گروک اے آئی، ایم آر آئی کی تشخیص میں ڈاکٹروں سے بہتر ہے: ایلون مسک کا دعویٰ
اشاعت کی تاریخ: 3rd, January 2026 GMT
دنیا کی امیر ترین شخصیت ایلون مسک نے دعویٰ کیا کہ ایکس کا چیٹ بوٹ گروک اے آئی طبی تصاویر، خصوصاً ایکس رے اور ایم آر آئی کی تشخیص میں ڈاکٹروں سے بہتر نتائج دے سکتا ہے۔
مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ ایکس پر وائرل ہونے والی ایلون مسک کی یہ ویڈیو پرانی ہے جو سوشل میڈیا پر ایک بار پھر وائرل ہو رہی ہے، یہ ویڈیو پہلی بار جون 2025ء میں سامنے آئی تھی۔
حال ہی میں یہ ویڈیو اس وقت دوبارہ توجہ کا مرکز بنی جب مسک نے ایک پوسٹ ری ٹوئٹ کی جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ گروک اے آئی نے ایک شخص کی جان بچانے میں مدد کی۔
ELON MUSK: "I think A.
— DogeDesigner (@cb_doge) June 7, 2025
بین الاقوامی میڈیا کی ایک رپورٹ کے مطابق 2025ء کے آخر میں ناروے کے 49 سالہ شخص کو شدید پیٹ درد کے باعث ایمرجنسی میں تیزابیت (ایسڈ ریفلکس) کی غلط تشخیص کی گئی تھی۔
درد برقرار رہنے پر اس شخص نے گروک اے آئی سے مشورہ کیا جس نے اپینڈکس یا السر کے سنگین مسئلے کا خدشہ ظاہر کرتے ہوئے فوری سی ٹی اسکین کروانے کا مشورہ دیا۔
دوبارہ اسپتال جانے اور ٹیسٹ کروانے پر معلوم ہوا کہ اس شخص کا اپینڈکس شدید سوجن کے سبب پھٹنے کے قریب تھا۔ فوری سرجری کے بعد مریض مکمل صحت یاب ہو گیا۔
Grok ❤️ https://t.co/ihtAPao22f
— Elon Musk (@elonmusk) January 1, 2026
ایلون مسک کے اس دعوے کے بعد سوشل میڈیا پر نئی بحث چھڑ گئی ہے۔
کچھ صارفین نے اے آئی کی جواب دینے کی تیز رفتار اور درستگی کی تعریف کی ہے جبکہ دیگر نے غلط تشخیص کے خدشات کا اظہار کیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: گروک اے آئی ایلون مسک
پڑھیں:
میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
سائبر سیکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت یا اے آئی پر مبنی چیٹ بوٹس کے خلاف ایک نئے قسم کے سائبر حملے سامنے آئے ہیں جن کے ذریعے ہیکرز سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور ذاتی معلومات تک غیر مجاز رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: دنیا بھر کی اہم شخصیات کے انسٹاگرام اکاؤنٹس ہیک ہونے کا انکشاف، میٹا نے سب بتادیا
ماہرین کے مطابق جدید بڑی زبان کے ماڈلز(ایل ایل ایمز) جن میں میٹا اے آئی سمیت دیگر اے آئی چیٹ بوٹس شامل ہیں کو ایک تکنیک پرومپٹ انجیکشن‘ کے ذریعے دھوکا دیا جا سکتا ہے۔ اس طریقے میں حملہ آور چیٹ بوٹس کے حفاظتی نظام کو بائی پاس کرتے ہوئے انہیں ایسے احکامات پر عمل کرنے پر آمادہ کرتے ہیں جو عام حالات میں ممکن نہیں ہوتے۔
سائبر سیکیورٹی ماہر بروس شنائر کے مطابق ہیکرز اس مقصد کے لیے ’پرولیج ایسکلیشن‘ نامی حکمت عملی استعمال کرتے ہیں جس کے تحت اے آئی ماڈل کو ایسی فرضی شخصیت اختیار کرنے پر قائل کیا جاتا ہے جو حفاظتی قواعد کو نظر انداز کر دے یوں چیٹ بوٹ کی محدود صلاحیتیں وسیع ہو جاتی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق حملہ آور یہ خفیہ ہدایات بظاہر بے ضرر مواد، جیسے ای میلز، ویب سائٹس یا آن لائن پیغامات میں شامل کرتے ہیں۔ اگر چیٹ بوٹ ان ہدایات کو قبول کر لے تو ہیکرز کو صارف کے منسلک اکاؤنٹس اور ڈیجیٹل سروسز تک رسائی حاصل ہو سکتی ہے۔
مزید پڑھیے: اوپن اے آئی نے ’سورا‘ ایپ لانچنگ کے چند ماہ بعد ہی اچانک کیوں بند کردی؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک بار چیٹ بوٹ کے متاثر ہونے کے بعد اسے ذاتی معلومات چرانے، حساس ڈیٹا باہر منتقل کرنے یا صارف کے اکاؤنٹس تک غیر مجاز رسائی حاصل کرنے جیسے اقدامات کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
سائبر سیکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ خطرہ اس وقت مزید بڑھ جاتا ہے جب صارفین اے آئی ٹولز کو اپنی ای میل، کیلنڈر یا دیگر ذاتی سروسز تک رسائی دے دیتے ہیں کیونکہ اس سے حملہ آوروں کے لیے نقصان دہ سرگرمیوں کے نئے راستے کھل سکتے ہیں۔
مزید پڑھیں: ’کوئی پڑھے نہ پڑھے اے آئی تو پڑھے گی‘: قدیم زمانوں کے محبت نامے، خفیہ تحریریں آشکار
ماہرین کے مطابق ہیکرز کا حتمی مقصد مالی فراڈ، شناختی معلومات کی چوری اور دیگر نقصان دہ سرگرمیوں کو انجام دینا ہوتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ رجحان ظاہر کرتا ہے کہ مستقبل میں مصنوعی ذہانت کی اپنی استدلالی صلاحیتیں بھی صارفین کے خلاف استعمال کی جا سکتی ہیں جس سے روایتی سائبر سیکیورٹی اقدامات کو مؤثر بنانا مزید مشکل ہو جائے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اے آئی مصنوعی ذہانت ہیکنگ