کراچی، مین ہول سے ملنے والی لاشوں پر تشدد کے واضح شواہد، پوسٹ مارٹم مکمل
اشاعت کی تاریخ: 3rd, January 2026 GMT
کراچی کے علاقے مائی کولاچی روڈ کے قریب ایک مین ہول سے برآمد ہونے والی 4 لاشوں نے شہر میں خوف و ہراس پھیلا دیا ہے۔ سول اسپتال میں ابتدائی پوسٹ مارٹم مکمل ہونے کے بعد سامنے آنے والی تفصیلات نے واقعے کو مزید سنگین بنا دیا ہے، جب کہ پولیس واقعے کو مختلف پہلوؤں سے دیکھتے ہوئے تحقیقات کو آگے بڑھا رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:کراچی: مائی کلاچی کے قریب مین ہول سے 4 لاشیں برآمد، تحقیقات جاری
پولیس سرجن کے مطابق مائی کولاچی روڈ پھاٹک کے قریب مین ہول سے ملنے والی چاروں لاشیں کئی روز پرانی ہیں اور ان پر تشدد کے واضح نشانات پائے گئے ہیں۔ ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق ایک لڑکے کی عمر تقریباً 13 سے 14 سال ہے، جس کے سر، چہرے اور گردن پر تشدد کے نشانات موجود ہیں۔ دوسرے لڑکے کی عمر تقریباً 10 سال بتائی گئی ہے، جس کی لاش گلا کٹی ہوئی حالت میں ملی۔
اسی طرح ایک لڑکی، جس کی عمر 14 سے 15 سال کے درمیان ہے، کے سر، چہرے اور گردن پر بھی تشدد کے آثار پائے گئے ہیں، جب کہ چوتھی لاش تقریباً 40 سالہ خاتون کی ہے، جس کے سر پر شدید تشدد کے نشانات موجود ہیں۔ پولیس کے مطابق کیمیائی تجزیے کے لیے لاشوں سے نمونے حاصل کر لیے گئے ہیں تاکہ موت کی اصل وجوہات کا تعین کیا جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں:کراچی میں ماں نے اپنے 2 بچوں کو قتل کردیا، وجہ کیا بنی؟
یاد رہے کہ اس سے قبل پولیس حکام نے بتایا تھا کہ کراچی کے علاقے مائی کولاچی کے قریب ایک مین ہول سے 4 افراد کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں۔ ڈی آئی جی ساؤتھ اسد رضا کے مطابق ابتدائی طور پر لاشوں میں 2 مرد اور 2 خواتین شامل بتائی گئیں، جن کے بارے میں اندازہ تھا کہ وہ 10 سے 15 روز پرانی ہیں۔ پولیس کے مطابق لاشیں کافی حد تک مسخ ہو چکی تھیں، جس سے شبہ ظاہر کیا گیا کہ یہ 15 سے 20 روز پرانی بھی ہو سکتی ہیں۔
واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس کی نفری موقع پر پہنچی، علاقے کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے گئے اور لاشوں کو قانونی کارروائی کے لیے اسپتال منتقل کر دیا گیا۔ کیماڑی پولیس کے مطابق واقعے کے مختلف پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں، جبکہ قریبی علاقوں میں نصب سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیجز بھی حاصل کی جا رہی ہیں۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ پوسٹ مارٹم اور کیمیائی تجزیے کی حتمی رپورٹس موصول ہونے کے بعد واقعے سے متعلق مزید حقائق سامنے آئیں گے، جس کے بعد ذمہ داروں کے تعین اور گرفتاری کے لیے کارروائی کی جائے گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پوسٹ مارٹم کراچی قتل گٹر میں لاشیں مائی کولاچی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پوسٹ مارٹم کراچی قتل گٹر میں لاشیں مائی کولاچی پوسٹ مارٹم مین ہول سے کے مطابق کے قریب تشدد کے کے لیے
پڑھیں:
سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔
عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔
Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy
— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 202659 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔
اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔
سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔