Daily Mumtaz:
2026-07-24@01:30:46 GMT

میں نے کبھی کوئی کاسمیٹک سرجری نہیں کروائی: آمنہ شیخ

اشاعت کی تاریخ: 3rd, January 2026 GMT

میں نے کبھی کوئی کاسمیٹک سرجری نہیں کروائی: آمنہ شیخ

پاکستانی شوبز انڈسٹری کی معروف ماڈل و اداکارہ، آمنہ شیخ، نے حال ہی میں ہمارے معاشرے میں خوبصورتی کے معیار، کاسمیٹک پروسیجرز، اور خود اعتمادی کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔
آمنہ شیخ ایک ویب شو میں مہمان کے طور پر شریک ہوئیں، جہاں انہوں نے اپنے ماتھے پر نظر آنے والی نمایاں لائنز کے بارے میں بات کی۔ اداکارہ نے وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ “میں نے کبھی بھی اپنے ماتھے کی لائنز ختم کرنے کے لیے کاسمیٹک پروسیجرز کا انتخاب نہیں کیا۔” ان کا کہنا تھا کہ “میرے ماتھے پر یہ لائنز صرف تب واضح ہوتی ہیں جب میں اپنے جذبات کا اظہار کرتی ہوں۔”
آمنہ نے مزید بتایا کہ “میرے ماتھے کا خط اس قدر نمایاں ہے کہ جب میں جذبات کا اظہار کرتی ہوں تو یہ لائنز اور بھی واضح ہو جاتی ہیں، لیکن جب میں چہرے پر کوئی تاثرات نہیں دیتی تو یہ خود بخود غائب ہو جاتی ہیں۔” انہوں نے ایک دلچسپ واقعہ بھی سنایا کہ کچھ عرصہ قبل انہوں نے سوشل میڈیا پر اپنی تصاویر شیئر کیں، تو ایک مداح نے پوچھا کہ “آپ کے ماتھے کی لائنز کہاں چلی گئیں؟” تو آمنہ نے اسے یہی وضاحت دی۔
آمنہ شیخ نے کاسمیٹک پروسیجرز کے حوالے سے مزید کہا کہ انہیں یہ غیر فطری محسوس ہوتے ہیں اور ان کا خیال ہے کہ یہ رجحان ایک دن ختم ہو جائے گا۔ “میرے خیال میں انفرادیت اور شخصیت کی تشکیل میں خامیاں ضروری ہیں، اور انہیں چھپانے کے بجائے اپنانا چاہیے۔”
آمنہ شیخ کا یہ پیغام خود اعتمادی اور قدرتی خوبصورتی کے حوالے سے ایک مضبوط اور حوصلہ افزا پیغام ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

پڑھیں:

سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں  میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔

نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔

خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔

کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔

ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔

سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔

ابراہام معاہدے کیا ہیں؟

ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔

ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔

 

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
  • کیا فواد خان نے بھی سرجری کروالی؟ نئی تصاویر پر سوشل میڈیا پر بحث
  • ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا اپنے عہدے سے مستعفی
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف