جیانی انفانٹینو نے 21 دسمبر کو سعودی عرب کے فٹبال مستقبل پر بھرپور اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب عالمی فٹبال کا ایک بڑا مرکز بن چکا ہے اور سعودی پرو لیگ دنیا کی ٹاپ 3 لیگز میں شامل ہونے کی راہ پر گامزن ہے۔
کرسٹیانو رونالڈو، کریم بینزیما جیسے عالمی سپر اسٹارز کی موجودگی اور فٹبال کے دیوانے شائقین کے باعث یہ تعریف کسی حد تک متوقع بھی تھی۔
2034 ورلڈ کپ: انفراسٹرکچر اور اصلاحات پر اعتمادانفانٹینو نے 2034 کے فیفا ورلڈ کپ کے کامیاب انعقاد کی بھی پیش گوئی کی، جس کی میزبانی سعودی عرب کرے گا۔ اس مقصد کے لیے اسٹیڈیمز کی تعمیر و توسیع، ایکسپو 2030 کے منصوبے، اور فٹبال اصلاحات تیزی سے جاری ہیں۔
فیفا صدر نے سعودی فٹبال میں مردوں کے ساتھ ساتھ خواتین اور یوتھ فٹبال میں ہونے والی ترقی کو بھی سراہا۔
عرب کپ میں ناکامی، سوالیہ نشان برقراراگرچہ یہ تصویر خاصی روشن دکھائی دیتی ہے، مگر اس کے برعکس سعودی قومی ٹیم کو 2025 کے عرب کپ کے سیمی فائنل میں اردن کے ہاتھوں 1-0 کی شکست نے شائقین کو مایوس کیا۔
اس ناکامی کے بعد نئے سال میں ٹیم کی صلاحیتوں پر شکوک و شبہات برقرار ہیں۔
رینارڈ کی واپسی، مگر اعتماد بحال نہ ہو سکاہروے رینارڈ کی بطور کوچ واپسی، رابرٹو مانچینی کے ناکام دور کے بعد، سعودی عرب کو مسلسل دوسری مرتبہ ورلڈ کپ کے لیے کوالیفائی تو کرا گئی، مگر عرب کپ میں ناکامی اور غیر متاثر کن کارکردگی نے ان پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
اگرچہ سعودی فٹبال فیڈریشن نے ان کی برطرفی کی افواہوں کی تردید کی، مگر یہ نتائج کسی مضبوط تائید کے مترادف نہیں۔
2026 کے فیفا ورلڈ کپ میں سعودی عرب گروپ H میں یوراگوئے، یورپی چیمپئن اسپین اور کیپ وردے کا سامنا کرے گا۔ یہ میچز میامی، اٹلانٹا اور ہیوسٹن میں کھیلے جائیں گے۔
شائقین 2022 میں ارجنٹینا کے خلاف تاریخی فتح کی یاد دہرانا چاہتے ہیں، مگر اس بار حریف مکمل تیاری کے ساتھ میدان میں اتریں گے۔
ماہرین کے مطابق سب سے بڑا مسئلہ اب بھی فائنل تھرڈ میں گول کرنے کی صلاحیت کا فقدان ہے۔ مڈفیلڈ میں سلمان الفرج کا متبادل نہ ملنا بھی ایک بڑا خلا ہے۔
آسٹریلوی صحافی پال ولیمز کے مطابق، 2022 کے بعد توقعات کا بوجھ ٹیم پر بہت زیادہ بڑھ چکا ہے، اور کھلاڑی ابھی تک اس دباؤ میں خود کو ثابت نہیں کر سکے۔
سالم الدوسری: امید کی واحد کرن34 سالہ سالم الدوسری اب بھی سعودی ٹیم کا سب سے بڑا سہارا ہیں۔ انہیں 2025 میں اے ایف سی پلیئر آف دی ایئر کا اعزاز ملا، جو وہ دوسری مرتبہ جیتنے والے واحد سعودی کھلاڑی ہیں۔
کلب سطح پر انہوں نے شاندار کارکردگی دکھائی، اگرچہ الہلال لیگ ٹائٹل نہ جیت سکا۔
کرسٹیانو رونالڈو کی قیادت میں النصر اس سیزن میں ناقابلِ شکست نظر آ رہا ہے، اور تمام 9 میچز جیت کر ٹیبل پر سرفہرست ہے۔
الہلال، الاتحاد اور الاہلی بھی ایشیائی سطح پر سعودی لیگ کی بالادستی ثابت کر رہے ہیں، جبکہ غیر ملکی سرمایہ کاری، جیسے الخلود کی مکمل امریکی ملکیت، لیگ کے نئے دروازے کھول رہی ہے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ سعودی پرو لیگ اس وقت ایشیا کی سب سے طاقتور اور دلچسپ لیگ بن چکی ہے، مگر قومی ٹیم کی حیثیت اب بھی غیر یقینی ہے۔
2026 ورلڈ کپ تک یہ سوال برقرار رہے گا کہ کیا قومی ٹیم بھی لیگ کی طرح عالمی معیار پر پورا اتر سکے گی یا نہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
سعودی عرب فٹ بال فیفا ورلڈ کپ 2026 کھیل.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: فٹ بال فیفا ورلڈ کپ 2026 کھیل قومی ٹیم ورلڈ کپ
پڑھیں:
حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
وفاقی وزیر اوورسیز پاکستانیز چوہدری سالک حسین نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج کا دن پاکستان میں لیبر مائیگریشن کے نظم و نسق کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم سنگ میل ہے۔ یہ پالیسی ہر اس پاکستانی سے کیے گئے قومی عزم کی عکاس ہے جو بہتر مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ محفوظ اور منظم نقل مکانی، مہارتوں کی ترقی، کارکنوں کا تحفظ، تارکینِ وطن کی شمولیت اور وطن واپس آنے والوں کی بحالی اس پالیسی کے بنیادی ستون ہیں۔ تکنیکی جدت، آبادیاتی تبدیلیاں اور لیبر مارکیٹ کے بدلتے ہوئے تقاضے دنیا بھر کی معیشتوں کو نئی شکل دے رہے ہیں. اس لیے پاکستان کو اپنی افرادی قوت کو آج اور مستقبل دونوں کے مواقع کے لیے تیار کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 اس سمت میں ایک اہم قدم اور پاکستان کی افرادی قوت کو مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں سنگ میل ثابت ہوگی۔چوہدری سالک حسین نے کہا کہ ایک کروڑ 20 لاکھ پاکستانی دنیا بھر میں مقیم ہیں اور اپنی پیشہ ورانہ مہارت، دیانت داری اور محنت کی بدولت پاکستان کے سفیر بن چکے ہیں۔ گزشتہ مالی سال میں سمندر پار پاکستانیوں نے 41 ارب امریکی ڈالر سے زائد کی ترسیلاتِ زر وطن بھیجیں، جو ملکی تاریخ کی بلند ترین رقم ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی کامیابی پاکستان کی کامیابی ہے اور ان کی فلاح و بہبود ہماری قومی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ پالیسی اداروں، تجربات اور شراکت داریوں کو ایک مشترکہ وژن کے تحت یکجا کرتی ہے تاکہ ہر پاکستانی کارکن نقل مکانی کے پورے سفر کے دوران بہتر طور پر تیار، محفوظ اور معاونت یافتہ ہو۔ اس پالیسی کا محور ہر اس پاکستانی کا سفر ہے جو مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے، جبکہ ذمہ داری روانگی سے پہلے ہی شروع ہو جاتی ہے، جہاں نوجوان کارکنوں کو متعلقہ مہارتیں، قابلِ اعتماد معلومات اور اخلاقی بھرتی تک رسائی فراہم کی جائے گی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ اس پالیسی کی کامیابی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، نفاذ کرنے والے اداروں، آجروں، تربیتی اداروں، ترقیاتی شراکت داروں، نجی شعبے اور سمندر پار پاکستانیوں کے باہمی تعاون سے مشروط ہے۔ انہوں نے صوبائی حکومتوں، آئی سی ایم پی ڈی (ICMPD)، دیگر ترقیاتی شراکت داروں اور تمام اسٹیک ہولڈرز کا مشاورتی عمل میں تعاون پر شکریہ ادا کیا، جبکہ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کی مسلسل معاونت کو بھی سراہا۔انہوں نے کہا کہ ہجرت یا نقل مکانی غیر یقینی کا سفر نہیں بلکہ مواقع، وقار اور قومی ترقی کا راستہ ہونا چاہیے۔ آئیں مل کر ایسا مستقبل بنائیں جہاں ہر پاکستانی اعتماد کے ساتھ بیرون ملک جائے، فخر کے ساتھ وطن واپس آئے اور ہمیشہ ایک ایسی قوم سے جڑا رہے جو اس کی خدمات کی قدر اور عزت کرتی ہو۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اس وژن کو عوام کے لیے بامعنی ترقی، پاکستان کے لیے دیرپا خوشحالی اور ہر سمندر پار پاکستانی اور اس کے خاندان کے روشن مستقبل کا ذریعہ بنائے۔