اڈیالہ جیل میں قید انجینئر محمد علی مرزا کے مطابق عمران خان سخت ذہنی دباؤ میں ہیں
اشاعت کی تاریخ: 3rd, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
مذہبی اسکالر انجینئر محمد علی مرزا نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان جیل میں شدید فرسٹریشن کا شکار ہیں، تاہم دو سال سے قید کاٹنے والے شخص کے لیے ایسا ہونا غیر معمولی بات نہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ طویل قید ذہنی دباؤ کو بڑھا دیتی ہے، جس کے اثرات فطری طور پر سامنے آتے ہیں۔
جیو نیوز کے پروگرام ’’آج شاہ زیب خانزادہ کے ساتھ‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے انجینئر محمد علی مرزا نے اڈیالہ جیل کے اندر کی صورتحال پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے بتایا کہ عمران خان کو جیل میں محل جیسی سہولیات حاصل نہیں، تاہم انہیں بیرونی دنیا کی خبروں تک رسائی حاصل ہے اور انہیں دو اخبارات فراہم کیے جاتے ہیں۔
انجینئر محمد علی مرزا کے مطابق عمران خان کے کمرے میں ایل ای ڈی بھی لگی ہوئی ہے جبکہ رہائش کے لیے انہیں چھ چکیاں الاٹ کی گئی تھیں۔ ان میں سے پانچ عمران خان کے استعمال میں تھیں جبکہ چھٹی چکی میں ان کا مشقتی رہتا تھا۔ عمران خان روزانہ دو مرتبہ اپنی چکی سے باہر آتے تھے۔
انہوں نے بتایا کہ عمران خان صبح 9 بجے ناشتے اور دوپہر 3 بجے کھانے کے لیے باہر آتے تھے۔ مشقتی کھانا تیار کرتا تھا اور دیسی گھی کے تڑکے کی خوشبو دیگر قیدیوں تک بھی پہنچتی تھی، جو جیل کے ماحول میں نمایاں محسوس ہوتی تھی۔
انجینئر محمد علی مرزا کا کہنا تھا کہ عمران خان جب غصے میں آتے تو بہت بلند آواز میں مسلسل گفتگو کرتے تھے۔ ان کے مطابق جیل کا ماحول اور مسلسل قید کسی بھی شخص کے مزاج اور رویے پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: انجینئر محمد علی مرزا
پڑھیں:
حیسکو میں گھوسٹ، ریٹائرڈ ملازمین کی تنخواہ کے نام پر 1 ارب 6 کروڑ روپے کی خرد برد کا انکشاف
فائل فوٹوپبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں گھوسٹ، ریٹائرڈ ملازمین کی تنخواہ کے نام پر 1 ارب 6 کروڑ روپے کی خرد برد کا انکشاف ہوا ہے۔
آڈٹ رپورٹ کے مطابق حیسکو کے ڈی ڈی او، ایکسیئن اور سی ایف او آفس کی ملی بھگت سے خرد برد کی گئی۔
سی ای او حیسکو کے مطابق اس کیس میں چار ملازمین کو برطرف کیا جا چکا ہے۔ تین اکاؤنٹس افسران، ایک فنانس افسر کو نوکری سے نکالا گیا۔
ایف آئی اے حکام کا کہنا ہے کہ اس کیس کے 5 مقدمات درج کیے گئے، 130 سے زائد افراد ملوث تھے، اب تک صرف 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔