یو اے ای نے یمن سے فوجی دستے واپس بلا لیے، دفاعی معاہدہ ختم ہونے کے بعد خطے میں نئی کشیدگی
اشاعت کی تاریخ: 3rd, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
متحدہ عرب امارات نے یمن سے اپنے فوجی دستے واپس بلا لیے ہیں۔
اماراتی وزارت دفاع کے مطابق دہشت گردوں کے خلاف آپریشن مکمل ہونے کے بعد شراکت داروں کے ساتھ ہم آہنگی کے تحت فوجی مشن اختتام پذیر ہوا اور تمام فوجی اہلکاروں کو محفوظ طریقے سے واپس لایا گیا۔ وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ یو اے ای کی اپنی صوابدید پر کیا گیا۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب چند روز قبل یمن کی صدارتی کونسل نے یو اے ای کے ساتھ دفاعی معاہدہ ختم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے اماراتی فوجیوں کو ملک چھوڑنے کا حکم دیا تھا۔ یمنی فیصلے کے بعد سعودی عرب نے بھی یو اے ای سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ 24 گھنٹوں کے اندر اپنی فوج واپس بلائے اور کسی بھی فریق کو عسکری یا مالی معاونت فوری طور پر بند کرے۔
دوسری جانب متحدہ عرب امارات نے یمن سے متعلق سعودی بیان پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے اپنے خلاف لگائے گئے تمام الزامات کو مسترد کر دیا تھا۔ ادھر جنوبی یمن کے علیحدگی پسند گروپ سدرن ٹرانزیشنل کونسل نے جنوبی ریاست کے قیام کے لیے دو سالہ منصوبے کا اعلان کر دیا ہے اور متنازعہ جنوبی یمن کے لیے نیا آئین اپنانے کے ارادے کا بھی اظہار کیا ہے۔ گروپ کا کہنا ہے کہ یہ علیحدگی نہیں بلکہ مکمل خودمختاری کی جانب ایک قدم ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: یو اے ای
پڑھیں:
ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایران کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ ایران پر حملوں کے لیے برطانوی فوجی اڈوں کا استعمال بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ایسے اقدامات ایران کے خلاف براہِ راست جارحیت میں شرکت تصور کیے جا سکتے ہیں، جس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ ایرانی وزارت خارجہ نے واضح کیا کہ ایران اپنی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ وزارت خارجہ نے خبردار کیا کہ جو بھی ملک ایران پر حملوں میں مدد فراہم کرے گا، اسے اپنے اقدامات کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔